Daily Mashriq

سکون کی تلاش میں

سکون کی تلاش میں

شیخ صاحب کو اللہ بخشے اب سکون کی تلاش میں افق کے اس پار پہنچ چکے ہیں ، ہمیں اندیشہ ہے وہ اب بھی غالب کا یہ نسخہ نہ گنگنا رہے ہوں گے کہ 

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائینگے

وہ شہر کے ایک ایسے محلے میں رہتے تھے جہاں انہیں ہر طرح کی سہولتیں حاصل تھیں قریب ہی گلی سے نکلے تو مین بازار تھا ۔ گلی ہی کی دکانوں میں ضرورت کی ہر چیز گوشت ، سبزی دستیاب تھی ، ہسپتال چند گز کے فاصلے پرتھا بلکہ ساتھ مردہ خانہ بھی، قرب وجوار میں چھوٹے بڑے سکول بھی موجود تھے ۔ وہ بہ آسانی اپنی گاڑی گلی میں سے گزار سکتے تھے ایک صبح کرنا خدا کا کیا ہوا ،کہ وہ اپنے دروازے پر کھڑے گوالے سے دودھ خرید رہے تھے ایک بچے کی اُن کے لٹکتے ازار بند پر نظر پڑگئی ہمارے پشتون معاشرے میں یہ بڑی معیوب بات سمجھی جاتی ہے ، بندہ بشر ہے بھول چوک ہو جاتی ہے اور یہ کوئی ایسی بڑی غلطی بھی نہیں کہ اس پر کسی کا مذاق اڑایا جا ئے ، بچے نے نعرہ بلند کیا ہلہ دشیخ کاکا پرتوغاخ زانگی ۔ دروغ برگردن حکیم نثار ، اسی بات پر شیخ صاحب نے محلہ چھوڑ نے کا فیصلہ کر لیا پہلے تو وہ یہ کہتے رہے کہ اس محلہ کے لوگ خاندانی منصوبہ بندی کے اصولوں پر عمل نہیں کرتے بچوں میں بے تحاشا اضافہ ہی نہیں کرتے ، اُنہیں کوئی تمیز بھی نہیں سکھاتے دن رات گلی میں گلی ڈنڈا کھیلتے رہتے ہیں ،اب یہاں سکون نام کی چیز ختم ہوگئی ہے ، چنانچہ اُنہوں نے سکون کی تلاش میں شہر سے باہر جانے کا فیصلہ کیا، کاروباری شخص تھے ، مال بہت کمار کھا تھا ایک سنسان اور غیر آباد علاقے میں سڑک کے کنارے دو تین کنال کا پلاٹ خریدا اور اس پر ایک عالیشان وسیع و عریض بنگلہ تعمیر کر کے وہاں شفٹ ہوگئے ، ابھی کچھ سال ہی سکون کے بسر کئے ہونگے کہ شہر کے درمیان ، واقع بسوں کا اڈا اُن کے پر سکون بنگلے جس کانام انہوں نے قصر سکون رکھا تھا بغل میں اُٹھ آیا ، سنسان سڑک پر گاڑیوں کی ریل پیل ہوگئی ۔ شیخ صاحب کے قصرسکون کے ارد گرد پلازے تعمیر ہونے لگے وہ کچھ عرصہ تو برداشت کرتے رہے لیکن جب ایک روز صبح سویرے ایک شخص نے اُن کے گیٹ کی گھنٹی بجا کر اُن سے پوچھا ، دبام خیلو بس دکوم زائے نہ روانیگی ، یعنی بام خیل کی گاڑی کہاں سے جاتی ہے ۔ اور ایک دن کسی شخص نے اُن کو گیٹ پر بلا کر اپنی بیمار بوڑھی ماں کو گھر میں بٹھانے کا کہا کہ بس کے روانہ ہونے میں ابھی دیر تھی ۔ تو ان مسلسل حادثات سے وہ بہت پریشان ہوئے جب خدمت خلق اُن کی برداشت سے باہر ہوگئی تو وسیع و عریض بنگلے کو ڈھا کر وہاں ایک بڑی مارکیٹ بنادی اور خود ایک بار پھر اپنے پرانے محلے کے مکان میں چلے آئے ۔

اب وہ وہاں کسی کے مذاق کا برا نہیں مانتے تھے پھر بھی بے سکون رہتے ، آخر ایک دن سکون کی تلاش میں افق کے اس پار چلے گئے ہماری اوراُن کی کہانی میں صرف یہی ایک مماثلت پائی جاتی ہے کہ ہم بھی یہی کچھ 25سال پہلے سکون کی تلاش میں شہر کی جدید بستی میں گھر تعمیر کر کے رہنے لگے ، ہماری نقل مکانی کی وجہ ہمارا ازار بند ہر گز نہ تھا ، جس کا کسی بچے نے مذاق اڑایا ہو ، ہماری شفٹنگ کی کچھ دوسری وجوہات بھی تھیں یوں سمجھئے کہ ہماری تخلیقی سرگرمیوں کے لئے قدرے زیادہ پرسکون ماحول درکار تھا جس کا میں نے نئی بستی میںکچھ عرصہ تک کافی لطف اٹھایا ، ہمیں بھی بڑی سڑک کے کنارے گھر ملا ، جہاں جنگل کی سی خاموشی طاری رہتی سڑک پر سے گھنٹو ں بعد ایک آدھ گاڑی گزر نے کی آواز سنائی دیتی ۔ دور کسی گلی میں کوئی دروازہ کٹکٹھاتا تا تو گھر سے ہم نکل آتے ، آبادی میں آہستہ آہستہ اضافہ ہونے لگا ۔ صرف ٹریفک ہی نہیں بڑھی ، بستی کے منچلوں نے سڑکو ں پر ون ویلنگ کے کرتب دکھانے شروع کئے لوگ ڈرائیونگ سیکھنے کے لیئے وہاں آنے لگے سڑکوں پر بغیر سائلنسر کے موٹر سائیکل دوڑنے لگے کوئی بھی پوچھنے والا نہیں اب یہ حال ہے ہم اپنے گھر کے کسی گوشے میں رضائی اوڑھے پڑے ہوں تو لگتا ہے گاڑیاں ہمارے سینے پر سے گزر رہی ہیں۔ مکانوں میں سکول اور بارگین سنٹر کھل گئے ،گلی کوچوں میں غلاظتوں کے انبار لگ گئے ، پینے کا پانی آلودہ ہوگیا جس کا ہم سے بل بھی پورا لیا جاتا ہے سیورج کا نظام نابودہو چکا ہے ، خالی پلاٹ جو ہڑ بن چکے ہیں ابلتے گٹروں کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ مسجدیں ویران ہونے لگی ہیں کیونکہ غلاظتوں کے ڈھیر اور گلیوں میں گٹر ز کے غلیظ پانی میں سے گزرتے وقت لوگوں کو اپنے لباس کو گندگی سے بچانا ممکن نہیں رہا ۔ اشتہاروں کے ذریعے ڈینگی وائرس سے بچائو کی تدبیریں تو بتائی جاتی ہیں مگر بارش کے پانی کی نکاسی کا کوئی بندوبست نہیں کیا جاتا۔ یہ پانی ڈینگی مچھر کے لئے نرسریاں بن چکی ہیں شیخ صاحب تو خوش قسمت تھے اُن کے زمانے میں ڈینگی وائرس کا چرچا نہیں تھا ، اس کے تعارف سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے ، ہم تو اس خونخوار نسل کے مچھروں کے رحم وکرم پر ہیں ۔ جائیں تو جائیں کہاں۔ خدا ہماری حالت پر رحم فرمائے ،سکون کی تلاش بہت مہنگی پڑ گئی ہے ۔

متعلقہ خبریں