Daily Mashriq


لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ' بڑا چیلنج

لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ' بڑا چیلنج

خیبر پختونخوا میں عیدالاضحی کے ایام میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف صوبے کے مختلف حصوں میں مشتعل عوام کے مظاہرے نو منتخب حکومت کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔ خیبر پختونخوا کے سادہ لوح عوام کو بجا طور پر توقع تھی کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد ان کے بہت سے مسائل خاص طور پر لوڈشیڈنگ کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہ سہی لیکن اس میں کمی ضرور آئے گی۔ عوام کی نئی حکومت سے اس قسم کی توقعات اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوامی مسائل کا حل اس قدر آسان نہیں جتنا کہ سمجھا جاتا ہے۔ لوڈشیڈنگ گزشتہ حکومت میں بھی تھی تاہم اس کا دورانیہ شاید کم تھا اب اس کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس طرح کے مسائل کی جہاں حقیقی وجوہات ہوتی ہیں وہاں اس کی سیاسی وجوہات سے بھی صرف نظر ممکن نہیں گو کہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ گزشتہ سے پیوستہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں بدترین تھی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت آتے ہی گردشی قرضوں کی ادائیگی کے ذریعے صورتحال کو بتدریج بہتر بناتی گئی کچھ چھوٹے بڑے بجلی کے منصوبوں کی تکمیل سے صورتحال پر فرق پڑا لیکن وہی حکومت جاتے جاتے پھر بھاری گردشی قرضے چھوڑ گئی۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مدت اقتدار کے آخری دن ہی یہ کہہ کر عندیہ دیا تھا کہ آگے لوڈشیڈنگ ہوئی تو وہ ذمہ دار نہ ہوں گے گو کہ ایک لحاظ سے ان کی بات درست تھی مگر دوسری جانب اس سے ان تمام د عوئوں کی از خود نفی بھی سامنے آئی جو سابق حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی مد میں کرتی رہی۔ موجودہ حکومت کے قائم ہوتے ایک ماہ سے بھی کم مدت میں اس سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی امید وابستہ کرنا درست نہیں کیونکہ اس وقت پاور سیکٹر کے گردشی خسارہ ، قرضے اور دیگر واجبات1155ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں جس میں575ارب روپے واجب الادا ہیں جبکہ 580ارب روپے کا قرضہ پی ایچ پی ایل سے پہلے کا ہے۔اس وقت پاور سیکٹر کو ایک سو بیس ارب روپے کا بہت بڑا خسارہ برداشت کرنا پڑرہا ہے، مزید یہ کہ لائن لاسز 18.3ارب روپے ہیں جبکہ باقاعدگی سے بجلی کا ادا کرنے والے صارفین سے 196ارب روپے نااہلی، بجلی چوری اور لائن لاسز کم کرنے میں ناکامی پر سے وصول کئے جاتے ہیں۔ کمرشل بنکوں نے حکومت کو قرضے دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ حکومت صرف قرض لیتی ہے اور اصل رقم بھی واپس نہیں کرتی۔ درپیش صورتحال میں ملک میں بجلی کے نئے بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جو سنبھلنے سے قبل موجودہ حکومت کے لئے بڑی پریشانی سے کم نہیں اس قسم کی صورتحال کی منصوبہ بندی گزشتہ حکومت کی جانب سے ہونا نا ممکن نہیں لیکن معروضی صورتحال میں ان کی مشکلات بھی کم نہ تھیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وجوہات خواہ جو بھی ہوں اس وقت کی حکومت ہی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کی توقعات کے مطابق لوڈشیڈنگ میں کمی لانے کی سعی کرے۔ ایسا کرنا عوامی خدمت کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی طور پر ضرورت بھی ہے تاکہ مخالف سیاسی جماعتوں کا اس بلا امتیاز عوامی مسئلے کو اچھال کر حکومت کے خلاف بھرپور مہم شروع کرنے کی کوششوں کا سدباب کیا جاسکے۔

صوبے کی نئی حکومت کیخلاف پہلی سازش

عیدالاضحی سے قبل اور نو منتخب صوبائی حکومت کی تشکیل سے پہلے نگران وزیر اعلیٰ دوست محمد خان نے افغانستان کو مویشی لے جانے پر پابندی لگا دی تھی جس کا مقصد شہریوں کو قربانی کے جانوروں کا موزوں نرخوں پر حصول یقینی بنانا تھا۔ پابندی جب تک برقرار رہی منڈی میں طلب و رسد کا توازن برقرار رہا اور گاہکوں کو مہنگے داموں مویشی ملنے کی شکایت ضرور تھی مگر قربانی کے جانور کا حصول نا ممکن نہ تھا۔ اچانک افغانستان کی سرحد کھلنے پر راتوں رات جس طرح منڈی میں کھڑے مویشی سرحد پار پہنچا دئیے گئے اس سے طلب و رسد کا توازن بری طرح بگڑا ہی نہیں بلکہ قربانی کے جانور سرے سے نا پید ہوگئے جس کے باعث عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ پاک افغان سرحد مویشیوں کی حمل و نقل کے لئے اچانک کھولنے کا حکم کس نے دیا اور اس کے پس پردہ کیا مقاصد کار فرما تھے۔ ہمارے تئیں یہ صوبے کی نو منتخب حکومت کے خلاف پہلی سازش تھی جس کا ادراک کرکے ذمہ دار عناصر کو سامنے لا کر قانون کے مطابق سزا دے کر ہی صوبے میں اچھی حکمرانی کا اولین تاثر دینا ممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں