Daily Mashriq

ڈینگی پر سیاست

ڈینگی پر سیاست

ہم خیبر پختونخوا حکومت کا یہ موقف تسلیم کرلیتے ہیں کہ پنجاب حکومت اور مسلم لیگ (ن) ڈینگی کے معاملے پر سیاست کر رہی ہے ، ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ پنجاب حکومت کو باقاعدہ ایک طریقہ کار اور سرکاری رابطے کے ذریعے اجازت لیکر صوبائی حکومت کی وساطت سے پشاور آنا چاہیے تھا ۔ ہم یہ بات بھی درست قرار دیتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ماہر ڈاکٹر موجود ہیں اور وہ اس وائرس سے بخوبی نبٹ سکتے ہیں ۔ ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ صوبائی حکومت اگر چاہے تو ڈینگی وائرس کا خاتمہ کر سکتی ہے مگر ان تمام تر حقائق کے باوجود اگر پنجاب کے وزیر صحت پشاور نہ پہنچتے اور وہ سیدھا ڈینگی وائرس سے متاثرہ علاقے تہکال کا رخ نہ کرتے تو کیا یہاں کی صوبائی حکومت بیدار ہوتی؟ کیا صوبائی وزیر صحت منظر عام پر آجاتے؟ وزیر اعلیٰ تہکال کا دورہ کرتے ؟ اور کیا وہ متاثرین کیلئے معاوضے کا اعلان بھی کرتے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اس وقت ذہن پر ہتھوڑے برسا رہے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ ڈینگی وائرس کے پھیلنے ، شہریوں کے متاثرہ ہونے اور 5 افراد کی اس مرض کے ہاتھوں مرنے کے بعد بھی صوبائی حکومت متحرک نہیں تھی اور نہ حکومت کے ذمہ داروں کو اس سنگین مسئلے کا احساس تھاجس نے دیکھتے ہی دیکھتے وبا کی صورت اختیار کر لی۔ تہکال کے علاقے میں اس وائرس کی تشخیص جولائی کے آخرمیں ہوئی اور رواں ماہ کے آغاز میں ہی متاثرہ علاقے میں تین اموات واقع ہوئیں۔ تہکال کے یونین کونسل 38، 39اور 40میں یہ جان لیوا وائرس پھیلتارہا مگر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس دوران خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں مریضوں کیلئے گنجائش کم ہونے کا مسئلہ بھی سامنے آیا اور مشرق ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت سمیت خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے انتظامیہ نے بھی تسلیم کیا کہ ہسپتال میں چارپائیاں کم ہیں اوراس وقت صرف ان مریضوں کو داخل کیا جارہا ہے جو وائرس سے زیادہ متاثر ہیں۔ یہ معاملہ بڑھتا گیا اور بات احتجاج تک پہنچ گئی۔ تہکال کے مکینوں نے یونیورسٹی روڈ کو ٹریفک کے لئے بند کر کے احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ علاقے میں حفاظتی سپرے، مدافعتی ادویات ، وائرس کے خاتمے کے لئے اقدامات اور متاثرہ مریضوں کے علاج کا انتظام کیا جائے۔ مظاہرین ڈپٹی کمشنر کی تمام اقدامات اُٹھانے کی یقین دہانی کرانے پر منتشر ہوگئے۔ اسی دوران ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں اور جاں بحق افراد کی تفصیلات ہسپتال سے جاری ہوتی رہیں مگر اچانک پشاور کے تینوں بڑے ہسپتالوں کو ہدایات جاری کر دی گئیں کہ میڈیا کو اس ضمن میں تفصیلات دینے سے گریز کیا جائے ۔ اس دوران تہکال سے منتخب ایک بلدیاتی نمائندے نے میڈیا کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ علاقے میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے کیلئے ان کی مدد کی جائے جس پر پنجاب حکومت حرکت میں آگئی اور انہوں نے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دیدی جو پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کی سربراہی میں پشاور پہنچی۔ انہوںنے گورنر ہائوس میں عوامی نمائندوں اور محکمہ صحت کے حکام سے بریفنگ لی اور تہکال پہنچے ۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں خواجہ عمران کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے سیکر ٹری محکمہ صحت سے ان کا رابطہ ہوا ہے، اگلے روز خیبر پختونخوا حکومت کے مختلف اور متضاد موقف بھی سامنے آنا شروع ہو گئے۔ ایک ہی وقت میں پنجاب حکومت کا تعاون لینے سے انکار اور ان کا خیر مقدم بھی کیا گیا ۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کے رہنما سر گرم ہو گئے انہوں نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور صوبائی حکومت پر تنقید شروع کردی۔ دریں اثنا پنجاب کے وزیر صحت دن بھر تہکال میں مریضوں کے ساتھ موجود رہے اور اس بات کو تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کے مخالفین نے خوب کیش بھی کیا، شاید یہاں سے سیاست شروع ہوگئی اس دن صوبائی وزیر صحت شہرام خان ترکئی بھی منظر عام پر آئے انہوں نے میڈیا سے گفتگو بھی کی اور ہسپتال کا دورہ بھی کیا۔ اگلے روز اپنے دفتر میں میٹنگ بلائی، پنجاب کے ماہرین سے ملاقات کی اور میڈیا کو بریفنگ بھی دی۔ اس کے بعدوزیرا علیٰ پرویز خٹک بھی متحرک ہوئے انہوں نے بھی تہکال کا دورہ کیا، متاثرین کیلئے معاوضے کا اعلان بھی کیا۔ اس تمام تر صورتحال میں یہ بات یقینا درست ہے کہ پنجاب کی حکومت یا محکمہ صحت کو صوبائی حکومت سے باقاعدہ اجازت لے کر آنا چاہئے تھا اور صوبائی محکمہ صحت کی نگرانی میں کام کرنا چاہئے تھا جو انہوں نے نہیں کیا مگر یہ مد نظر رہے کہ 20دن سے زائد عرصہ تک تہکال کے عوام چیختے رہے ، مریض ہسپتالوں میں دم توڑتے رہے ۔ غریب، محنت کش اپنے مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں داخل کراتے رہے مگر صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی، خیبر پختونخوا حکومت میں یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ ان کا موقف جاننا بالخصوص میڈیا کیلئے جان جو کھو ں کاکام ہے۔ ڈینگی وائرس اب تہکال سے نکل کر پشتہ خرہ، سفید ڈھیری اور پشاور کے دیگر علاقوں تک پہنچ گیا ہے بلکہ اب مردان، بونیر اور صوابی میں بھی وائرس کی موجودگی اور متاثرہ مریضوں کی تصدیق ہوگئی ہے لیکن صوبے کے وزیر اطلاعات غائب ہیں ، پنجاب کی ٹیم پشاور میں اب بھی موجود ہے خدا کرے کہ اس انسانی مسئلے پر سیاست چمکانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا سلسلہ ختم ہو اور خالص انسانی بنیادوں پر تمام ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں ۔

متعلقہ خبریں