Daily Mashriq

پاک سعودی تعلقات اور وقت کا تقاضا

پاک سعودی تعلقات اور وقت کا تقاضا

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورہ کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو کس قد راہمیت دیتا ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر خارجہ خواجہ آصف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔ خطے اور خطے سے باہر امن' سلامتی اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مذاکرات اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیاگیا۔دورے کے دوران وزیر اعظم کو رواں سال عازمین حج کے لیے کیے گئے انتظامات کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جس طرح کی سہولیات سعودی حکومت نے حجاج کرام کو فراہم کی ہیں اور ہر آنیوالے سال ان سہولیات میں اضافہ ہو رہا ہے یہ سعادت صرف سعودی عرب کی حکومت کو حاصل ہے ،سعودی حکومت کی جگہ کوئی اور ہوتا تو لاکھوں کے مجمع کو سنبھالنا شاید مشکل ہوتا،سعودی حکومت نے حجاج کرام کی سہولت کے لئے حج کس قدر آسان بنا دیا ہے اس کا صحیح معنوں میں اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان خود حج پر جاتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ عالم اسلام میں پاکستان جس طرح ایک بڑی طاقت ہے اس طرح سعودی عرب حرمین شریفین کی وجہ سے بہت زیادہ قابلِ احترام ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات بڑے مضبوط ، گہرے اور تاریخی حیثیت کے حامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پاک سعودی دفاعی معاہدے بھی باہمی تعاون کے متقاضی ہیں، سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں کھڑے ہو کر پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو استحکام بخشا۔1965ء کی جنگ میں شاہ فیصل کا پاکستان کی مدد کرنا ' شاہ خالد کا پاکستان کے لیے F-16کی خریداری میں تعاون کرنا، شاہ فہد کا 1998ء میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد 5سال مفت تیل فراہم کرنا ' شاہ عبداللہ کا 2005ء کے زلزلے اور 2010ء کے سیلاب کے وقت سب سے بڑھ کر پاکستان کی مدد کرنا برادرانہ تعلقات کا ہی ثمر ہے۔پاک سعودی تعلقات آج کی بات نہیں بلکہ سعودی شاہی خاندان نے قیام پاکستان کے اعلان سے قبل ہی پاکستان کو دلوں میں بسا لیا تھا۔ 1946ء میں قائد اعظم کی جانب سے اقوام متحدہ بھیجے جانے والے تحریک پاکستان کے وفد کی حمایت اور دلجوئی بھی شہزادہ فیصل نے کی تھی جب انڈین نیشنل کانگریس کا وفد اقوام متحدہ میں برصغیر کے مسلمانوں کے وفد کی راہ میں رکاوٹ بن چکا تھا۔ شہزادہ فیصل نے آل انڈیا مسلم لیگ کے وفد کو ہوٹل میں ظہرانے پر مدعو کیا جہاں وہ قیام پذیر تھے اور بعد ازاں اقوام متحدہ میں پاکستان کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والے اس وفد کو اقوام متحدہ میں متعارف کرایا جہاں انہوں نے پاکستان کے حصول کے لیے کی جانے والی کاوشوں سے متعلق اقوام متحدہ کو آگاہ کیا اور انڈین نیشنل کانگریس کا وفد منہ دیکھتا رہ گیا۔ پاک فوج اور سعودی عرب کی افواج کے درمیان تعاون کا سلسلہ بھی بہت دراز ہے۔ سعودی فوج کی تربیت میں بھی پاک فوج نے اہم کردار اد ا کیا ہے۔ 1990کی خلیج جنگ کے دوران پاکستانی دستے سعودی عرب میں تعینات تھے ، جہاں وہ محاذ جنگ تک رسد اور حرمین شریفین کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سعودی بادشاہ شاہ فیصل نے صدر ایوب کو ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔شاہ فیصل مرحوم کی پاکستان کے ساتھ محبت کا یہ عالم تھا کہ 65ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران اپنے اہل خانہ کے ہمراہ خانہ کعبہ میں پہنچ گئے اور نوافل ادا کرنے کے بعد پاکستان کی فتح کے لیے گریہ و زاری کرتے رہے۔ اور اپنے اہل خانہ کو بھی بار بار دعا کی تلقین کرتے رہے۔دونوں ممالک کے درمیان پائیدار تعلقات اور محبت کی وجہ ہے کہ اسلامی اتحادی افواج کے سربراہ کے لیے سعودی عرب کی قیادت نے سابق پاکستانی جرنیل کا انتخاب کیا۔ سعودی عرب کی خواہش پر جنرل (ر) راحیل شریف دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحادی افواج کے سربراہ بنے ہیں۔ یقینا ایسا دونوں ممالک کی قیادت کا آپس میں مضبوط رشتہ اور دیرینہ تعلق کی بنیاد پر ہوا ہے۔ آج تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرا رہی ہے اور دونوں ممالک پر خطرات کے بادل منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت ایک بار پھر مل بیٹھے اور حالات کا جائزہ لے کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو دہشت گردی کے خطرات سے بچایا جا سکے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے نومنتخب سفیر نواف سعید المالکی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے ۔اس لئے کہ وہ ایسی شخصیت کے طور پرجانے جاتے ہیں کہ جو پاکستان اور اس کے حالات کو اچھی طرح سمجھتے ہیںکیونکہ ایڈمرل نواف سعید المالکی قبل ازیں پاکستان میں ملٹری اتاشی کے طور پر گرانقدر خدمات انجام دے چکے ہیں،اس تناظر میں دیکھا جائے تو سعودی حکومت کی جانب سے نواف سعیدالمالکی کی پاکستان میں تعیناتی کا انتہائی احسن فیصلہ کیا گیاہے جس کے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں دیکھے جا سکیں گے۔

متعلقہ خبریں