Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امام ابن کثیر نے ''البدایہ والنہایہ''میں ہشام بن حسان سے نقل کیا ہے کہ حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ، اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی بیک وقت رہے ہیں ، جن میں تیس ہزار عورتیں ہوتی تھیں ۔ اس نے جو آخری قتل کیا ہے وہ عظیم تابعی اور زاہدوپارسا انسان حضرت سعید بن جبیر کا قتل تھا ۔ انہیں قتل کرانے کے بعد حجاج پروحشت سی سوار ہوگئی تھی ۔ وہ نفسیاتی مریض بن چکا تھا ، جب وہ سوتا تھا تو حضرت سعید بن جبیر اس کا دامن پکڑ کر کہتے تھے :اے دشمن خدا! آخرتونے مجھے کیوں قتل کیا ، میراکیا جرم تھا ؟ جو اب میں حجاج کہتا تھا مجھے اور سعید کو کیا ہوگیا ہے ، مجھے اور سعید کو کیاہوگیا ہے ۔ یہ وہ اندر کی آگ تھی جو جب بھڑک اٹھتی ہے تو امن وسکون سب کچھ راکھ کر دیتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی تھی ، جسے زمہریری کہا جاتا ہے ۔ سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھاجاتی تھی اور وہ کانپتا جاتا تھا ، آگ سے بھری ہوئیں انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتیں کہ اس کی کھال جل جاتی ، مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا ۔ حکیموں کو بلایا تو انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان (کینسر) ہے ۔ ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتاردیا، تھوڑی دیر کے بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت سارے کیڑے لپٹے ہوئے تھے ۔ حجاج جب مادی تدبیروں سے مایوس ہوگیا ، تو اس نے حضرت حسن بصریکو بلوایا اور ان سے دعا کی درخواست کی ، وہ آئے اور حجاج کی حالت دیکھ کر روپڑے اور فرمانے لگے ''میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا ، انہیں تنگ نہ کرنا ، ان پر ظلم نہ کرنا مگر تو باز نہ آیا''۔

آج حجاج باعث عبرت بنا ہوا تھا ۔ وہ اندر سے بھی جل رہا تھا اور باہرسے بھی جل رہا تھا ۔ وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا ۔

چنانچہ وہ حضرت سعید بن جبیر کو قتل کرنے کے بعد زیادہ دن تک زندہ نہ رہ سکا اور صرف چالیس دن کے بعد وہ بھی دنیا سے رخصت ہوگیا ، مگر حضرت سعید اور حجاج کی موت میں بڑا فرق تھا ۔ حضرت سعید کو شہادت کی موت نصیب ہوئی ، وہ ایسی آن بان سے دنیا سے رخصت ہوئے کہ بعد میں آنے والے مجاہدین کے لئے ایک سنگ میل قائم کر گئے ۔ وہ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کا دل مطمئن تھا اور چہرے پر تبسم تھا ، لیکن حجاج جب دنیا سے جارہاتھا ، اندر کی آگ میں جل رہا تھا ۔ چہرے پر ندامت تھی ، اسے اس کا ایک ایک ظلم یاد آرہا تھا ۔

اس واقعہ سے حاصل یہ نکلا کہ ظلم کا انجام ہمیشہ براہوتا ہے ، چنانچہ انسان زندگی کے کسی بھی موڑ پر ظالم نہ بنے ،رب تعالیٰ ہم سب کو ظلم سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

(سبق آموز واقعات)

متعلقہ خبریں