Daily Mashriq

 یو اے ای کو کسی بھی ملک سے اپنی مرضی کے تعلقات قائم کرنے کا حق ہے، وزیر خارجہ

یو اے ای کو کسی بھی ملک سے اپنی مرضی کے تعلقات قائم کرنے کا حق ہے، وزیر خارجہ

ملتان: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) یا کسی بھی ملک کو اپنی مرضی سے کسی بھی ملک کے ساتھ باہمی تعلقات قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔

یو اے ای کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیے جانے پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'بین الاقوامی تعلقات مذہبی جذبات سے بالاتر ہوتے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان سرمایہ کاری کے حوالے سے تعلقات کی تاریخ ہے تاہم میں جلد یو اے ای کے وزیر خارجہ سے ملاقات کروں گا اور انہیں مقبوضہ کشمیر کے حالات کے حوالے سے بتاؤں گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے تاہم بھارت امریکی ثالثی کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے دائر 7 درخواستوں پر نریندر مودی کے دباؤ کے بغیر فیصلہ کرنا چاہیے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'اگر بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں تاخیر کی تو یہ انصاف کا قتل اور انسانی حقوق کی پامالی ہوگی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دنیا مسئلہ کشمیر پر خاموش نہیں رہ سکتی اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کو مقبوضہ کشمیر کا بغیر کسی تاخیر کے فوری دورہ کرنا چاہیے'۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کو خط لکھ کر اپنا نمائندہ مقبوضہ کشمیر بھیجنے کا کہا ہے کہ تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کردار ادا کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم کمیشن کو آزاد کشمیر آنے کی بھی دعوت دیتے ہیں'۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے نمائندگان اور مسلم ممالک کے سربراہان کا اجلاس مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے منعقد ہونا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی کے بعد بھارت آر ایس ایس کے کارکنان کو وہاں بھیجنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔

بین الاقوامی برادری سے انہوں نے نئی دہلی کے فیصلے پر جاگنے کا کہا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 9 ستمبر کو جینیوا میں انسانی حقوق کے اجلاس میں شرکت کریں گے جہاں وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کے بارے میں دنیا کو آگاہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اسلامی تعاون تنظیم اور مسلم ممالک کے سربراہان کو مقبوضہ کشمیر میں مسجد کو بند کرنے کا نوٹس لینا چاہیے، کشمیری مسلمانوں کو جمعے کی نماز ادا نہیں کرنے دی گئی اور اس سے قبل انہیں عید الاضحیٰ پر قربانی کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی'۔

انہوں نے کہا کہ 'بھارت زمینی حقائق تبدیل کرنا چاہتا ہے، پوری دنیا نے کشمیر کے تنازع زدہ علاقہ ہونے کا اعتراف کیا ہے اور بھارت کا اس کی خصوصی حیثیت واپس لینے کا قدم غیر آئینی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل نے مسئلہ کشمیر پر بھارتی موقف کو مسترد کردیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'فی الوقت ترکی، ملیشیا اور تمام اسلامی ممالک پاکستان کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں، ایرانی قیادت نے کشمیری عوام کے حق میں واضح موقف اپنایا ہے اور اب تک میں نے متعدد اسلامی ممالک کے وزرا خارجہ سے رابطہ کیا ہے اور دیگر سے بھی رابطہ کر رہا ہوں، مجھے امید ہے کہ مسلم دنیا کشمیریوں کی حمایت کرے گی اور وہاں بھارتی بربریت کے خاتمے میں کردار ادا کرے گی'۔

بھارت کے اپوزیشن لیڈران کو کشمیر میں داخل ہونے سے روکنے پر ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے بھارتی جمہوریت کے پیچھے چھپی حقیقت عیاں کردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر مقبوضہ کشمیر میں کچھ بھی غلط نہیں ہورہا تو حکومت بھارتی سیاست دانوں کو وہاں جانے سے کیوں روک رہی ہے، اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے سوال کیا ہے کہ اگر کچھ چھپانے کو نہیں ہے تو وہاں سڑکیں کیوں بند کی گئی ہیں'۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مودی حکومت اپنے 5 اگست کے اقدام سے بھارت کو تقسیم کردیا ہے جبکہ پاکستان کو متحد ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے کشیدگی کے باوجود وہ سکھ برادری کو یقین دلانا چاہتے ہیں کرتارپور راہداری 11 ستمبر کو کھولی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم بھارتی سکھ برادری کا استقبال کریں گے اور پاکستان میں ہندو اور سکھ برادری سمیت دیگر اقلیتوں کو اپنے مذہبی فریضے ادا کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے'۔

شاہ محمود قرشی کا کہنا تھا کہ وہ اور وزیر اعظم 31 اگست کو عمر کوٹ جائیں گے جہاں وہ ہندو برادری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت بربریت کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔

متعلقہ خبریں