Daily Mashriq

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا!

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا!

وفاقی کابینہ کے دوسرے اجلاس میں ایسے فیصلے کئے گئے ہیں جو متوقع بھی تھے اور وقت کی ضرورت بھی تھی۔ ان فیصلوں کے تحت صدر مملکت، وزیر اعظم اور اراکین قومی اسمبلی کے صوابدیدی فنڈز ختم کر دیئے گئے ہیں۔دریں اثناء اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں افسر شاہی کے ٹرانسپورٹ اور رہائشی سہولیات کے حوالے سے بھی کٹوتی اور سادگی اختیار کرنے کے عمل پر کام جاری ہے جس کے تحت نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ہوگی تمام پرانی بڑی گاڑیاں وفاقی اور صوبائی پول میں جمع کرادی جائیں گی۔ گریڈ سترہ سے بائیس کے افسروں کے لئے صرف سوزوکی اور کلٹس گاڑیاں مہیا کی جائیں گی۔ باقی تمام گاڑیاں نیلام کردی جائیں گی۔ ڈرائیوروں کی بھرتی پر پابندی ہوگی۔ سرکاری گاڑیوں کے غیر مجاز استعمال پر پوری طرح پابندی کو یقینی بنایا جائے گا۔ مارکیٹوں سے لے کر سکولوں تک میں ان کی نگرانی ہوگی۔ پنج ستاری ہوٹلوں میں سرکاری تقریبات پر پابندی ہوگی جبکہ سرکاری کھانوں پر بھی پابندی ہوگی۔ ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری محکموں میں دوبارہ کنٹریکٹ پر رکھنے پر مکمل طور پر پابندی ہوگی۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان اصلاحات سے ایک بلین ڈالر کے وسائل اکٹھے ہوں گے جن کو ڈیموں کی تعمیرپر صرف کیا جائے گا۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اصلاحات سادگی اور بچت کا اقدام صدر مملکت' وزیر اعظم ' چیئر مین سینٹ، چیف جسٹس اور آرمی چیف جیسے اعلیٰ عہدوں سے شروع کرکے ایک موثر اقدام کا سنجیدہ تاثر دیا ہے جس پر عملدرآمد کی صورت میں یہ بتدریج سرکاری افسروں پر موثر طور پر لاگو ہوسکتا ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ اس قسم کے بعض اقدامات کے وقتاً فوقتاً اعلانات پہلے بھی ہوچکے ہیں۔ صوابدیدی فنڈ کے خاتمے کا اعلان بھی نئی بات نہیں سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے دور میں اس ضمن میں عملی اقدامات بھی نظر آئے لیکن اصل معاملہ اس عمل کو موثر طور پر لاگو کرنے کے بعد اس کو تسلسل دینا ہے اور تسلسل بھی اسی طرح ہونا چاہئے کہ آنے والی کوئی حکومت اس سے آسانی سے انحراف نہ کرسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے ایسے کڑے قوانین کی ضرورت ہے جس سے بیورو کریسی انحراف نہ کرسکے۔ سرکاری افسروں کو گاڑی رکھنے یا ماہوار الائونس لینے کا کہا گیا تو سرکاری افسران نے ٹرانسپورٹ الائونس کو ترجیح دی مگر عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ آج سرکاری افسران سرکاری گاڑیاں' سرکاری پٹرول پر چلا بھی رہے ہیں اور ٹرانسپورٹ الائونس کی رقم بھی وصول کر رہے ہیں اس مقصد کے لئے گنجائش نکالنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے جبکہ سرکاری گاڑیاں شاپنگ پلازوں کے باہر اور سکول کے بچوں کو لاتے لے جاتے نظر آنا معمول کی بات ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی روک تھام کے لئے سعودی عرب کی طرح ہر محکمے کی گاڑی پر جلی حروف میں اس محکمے کا نام لکھا جائے جسے بآسانی شناخت کرکے اس کی حرکت پذیری کے جواز کا پوچھا جاسکے۔ دفتری اوقات کار کے بعد اس قسم کی شناخت کی حامل گاڑیوں کو ذاتی استعمال میں لانا تقریباً نا ممکن ہوگا۔ وزیر اعظم اور صدر مملکت کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کو اپنے منشور کے مطابق ترقیاتی فنڈز کا استعمال بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے کرانا سیاست کی تطہیر اور عوام کے لئے آسانی کا باعث ہوگا۔ جہاں تک ان اثاثہ جات کی فروخت کے ذریعے قومی خزانے میں معقول رقم جمع کرنے یا ڈیم تعمیر کرنے کے لئے وسائل مہیا کرنے کی بات ہے بظاہر یہ مثبت عمل نظر آتا ہے لیکن چونکہ یہ اہم نوعیت کا قومی معاملہ ہے اس لئے اس ضمن میں متعلقہ اسمبلیوں میں اس پر بحث مباحثہ کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے تاکہ اس کے محاسن و عیوب کا تفصیلی موازنہ سامنے آئے۔ چونکہ قانون سازی کے لئے قومی اسمبلی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں میں حکومت کو مشکلات کا سامنا ہوگا لہٰذا اس عمل کے شروع کرنے کے لئے خیبر پختونخوا سے آغاز موزوں ہوگا۔ جہاں تحریک انصاف کی حکومت کے پاس باآسانی قانون سازی کے لئے ممبران کی تعداد موجود ہے۔ ایسا کرنا اس لئے بھی زیادہ موزوں ہوگا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو دوسری مرتبہ منتخب کرکے عوام نے اس کی پالیسیوں پر تسلی کی مہر ثبت کردی ہے۔ اصولی طور پر اسے ایک ماڈل صوبہ بنا کر ہی دوسرے صوبوں میں اس کی مثال دی جاسکتی ہے۔ ویسے بھی تحریک انصاف کے گزشتہ دور حکومت میں صوبے میں کافی شعبوں میں تجربات کئے گئے جن کی کامیابی و ناکامی کا سوال اپنی جگہ جواب طلب ضرور ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جن اقدامات کا عندیہ دیاگیا ہے ان پر اسی طرح عملدرآمد خاصا مشکل کام ضرورہوگا جس کا خود تحریک انصاف کی قیادت کو ادراک بھی ہوگا اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ہوم ورک بھی کیا جا چکا ہوگا۔ جہاں تک اہم منصوبوں کے فرانزک آڈٹ کا تعلق ہے یہ بھی بڑے منصوبوں سے بتدریج اہم منصبوں اور ہوسکے تو زیریں سطح کے منصوبوں کی بھی تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔ جہاں تک سرکاری دفاتر کے اوقات کار کا سوال ہے۔ ہمارے تئیں دفتری اوقات میں تبدیلی اتنی اہم نہیں جتنا ان دفاتر میں سرکاری امور نمٹانے کے عمل میں تیزی لانا ضروری ہے۔ سرکاری دفاتر میں عوام کو جس طرح آج کل برسوں' ہفتوں' مہینوں اور سالوں تک چکر دینے کا رواج ہے اسے ختم کئے بغیر اگر ہفتہ کی چھٹی بھی منسوخ کردی جائے تو لا حاصل ہوگا۔ قوم اصلاحات کے ساتھ ساتھ ان کو روبہ عمل لانے کی شدت سے منتظر ہے۔ اب یہ عمران خان کی قیادت اور ان کی ٹیم کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح سے اپنی حکومت کو پیشروئوں سے ممیز ثابت کرتے ہیں اور عوام کو حقیقی معنوں میں تبدیلی کا احساس دلانے میں کتنے عرصے میں اور کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں