Daily Mashriq


کیا ہم واقعی تیار ہیں!

کیا ہم واقعی تیار ہیں!

یہ قوم ایک نئے پاکستان کی امید میں ٹکٹکی لگائے بیٹھی ہے ۔ وہ نہیں جانتے کہ کیسے ہوگا لیکن انہیں معلوم ہے کہ اس بار انہوں نے جس شخص کو ووٹ دیا ہے وہ تبدیلی کا حوصلہ رکھتا ہے ۔ سوال اس ملک کے وزیراعظم کے جذبے کے حوالے سے نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جس تبدیلی کے ہم اتنے خواہشمند تھے کیا ہم خود بھی اس کے لیے تیار ہیں ۔ اور کیا واقعی ہمیں ادراک تھا کہ ہم کس بات کی خواہش کررہے ہیں ۔ہمیں ایک عرصے سے لٹنے کی عادت ہے ۔ لٹیروں کو لیڈر سمجھتے ہمیں کتنی دہائیاں گزر گئی ہیں۔ انہی لٹیروں کی جانب دیکھتے دیکھتے ہم نے اپنے ہاتھوں کو کب پنجوں میں تبدیل کیا خود ہمیں بھی معلوم نہیں ہوا۔ اب ہم اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہیں لیکن ہم دراصل جانوربن چکے ہیں ۔ہم اس خیال کی قید میںکبھی اپنے آپ کو آئینوں میں بھی درست طور نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی پہچان پاتے ہیں ۔ آئینے میں دانت نکو سے ، بال بڑھائے ، اندر کی جانب مڑے ہوئے پنجوں والا جو جانور دکھائی دیتا ہے ، وہ ہم خود ہی ہیں اور ہمیں اپنی ہیئت تبدیل کیئے بھی ایک عرصہ بیت چکا ہے ۔ اب واپس انسان بنتے ہمیں بہت تکلیف ہوگی ۔ بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ایک عرصے سے ہم دو پیروں پر نہیں چلے ، کمر جھک گئی ہے ، اس کو سیدھا ہونے میں محنت ہی نہ لگے گی بلکہ تکلیف بھی برداشت کرنا پڑے گی ۔ لیکن ایک سول اور بھی ہے جوشاید اس سے بھی زیادہ اہم ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں اپنے وزیراعظم کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں ۔ لیکن ان کی ٹیم کے حوالے سے شکوک وشبہات ضرور ہیں ۔ یہ سب جانے پہچانے لوگ ہیں ۔ اکثریت نے پہلے بھی کبھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ کیا اب ان سے امید وابستہ کرنا درست ہے ؟ یہ سوال اگرچہ وقت سے پہلے ہے لیکن ہم اس حکومت سے اتنی امیدیں وابستہ کئے بیٹھے ہیں کہ دل بار بار اس خدشے کی گرفت میں آجاتا ہے ۔ اپوزیشن بھی سوال کرنے کے لیے ، انگلی اٹھانے کے لیے تیار بیٹھی ہے ۔ ان کے ساتھ جو ہوگیا ہے وہ تو انہوں نے کبھی وہم وگمان میں بھی نہیں سوچاتھا ۔ اور اسی لئے ان کے لہجوں کا زہر بھی بہت تیز ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایسی پھنکاریں ماریں کہ حکومت میں موجود لوگوں کے چہروںکو جلا کر رکھ دیں ۔ یہ سارے ہی جذبے معلوم جذبے ہیں ۔ پریشانی بھی دیدنی ہے ۔ اور سوال اپنی جگہ ہی کھڑاپیر بدل رہا ہے ۔ کیا ہم تیار ہیں ؟

