Daily Mashriq


میثاق جمہوریت کی چنگاری

میثاق جمہوریت کی چنگاری

حکومت ابھی تشکیل کے مراحل میں ہی تھی کہ میثاق جمہوریت کی وارث دو بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان دیر پااتحاد کے خواب بکھرنا شروع ہوگیا تھا ۔حکومت کے خدوخال اور نقوش ابھی پوری طرح واضح بھی نہیں ہوئے تھے کہ قومی اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب نے اس اختلاف کامنظر بڑی حد تک واضح کر دیا ۔حکومت سازی کے اس مرحلے تک بظاہر دونوں جماعتیں کسی حد تک متحد نظر آئیں مگر اس سے آگے متحد ہو کر چلنے کی سکت پراسرار طور پر جواب دیتی چلی گئی ۔وزیر اعظم کے انتخاب میں ساجھے کی یہ ہنڈیا پوری طرح پھوٹ کر رہ گئی ۔اس موقع پر مسلم لیگ ن نے نوازشریف کے بیانیے کے تحت ایوان میں پرشور احتجاج کیا جبکہ پیپلزپارٹی نے احتجاج کا الگ انداز اپنا کر اپنے راستوں کے الگ ہونے کا پیغام دیا ۔ اس احتجاج میں شہباز شریف کے لئے بھی ایک انتباہ تھا کہ ان کی سیاست جو اب تک نوازشریف کے نام کی ہی محتاج ہے مزاحمت اور ہلچل کی صورت میں ہی زندہ رہ سکتی ہے ۔حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر شہباز شریف اس مرحلے پرسپر ڈالتے نظر آئے ۔ابتدا میں اس اصول پر اتفاق کی خبریں سامنے آرہی تھیں کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے امیدوا ر شہباز شریف جبکہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے پیپلزپارٹی اور ایم ایم اے کے نمائندے ہوں گے ۔پہلا مرحلہ تو بخیر وخوبی مگر کچھ رد وکد کے ساتھ گزر گیا ۔دوسرے مرحلے میں پیپلزپارٹی نے شہباز شریف کے نام پر اعتراض کر دیا ۔ اس اعتراض کی وجہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے شہباز شریف کے ماضی کے بیانات کو بتایا گیا ۔جس سے یہ اندازہ ہورہا تھا کہ پیپلزپارٹی کو مسئلہ مسلم لیگ ن سے نہیں شہباز شریف سے ہے ۔شہباز شریف کی اس وقت کیفیت یہ ہے کہ اپنے بھی خفا اور بیگانے بھی ناخوش ۔پیپلزپارٹی ان کے ماضی کے بیانات اور پیپلزپارٹی کے حوالے سے تلخ بیانات سے ناراض ہے تو مسلم لیگ کے اندر عقاب انہیں نوازشریف کا بیانیہ آگے بڑھانے میں ناکامی کا سزاوار قرار دے رہے ہیں ۔نوازشریف کا بیانیہ تصادم اور چھیننے اور جھپٹنے کے تصور کے گرد گھومتا تھا اسی امیدپر وہ وطن واپس بھی لوٹ آئے تھے۔ان کا خیال تھا کہ پاکستان میں طاقت سے طاقت چھیننے کا فیصلہ کن لمحہ آگیا ہے مگر یہ مغالطہ ہی ثابت ہواکیونکہ جمے جمائے نظام میں ایسا کسی بڑی اتھل پتھل کے بغیر ممکن نہیں ہوتااور اس چھینا جھپٹی میں ملک سول سٹرکچر سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ پارلیمانی سیاست کے اپنے آداب اور کلچر ہوتا ہے ۔اس سیاست میں انقلابی نعرے اور رنگ ڈھنگ ایک حد تک ہی چلتا ہے ۔یہ مفاہمت اور سمجھوتوں کی دنیا ہوتی ہے ۔یہاں منتخب لیڈر بھی مطلق العنان اور ظل ِسبحان نہیں سسٹم کا قیدی ہوتا ہے ۔قدم قدم پر چیکس اینڈ بیلنسز نے حکمران کے لئے سانس لینا تک دشوار کر رکھا ہوتا ہے ۔ اس لئے میاںنوازشریف کے جانثاروں اور ن لیگ کے عقابوں نے شہباز شریف سے چی گویرا بننے کی بے کار توقع وابستہ کئے رکھی۔ شہباز شریف چی گویرا بن تو جاتے مگر وہ پارلیمانی اور جمہوری سسٹم کے ساتھ چلنے نہ پاتے ۔ پارلیمانی اورجمہوری سسٹم ایک حد تک ہی انقلابیت کو ہضم کرتا ہے اس سے آگے وہ انقلاب اور انقلابی کو اُگل دیتا ہے ۔سید خورشید شاہ کی سپیکر شپ تک پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کا ساتھ چلنا اور شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ تک پہنچتے پہنچتے راستوں کا یوں جدا ہونا معنی خیز ہے کیونکہ یہ تاثر قائم ہے کہ آصف زرداری کا دل اب بھی میاںنوازشریف کے ساتھ دھڑک رہا ہے مگر مجبوریاں حائل ہیں۔ان مجبوریوں کے بہت سے نام ہیں۔ بلاشبہ خورشید شاہ ایک اچھے اور سینئر پارلیمنٹیرین رہے ہیں مگر انہوںنے ایک آئیڈیل اپوزیشن لیڈر کی طرح حکومت کو صحیح راستے پر رکھنے کی بجائے دوستانہ سٹائل اپنائے رکھا ۔اپوزیشن اگر متحرک اور جمہوری اصولوں کے مطابق کام کرے تو احتسابی اداروں کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی کیونکہ حزب اختلاف کا دوسرا نام حزب احتساب ہو تا ہے ۔عین ممکن ہے اس دوستانہ رویے کا صلہ عقابوں نے انہیں ووٹ کی صورت دیا ہو اور جس کے بعدانہوں نے شہباز شریف کو مشترکہ ووٹ اور امیدوار کے اعزاز سے محروم کرکے انقلابی بیانیہ آگے نہ بڑھانے کی سزا دینے کی حکمت عملی اختیار کی ہو۔ وگرنہ شہباز شریف کے ماضی کے بیانات اس قدر بھی قابل گرفت نہیں تھے کہ برسوں بعد پیپلزپارٹی انہیں سینے سے لگائے رکھتی ۔میثاق جمہوریت بھی جس ماحول اور فضاء میں ہوا تھا اس کے پیچھے تلخ ماضی کی یادوں کا اور تند وتیز جملوں کا بوجھ تھا ۔ سیاست میں سال دوسال پرانے بیانات کی فائلیں تلاش کرنے کا رواج کم ہی ہوتا ہے ۔اس کے باوجودمجبوریاں پیپلزپارٹی کی بھی تھیں اور شہباز شریف کی بھی اور یہ مشترکہ بھی تھیں۔مجبوریوں کے یہ بوجھ اُٹھا کر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میثاق جمہوریت کی راہ پرزیادہ دیر تک متحد ہو کر آگے بڑھتی نظر نہیں آتی مگر عمران خان کی حکومت اور اقدامات دوانتہائوں کو متحد کر سکتے ہیں اور یوں میثاق جمہوریت کے اُڑتے پرزوں میں تحریک انصاف کی حکومت کا امتحان بھی پنہاں ہے وہ ایک کرم خوردہ فائل اور ریزہ ریزہ کاغذ کو زندہ حقیقت بھی بنا سکتی ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ صدارتی انتخاب کا مرحلہ اور اس کے بعد آنے والے انتخابی اور پارلیمانی مراحل میں میثاق جمہوریت اور مفاہمت کی سیاست زندہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ چنگاری حالات کی راکھ میں دبی ہوئی تو ہے مگر بجھی نہیں۔

متعلقہ خبریں