Daily Mashriq


ایٹا میڈیکل انٹری ٹیسٹ یا سوہان روح؟

ایٹا میڈیکل انٹری ٹیسٹ یا سوہان روح؟

کیا بھلے دن تھے اور یہ کوئی صدی ڈیڑھ پہلے کی بات نہیں ہے بلکہ تقریباً نصف صدی کا قصہ ہے کہ امتحانات میں نقل ، بوٹی مافیا او ردیگر غیر قانونی ذرائع کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا ۔ نچلی سطح پر تو کسی کی نہ رسائی ہوتی تھی اورنہ ہی ہمت و جرأت کہ امتحانی ہال میں امتحانی عملہ کو نقل کرنے کی چھٹی دیدے یا چشم پوشیاں کرے یا رشوت اور تحفے تحائف اور جان پہچان اور تعلقات کی بناء پر مخصوص طلبہ کی غیر قانونی مدد کرے۔اساتذہ کا کلاس اور امتحانی ہال میں اتنارعب و دبدبہ ہوتا تھا کہ جو کچھ آج ہمارے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے اس کا وہم وگمان اور تصور تک نہیں تھا ۔ یہ سلسلہ قیام پاکستان سے 1970کے عشرے تک قائم رہا۔ پھرنامعلوم کون سی آفت آن پڑی کہ پیسہ کمانے نے اتنازور پکڑا کہ پاکستان میں زندگی کے ہر شعبہ میں دو نمبری نے دیانت داری اور امانت کو مات دے دی ۔اس کا سب سے برااثر ہمارے تعلیمی اداروں پر پڑا۔ اسی دور میں آبادی میں اضافے کے سبب سرکاری سکولوں اور کالجوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر میں تعلیمی ادارے بھی کھلنے لگے ۔آبادی میں بے ہنگم اضافہ کے سبب اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی سطح پر BISEوجود میں آئے ۔ جس میں ہمارے وزراء اور دیگر بااثر لوگوں نے ''اپنے''لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائزکروایا ۔ ضلعی سطح پر بورڈوں کے افسران بالا پر مقامی سطح کے دو قسم کے لوگوں کے اثرورسوخ قائم ہوئے ۔ ایک وہاں کے خاندانی بڑوں اور دوسرے سیاسی بارسوخ شخصیات اس کے علاوہ یاری دوستی اور چمک والوں نے بھی بہت آسانی کے ساتھ بورڈ کے افسران اور بالخصوص ڈیوٹیاں لگوانے والوں ، پرچے بنوانے مارکنگ اور نتائج ٹیبولیٹ کرنے والے سے مراسم وتعلقات قائم کرلئے ۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی عوامل نے ہمارے میٹرک اور ایف ایس سی کے نتائج کو بری طرح متاثر کیا ۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروںکے بااثر لوگوں نے زیادہ طلبہ کو ترغیب دینے کے لئے ٹاپ ٹین اور ٹاپ ٹوئنٹی اور ٹاپ پچاس اور ٹاپ سو وغیرہ کی کیٹگری میں آنے کے لئے ''چمک''کو خوب خوب استعمال کیا ۔ یوں میٹرک اور ایف ایس سی کے نمبرات بے اعتبار ہونے لگے ۔ اور اس کا حل یوں سامنے آیا کہ ایف ایس سی کے امتحانات پاس کرنے کے بعد میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلہ پانے کے لئے ایٹا انٹری ٹیسٹ ''ایجاد''ہوا، اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں سی ایس ایس کے امتحان کے بعد یہ دوسرا امتحان تھا جس کی شفافیت پر تقریباً ننانوے فیصد اعتماد تھا ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ شاید یہاں بھی ''چمک''نے اپنے اثرات دکھانے شروع کئے ۔ لیکن اس سے صرف نظر کرتے ہوئے بھی اس ٹیسٹ میں اب بہت ساری خامیاں سامنے آئی ہیں جو زبان زد عوام ہیں ۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس کی فیس بہت زیادہ ہے ۔ فیس کے علاوہ اس ٹیسٹ کے تیاری پر کوچنگ اکیڈمیوں میں طلبہ وطالبات کا بہت استحصال ہوتا ہے ۔ کوچنگ اکیڈمیوں نے قابل اساتذہ کو کرایے پر لیکر متعلقہ کالجوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور یہ لمبی داستان ہے ۔ ایٹا میڈیکل انٹری ٹیسٹ اب پشاور کے بجائے طلبہ کی کثیرتعداد کے پیش نظر صوبے کے مختلف مقامات پر منعقد ہوتا ہے ۔ کیا ان سارے مراکز میں نگرانی کا معیار ایک جیسا ہوتا ہے یا بعض مراکز میں نگران عملہ بعض طلبہ کی مدد کرتا ہے ۔ انٹری ٹیسٹ کا طلبہ کے ایف ایس سی کے رزلٹ سے پہلے انعقاد کیا زیادہ پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں ہے ؟ اس کے علاوہ کیا یہ امتحان لینے کے لئے صوبے کے مختلف مقامات پر ایسے ہالوں کا انتظام نہیں ہو سکتا جہاںبارش کی صورت میں بھی التواء کا خوف نہ ہو اور شدید گرمی کی صورت میں بڑے ائیر کنڈیشنوں کا انتظام ہو ، ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے لئے جب کالج الگ ہیں تو امتحان بھی الگ ہونے سے طلبہ کی تعداد کم ہونے کے علاوہ اور بھی سہولت کا سبب بن سکتا ہے ۔ طلبہ دور دراز سے آکر متعلقہ مرکز کے شہر میں رات کو ٹھہر کرکم از کم تین چارہزار روپے کا خرچہ برداشت کرتے ہیں ۔ مبلغ 1600/روپے فیس ہے اور پھر اس پر مستزاد جب کبھی موسم کے ہاتھوں ٹیسٹ ملتوی ہوجاتا ہے اور کبھی پرچہ آئوٹ ہونے کی اطلاعات پر رزلٹ روک دیا جاتا ہے ، سی ایم نے تو والدین کے مطالبہ پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے لیکن کسی کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ طلبہ اور والدین پر یہ وقت کس طرح کٹے گا ؟ ۔ اگرچہ امتحان کینسل ہوا ۔ تو جن طلبہ نے دوسری اور تیسری کوشش میں پرچہ اچھا حل کیا ہے یا قابل و ذہین طلبہ نے اچھا سکور کیا ہے ۔ لیکن دوبارہ امتحان میں مطلوبہ سکور نہ کر سکے تو اُن کی اور اُن کے والدین کی ذہنی اور نفسیاتی حالت کیا بنے گی یہ اُن سے پوچھیں جن پر گزرے گی ۔ اس کے علاوہ ایٹا ٹیسٹ کے لئے آخر ایف ایس سی کے مخصوص نصاب میں سے کتنے سوالات کتنی بار مختلف بنائے جا سکتے ہیں ۔ اور جو لوگ ان امتحانات اور پرچہ جات کو بنانے اور مارکنگ پرمامور ہیں اور اُن کی دیانتداری ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہے ۔ تو ایسے لوگوں کی خدمات میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات اور مارکنگ کے لئے کیوں حاصل نہیں کی جا سکتی ۔اور بھی کئی ایک اہم سوالات اس امتحان کے حوالے سے طلبہ اور لوگوں کے اذہان وقلوب میں مچل رہے ہیں لیکن یہ موقع پیش کرنے کا نہیں ہے ۔ اللہ کرے کہ ہمارے نوجوان طلبہ وطالبات ذہنی اذیت اور کوفت سے محفوظ ہوں،لیکن ہمارا نظام تعلیم بڑی تبدیلی ، کا طلبگار ہے ۔ اللہ کرے کہ مطلوبہ تبدیلی جلد آجائے ۔( آمین)

متعلقہ خبریں