میں کئی ایمان دار افسروں کو جانتی ہوں جو سرکاری گاڑیاں استعمال کررہے ہیں اور انہیں اس میں کوئی بے ایمانی نظر نہیں آتی ۔ اور سچ پوچھئے تو اس میں بے ایمانی کا عنصر بھی بہت کم ہے کیونکہ سینئر سرکاری افسران کو سرکاری کاموں کے لیے سرکاری گاڑی استعمال کرنے کی اجازت ہے ، صرف گھر سے آنے جانے یا ذاتی کاموں کے لیے سرکاری گاڑی استعمال نہیں کی جاسکتی ۔ کئی افسران ایسے ہیں جو صرف اتنے ہی بے ایمان ہیں کہ اپنے گھر آنے جانے کے لیے بھی سرکاری گاڑی استعمال کرلیتے ہیں لیکن اب چونکہ ہم تبدیلی چاہتے ہیں ۔ اور ہمارا مزاج ہے کہ تبدیلی صرف دوسروں کے لیے ہی ہونی چاہیئے اس لیے وہ لوگ بھی معتوب ٹھہریں گے ۔ اور بڑی بڑی باتیں کی جائنگی ، کہانیاں بنیں گی اور جانے کیا کچھ ہوگا ۔ حالانکہ میں سمجھتی ہوں کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سمت درست ہونی چاہیئے ۔ اگر سمت درست ہو تو بالآخر منزل کا نشان مل جاتا ہے اور سمت ہی درست نہ رہے تو جستجو جتنی بھی کی جائے ۔ جیسی بھی شاندار ہو ، مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوپاتے ۔ اس حکومت کی فی الحال سمت درست لگتی ہے ، اسی لیے امیدیں بڑھتی جاتی ہیں ۔

ہم روز فخر سے سینہ تان کر گھروں سے نکلتے ہیں کہ اس ملک کا وزیراعظم ، اپنے ملک کی غربت سے شرمسارہے ، اس لیے محل میں نہیں رہتا، نوکروں کی فوج نہیں رکھتا ،ضیافتیںنہ اڑائے گا ۔ اسکے وزیر سرکاری خرچوں پر بین الاقوامی دورے نہ کرینگے ۔ یہ وہ کمال وزیراعظم ہے جو کاغذ پر لکھی تحریر نہیں پڑھتا ، لوگوں سے بات کرتا ہے ، ان کی مدد مانگتا ہے اور واقعی اس ملک کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے ۔ میںنے کئی مخالفین کو بھی یہ بات تسلیم کرتے سنا ہے ۔ لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں ۔ اورہمارے لیے یہ تبدیلی بھی ایسی آسان نہ ہوگی ۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے تئیں گزشتہ حکمرانوں کی لوٹ مار میں حصہ دار رہا ہے ۔ ہم بدلنا نہیںچاہتے۔صرف دوسروں کو بدلتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ہم محنت نہیں کرنا چاہتے صرف دوسروں کی محنت سے حظ اٹھانا چاہتے ہیں ۔ یہ عہد صرف حکمرانوں کی حد تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیئے ۔ یہ عید ہم میں سے ہر ایک کا ہونا چاہیئے ۔ میرے ایک قریبی عزیز نے مجھ سے پوچھا کیا کرنا چاہتی ہو ، عمران خان صرف ایک ہے ، لوگوں کی اپنی ترجیحات بھی ہونگی ۔ میں نے انہیں کہا ، میں صرف کام کرناچاہتی ہوں ، اس ملک کے لیے اور سب سے زیادہ اپنے بچوںکے لیے تاکہ مجھے معلوم ہو کہ میں اپنے بچوں کو ایک محفوظ اور خوبصورت معاشرہ تحفے میں دینے کی جدوجہد میں شامل ہوں ۔ میں آج یہ یقین رکھتی ہوں کہ کوئی میری محنت کو ضائع کرنے کے درپے نہیں ۔ میں بس اپنے بچوں سے وفا نبھانا چاہتی ہوں ۔ ماں ہوں اس سے زیادہ کی خواہش نہیں ۔ ان کی قسمت میرے رب کے حوالے ہے لیکن میں اپنا کام کرونگی ۔ یہی سوال میرا آج اپنے قارئین سے ہے ۔ کیا ہم سب اپنا کام کرینگے کیا ہم واقعی تیار ہیں ؟ ۔

متعلقہ خبریں