Daily Mashriq

ڈینگی مچھر اور حفاظتی تدابیر

ڈینگی مچھر اور حفاظتی تدابیر

ڈینگی بخار کے مریضوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے تقریبا تین سو مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ، لیڈی ریڈنگ ، خیبر ٹیچنگ اور نصیراللہ بابر ہسپتال میں ڈینگی سے متاثر مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے سب سے زیادہ مریض تہکال اور ورسک روڈ کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اب یہ سلسلہ آہستہ آہستہ دوسرے علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے پشتہ خرہ میں بھی چند مریض ڈینگی بخار سے متاثر ہوئے ہیںیہ اللہ پاک کا شکر ہے کہ ڈینگی کے خلاف جنگ شروع ہوچکی ہے اور امید ہے کہ اس پر بہت جلد قابو پالیا جائے گا اس وبائی بیماری کومکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مختلف محاذ وں پر لڑنا پڑتا ہے ایک تو اس کے خلاف آگاہی مہم کا چلایا جانا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ لوگ ڈینگی مچھر کے حملہ آور ہونے سے پہلے اس کا قلع قمع کرسکیں اس حوالے سے یہ خبر خوش آئند ہے کہ محکمہ خزانہ نے ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے محکمہ صحت کو 2کروڑ روپے جاری جبکہ ڈینگی سے بچائو اور حفاظتی اقدامات سے متعلق آگاہی مہم چلانے کے لیے محکمہ اطلاعات کو 5کروڑ روپے جاری کردیئے ہیںعوام کو اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ ڈینگی مچھر ہے کیا بلا اور اس کے کاٹے سے مریض کی کیا حالت ہوتی ہے سب سے پہلے تو یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ ڈینگی بخار ہے کیا بلا؟دراصل یہ ایک وائرل بیماری ہے وائرل بیماری اس بیماری کو کہتے ہیں جو کسی وائرس سے لگتی ہے اور وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں باآسانی منتقل ہوجاتا ہے ڈینگی بخار کا وائرس مادہ ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں پیدا ہوجاتاہے ڈینگی بخار کی شروع کی علامتوں کا جاننا بھی بہت ضروری ہے شروع میں مریض کو شدید بخار کی شکایت لاحق ہوجاتی ہے اور ساتھ ہی جسم میں پانی کی شدید کمی پیدا ہوجاتی ہے اگر مریض کو بروقت افاقہ نہ ہو تو یہ کمی مسلسل بڑھتی چلی جاتی ہے جب بیماری میں شدت پیدا ہوتی ہے تو مریض کو ناک سے خون آنا شروع ہوجاتا ہے اگر بخار کی شدت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے تو ساتھ ہی مسلسل کھانسی بھی شروع ہوجاتی ہے انسانی جسم میں پرورش پانے والا یہ وائرس انتہائی خطرناک ہوتا ہے ڈینگی مادہ مچھر کے کاٹنے کے اوقات صبح 8بجے سے شام 5بجے تک ہیںیہ بھی ذہن میں رہے کہ اس مرض کی کوئی ویکسین نہیں ہے مادہ مچھر کے کاٹنے سے وجود میں آنے والا مرض یا ڈینگی انفیکشن انتہائی پیچیدہ بیماری ہے اس بیماری کے علاج کے لیے جس میں مختلف اعضاء کی پیچیدگیاں شامل ہوں یہ بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ جلد از جلد اس کی تشخیص ہو سکے تاکہ علاج درست خطوط پر شروع کیا جاسکے ڈینگی وائرس کے انفیکشن کے بعد تین قسم کی پیچیدگیاں یا مسائل انسانی جسم میں پیدا ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں بروقت کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے ایک تو جسم میں پانی کی شدید کمی،دوسرا جسمانی اعضاء کادرست فعل سرانجام نہ دینا ۔اب آپ خود سوچئیے اگر جسمانی اعضاء اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کر رہے تو اس سے اور خطرناک بات کیا ہوسکتی ہے ؟گردے ، جگر اور اسی طرح دوسرے اعضاء یہ جب اپنا کام صحیح طریقے سے سرانجام دیتے ہیں تو جسم تندرست رہتا ہے بصورت دیگر انسانی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس بیماری کی تیسری بڑی علامت شدید اور مستقل بخار کے ساتھ جسم میں شدید درد اور شدید کمزوری کا احساس ہوتا ہے مریض نقاہت کی وجہ سے حرکت کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا ڈینگی کے کاٹنے سے بخار کی مدت دو سے دس دن تک ہوتی ہے بخار کے ساتھ ساتھ جسم میں شدید درد ہوتا ہے اور ساتھ ہی الٹیاںبھی شروع ہوجاتی ہیں جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے اور ناک سے خون آنے لگتا ہے اس کے ساتھ ہی مریض کے خون کے خلیوں میں نمایاں کمی ہوجاتی ہے جگر میں سوزش پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا سائز بھی بڑھ جاتا ہے اس وقت یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ مریض کے جسم کا درجہ حرارت 39 C سے نیچے رکھا جائے شدید بخار میں ٹھنڈے پانی کی پٹیوں کا استعمال جسم کے درجہ حرارت کو کم کرتا ہے اس وقت مریض کے خون میں پلازمہ کی مقدار کم ہوجاتی ہے پلازمہ کی مقدار کو جسم میں زیادہ سے زیادہ پانی کی مدد سے کنٹرول کیا جاتا ہے اگر پلازمہ کی کمی کو بر وقت کنٹرول نہ کیا جاسکے تو شدید بخار کی وجہ سے مریض کے جسم کو جھٹکے لگنا شروع ہوجاتے ہیں یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہوتی ہے جھٹکوں والے بخار سے پہلے شدید اور مسلسل کھانسی بھی شروع ہوجاتی ہے اگر بیماری کی تشخیص بروقت ہوجائے اور مناسب علاج اور احتیاط بھی کی جائے تو 10سے 13دن تک اس کی مدت ہوتی ہے اور اگر اس دوران مریض کے جسم میں کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو تو اس کی صحت بحال ہونا شروع ہوجاتی ہے مریض کی صحت میں بہتری کے آثار نمودار ہوتے ہی اسے بھوک لگنا شروع ہوجاتی ہے دل کی دھڑکن متوازی اور بلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے !اس انتہائی خطرناک بیماری سے بچنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ڈینگی مچھر کو حملہ آور ہونے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جائے اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کی پیدائش کو روکا جائے گھر وں میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جائے۔ آس پاس موجود گڑھوں کو مکمل طور پر پاٹ دیا جائے تاکہ ان میں پانی کھڑا نہ ہوسکے بچے اور بڑے دونوں مکمل آستین والی قمیض کا استعمال کریں تاکہ جسم مکمل طور پر ڈھکا رہے۔ اگر گھر میں ائر کنڈیشن کی سہولت موجود ہو تو اسے استعمال میں لایا جائے اگر خدانخواستہ گھر میں ڈینگی کا مریض موجود ہو تو اس بات کا خیال رکھا جائے کہ مریض اور گھر میں موجود دوسرے افراد کو ڈینگی نہ کاٹنے پائے مچھر دانی کا استعمال اس حوالے سے بہت بہتر ہے !۔

متعلقہ خبریں