Daily Mashriq

خارجہ پا لیسی کے خد وخال

خارجہ پا لیسی کے خد وخال

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ وزیر اعظم عمر ان خان اور امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کے درمیان پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی ، ترجما ن کے مطا بق امریکی وزارت خارجہ کی جا نب سے اس سلسلے میں جا ری بیا ن حقائق کے برعکس ہے اور انہو ں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس کی فوری تصیح بھی کی جا ئے ،جب دونو ں ممالک کی جانب سے اس ٹیلی فونک بات چیت کے بارے میں تضادات منکشف ہوئے تو امریکی وزارت خارجہ کے ترجما ن ہید ر نو رٹ سے ان کی پر یس کانفرنس کے دوران پو چھا گیا کہ کیا ٹیلی فون کی گفتگو میں دہشت گردی زیر بحث آئی تھی یا نہیں تو ترجما ن کا کہنا تھاکہ واشنگٹن اپنے ابتدائی بیان پر قائم ہے ۔ جب کبھی کسی بھی ملک میں اقتدار کی منتقلی ہو ا کرتی ہے تو ایسے مواقع پر دوسرے ممالک کے سربراہا ن مملکت ، سربراہان انتظامیہ اور خارجہ امو ر سے تعلق رکھنے والے خیر مقدمی طور پر اقتدار سنبھالنے والو ں سے خیر سگالی کے طور پر اورمستقبل کی امیدو ں کے لیے مختلف انداز میں رابطے کیا کر تے ہیں ، چنا نچہ ایسے مواقع پر پا لیسی ساز بات چیت یا مذاکر ات کے اند از میں کوئی رابطہ نہیں ہو ا کرتا ۔ امریکی وزیر خا رجہ کی جانب سے پانچ ستمبر کو پاکستان کا متوقع دورہ کی خبریں پہلے سے آرہی تھیں ، گو کہ اس کے بارے میں سرکا ری طور پر کسی جانب سے ہنو ز اعلا ن نہیں کیا گیا ہے تاہم توقع یہ ہی تھی کہ جب امریکی وزیر خارجہ پا کستان آئیں گے تو با قاعدہ سرکا ری طو رپر رابطہ کا آغاز بھی ہو گا اور باہمی تعلقات کے بارے میں بات چیت بھی ہو جائے گی ، امریکی وزیر خارجہ نے اپنے متوقع دورے کے بارے میں بھی کچھ نہ کہا اور ان کی آمد یا نہ آمد سے قبل ہی ایک تنا زعہ پیدا ہو گیا ۔ اس متنا زعہ معاملے پر دونو ں ممالک ڈٹ بھی گئے ہیں ۔ جنو بی ایشیا کی صورت حال اور اس میں امریکی کر دار کی وجہ سے پاکستان اور امریکا کے درمیان جہا ں قریبی تعلقات کی ضرورت محسو س کی جاتی ہے وہا ں اس امر کو بھی لا زمی سمجھا جا تا ہے کہ خطے میں خوشحالی ، پائیدار امن کے لیے پا کستان اور امریکا کے درمیان خوشگوار انداز میں ہم آہنگی پائی جا ئے ، تاہم اس نئی صورت حال میں پاکستان کی خارجہ پا لیسی کے خدوخا ل کیا ہو تے ہیں اس بارے میں وزیر خارجہ پاکستان کا بیان اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی وزیر اعظم عمر ان خان کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ پو مپیو کی گفتگو کے حوالے سے امریکی مو قف کا استر داد کردیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی وزارت خارجہ کا تجر بہ رکھتے ہیں اور وہ امریکا کے زخم خوردہ بھی ہیں کیو ں کہ پی پی کے دورحکومت میں جب وہ وزیر خارجہ تھے تو ریمنڈ ڈیو س کا واقعہ رونما ہو اتھا ، جس پر ان کا مو قف پی پی کی حکومت سے مختلف تھا۔ وہ سفارتی استثنٰی سے لے کر کسی قسم کی مراعات ریمنڈڈیو س کو دینے کے لیے تیار نہیں تھے چنانچہ آصف زرداری نے امریکی دباؤ پر وفاقی کابینہ میں رد وبدل کر وایا او ر اس طرح شاہ محمود قریشی سے وزارت خارجہ لے لی گئی جس پر وہ نا راض ہوئے اور جواباً عمر ان خان کی ٹیم کا حصہ بن گئے چنا نچہ جس وزارت سے فارغ کیے گئے تھے وہا ں وہ سات سال کے بعد دوبارہ براجمان ہوگئے مگر ان کا اب کہنا یہ ہے کہ سات سال پہلے جو حالات وہ چھو ڑ گئے تھے آج حالا ت اس سے یکسر مختلف ہیں ، انہو ں نے جب دوبارہ یہ عہد ہ سنبھالا تو کہا کہ اب پاکستان کی خارجہ پالیسی پا کستان کی وزارت خارجہ کے اندر ہی بنا کر ے گی ، اگر ایسا ہو اتو یہ یقینا بہت بڑی تبدیلی کہلا ئے گی ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو یہ تسلیم کر نا پڑے گا کہ اس بارے میں ان کی وزارت کی طرف سے کو تاہی ہوئی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وزیر اعظم عمر ان خان نے اعلا ن کررکھا ہے کہ وہ پروٹوکول کا تکلف نہیں کر یں گے مگر پروٹوکول کی اپنی اپنی اقسام ہیں انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ ہر قسم کے پروٹو کول سے آزاد ہیں ، ایسا ممکن بھی نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے ، جس پر وٹوکول سے انہو ں نے پرہیز کا اعلا ن کیا ہے وہ ان کی نقل وحمل کے دوران سڑکو ں کی بندش ، حفاظتی اقدام کے نا م پر سیکو رٹی کے عملہ کا جلو س کی شکل میں عمر ان خان کو حصار میں رکھنا وغیر ہ مگر ایک پر وٹو کول ہو تا ہے جو غیر ملکی تعلقات سے متعلق ہوا کرتا ہے ، ساری دنیا میں اس پر وٹوکول پر عمل کیاجاتا ہے اوریہ اصولی بھی ہے مثلاً بات چیت میں جب دوممالک حصہ لیتے ہیں تو وہ برابری کی بنیا د پر اس طرح ہو تا ہے کہ سربراہ مملکت دوسرے ملک کے سربراہ مملکت سے ہی بات چیت کر تا ہے ، استقبال کر تا ہے ایسا نہیں ہو ا کرتا کہ کسی ملک کا سیکرٹری خارجہ تشریف لارہا ہو اور اس ملک کا سربراہ مملکت یا سربراہ انتظامیہ (وزیر اعظم ) اس کے استقبال کے لیے پہنچ جائے ، اس بارے میں اے این پی کے ترجمان زاہد خان نے صحیح استفسار کیا ہے کہ کیا وزارت خارجہ کو معلو م تھا کہ امریکی وزیر خارجہ کی ٹیلی فون کال وزیر اعظم کو آرہی ہے یا آئی ہے ، اگر پہلے سے علم تھا تو یہ کال عالمی پر وٹوکول کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو آنی چاہیے تھی یا ان کواٹینڈ کر نا چاہیے تھی ، کہ اب امریکی وزیر خارجہ پاکستان کے وزیر اعظم کی با ت کو رد کر رہے ہیں۔ عالمی اصول بھی یہ ہے کہ وزیر خارجہ کی سطح پر رابطہ کر ایا جا تا ، وزیر اعظم کو چاہیے تھا کہ وہ ایسی کا ل کو اپنے وزیر خارجہ کی طرف کر نے کی ہدایت کر تے خود کلا م نہ کرتے۔ حفظ مراتب کے کچھ تقاضے ہو تے ہیں ۔ جس سطح کی پاکستان کے وزیر اعظم سے بات چیت کا امریکی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا ہے وہ وزارت خارجہ کی سطح پر ہی ہو سکتی ہے ۔ امریکا اپنے مو قف میںکہا ں تک سچا ہے اس بارے میں بہتر طریقہ یہ رہے گا کہ اس سطح پر ٹیلی فونک رابطہ کو ریکا رڈ کیا جا تا ہے چنا نچہ ٹیلی فون کی بات چیت کا ریکا رڈ نکا ل کر عوام کے سامنے پیش کردیا جائے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کا بھی پول کھل جائے گا ۔تاہم پا کستان کے وقار اور احترام کے لیے عالمی روابط کے طور طریقوں کو ہی اپنا نا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں