Daily Mashriq


ترک عوام ڈالر کیوں جلاتے ہیں؟

ترک عوام ڈالر کیوں جلاتے ہیں؟

امریکہ اور اسرائیل ترکی میں اسلام اور ترکی حکومت سے بہت زیادہ خائف ہیں۔ حال ہی میں امریکی سی آئی اے کی ایک سازش کا پتہ چلا۔ سی آئی اے نے ترکی میں پادری کی شکل میں اپنا ایجنٹ اینڈریو کو بھیجا تھا۔ پادری کی منفی سرگرمیوں اور ترکی حکومت کیخلاف دہشتگرد تنظیموں کیساتھ اس ایجنٹ کے روابط کا پتہ چلا۔ ترکی، کی خفیہ ایجنسیوں نے ایجنٹ کو گرفتار کیا۔ مکمل تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ پادری کی شکل میں سی آئی اے کا ایجنٹ ترکی میں حکومت کیخلاف دہشتگرد اور انتہا پسند تنظیموں کیساتھ مختلف کارروائیوں میں ملوث تھا۔ امریکہ کی پوری پوری کوشش ہے کہ اس جاسوس کو رہا کیا جائے مگر ترکی امریکی دھمکیوں کے باوجود بھی امریکہ کے اس جاسوس کو رہا نہ کرنے پرڈٹا ہوا ہے۔ ترکی کا مؤقف ہے کہ اس نے جرم کیا ہے اور اس کو جرم کی سزا ملنی چاہئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ پادری جو ترکی کیخلاف دہشتگردی، انتہا پسندی، نفرت پھیلانے اور شرانگیز کارروائیوں میں ملوث تھا اس کو اس سال جولائی کے مہینے میں قید سے رہائی دیکر گھر نظر بند کیا گیا۔ اگر ہم غور کریں تو امریکہ نے جس طرح افغانستان، لیبیا، عراق، شام اوردوسرے کئی اسلامی ممالک میں تباہی پھیلائی ہے اس قسم کی تباہی اور بربادی وہ ترکی میں بھی پھیلانا چاہتا ہے۔ پہلے امریکہ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس اسلامی ریاست کو طاقت کے بل بوتے پر زیر کیا جائے جب وہ اس مشن میں ناکام ہوتا ہے تو پھر امریکہ اس ناکام کوشش میں لگ جاتا ہے کہ اس ملک کو اقتصادی طور پر کمزور کر کے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے اور اُمت مسلمہ اور ان کے اپنے ملک میں ان کی جو حیثیت، عزت اور وقار ہے اس کو ختم کیا جائے اور یہی وجہ ہے کہ ترکی حکومت کی وہ تمام مصنوعات جو ترکی سے امریکہ بھیجی جاتی ہیں ان پر امریکہ نے بھاری ٹیکس عائد کر کے ترک کرنسی ''لیرا'' کی قدرگرانے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ نے ترکی کی مصنوعات مثلاً سٹیل پر 50فیصد اور ایلومنیم یعنی سلور پر 20فیصد مزید ٹیکس عائد کیا تاکہ ترکی اقتصادیات کو دھچکا لگے۔ ترکی کے صدر طیب اردگان اور وزیر خارجہ کویگلوف نے دھمکی دی کہ امریکہ کی ان پابندیوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے اس اقدام کے بعد ترکی کی کرنسی '' لیرا'' کی قیمت کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ترکی نے امریکہ کے اس اقدام کے ردعمل کیخلاف اعلان کیااور امریکی اشیاء جن میں موٹرکار، الکوحل، بیوریجز، سگریٹ، آئی فون اور الیکٹرانکس کے کئی آلات شامل ہیںکیخلاف محصول اور مزید ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا۔ ترکی نے امریکہ کی گاڑیوں پر ڈیوٹی 120فیصد اور الکوحل ڈرنک پر ڈیوٹی 140فیصد لگانے کا اعلان کیا۔ ترکی میں 10ملین لوگ امریکی ساخت کے موبائل فونز آئی فون کا استعمال کرتے ہیں اور گزشتہ چند سالوں میں ترکیوں نے7ارب ڈالر کے یہ فون خریدے ہیں۔ ابھی ترکی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ دوسرے الیکٹرانک آلات کی طرح امریکہ کے آئی فون کا بھی بائیکاٹ کریں گے۔ امریکہ کی ترکی پر ان پابندیوں کے بعد طیب اردگان نے کئی ممالک کے راہنماؤں جن میں پاکستان، روس، عمان اور قطر شامل ہیں سے بات چیت کی اور ان تمام ممالک کے لیڈروں نے ترکی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ترکی کی ہر قسم مدد کریںگے۔ قطری حکومت نے اعلان کیا کہ جو ممالک قطر سے تیل خریدیں گے وہ قطری حکومت کیساتھ ترک کرنسی لیرا میں تجارت کریں گے۔ قطری حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ترکی میں 15ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے تاکہ ڈالر کے مقابلے میں ترکی کرنسی لیرا مستحکم ہو۔ اسی طرح بہت سارے مسلمان ممالک کے کچھ مخیر اور صاحب ثروت لوگوں نے ترکی کرنسی لیرا خریدنا شروع کی ہے جس میں پاکستان کی جماعت اسلامی پیش پیش ہے۔ ترکی اور دیگر ممالک کے لوگوں نے نفرت کے طور پر ڈالر پھاڑنا اور اسے آگ لگانا شروع کیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ترکی حکومت نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف اور دوسری بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں کے تمام قرضے واپس ادا کئے ہیں اور ابھی وہ ان عالمی مالیاتی ایجنسیوں سے مزید قرضے نہیں لیں گے۔ امریکی ڈالر جو عالمی معیشت اور اقتصادیات میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور عالمی معیشت اور اقتصادیات پر ڈالر کا قبضہ ہے۔ آج کل یہ روس، چین، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک میں اپنی وقعت اور مقبولیت کھو رہا ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردگان نے یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ مسلمان ممالک کی ایک کرنسی ہونی چاہئے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ترکی کی کرنسی کو مستحکم کرنے میں اور امریکہ کے منفی عزائم کیخلاف ترکی کا ساتھ دینا چاہئے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ ترکی کی کرنسی لیرا لینا چاہئے تاکہ ترکی کی معیشت مستحکم ہو۔ عالم اسلام تمام مسلم اُمہ کی ایک کرنسی متعارف کروائے اور آپس میں اتحاد اور اتفاق سے رہے۔ جس طرح امریکہ جاسوس پادری آزاد کرنے کیلئے کوشاں ہے اسی طرح پاکستان کو چاہئے کہ وہ امریکہ میں قید بیگناہ عافیہ صدیقی کو بھی آزاد کرانے کیلئے کوششیں کرے جس کا وعدہ وزیراعظم عمران خان نے الیکشن مہم کے دوران کیا تھا۔ جو قومیں مثبت، عقلی اور استدلالی طریقہ سے انتقام لے سکتی ہیں ۔

متعلقہ خبریں