Daily Mashriq

ایف اے ٹی ایف اہداف کی تکمیل میں معاونت کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم

ایف اے ٹی ایف اہداف کی تکمیل میں معاونت کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے یکم دسمبر تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تمام تر اہداف کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے 12 ارکان پر مشتمل اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی۔

وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی سیکریٹری خزانہ، امور خارجہ اور داخلہ کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلقہ تمام اداروں کے سربراہان پر مشتمل ہو گی۔

کمیٹی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے رکن (کسٹم) اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کے ڈائریکٹر جنرل شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ پاک فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) کے 3 اعلیٰ عہدیدار بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

اس ضمن میں وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ ’کمیٹی ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے کی گئی حکومتی کوششوں کو مزید آگے بڑھانے کی پابند ہوگی‘۔

خیال رہے کہ مذکورہ کمیٹی کی تشکیل سے قبل وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ اور سیکریٹری خزانہ ایف اے ٹی ایف اور اس کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کی جانب سے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے مقرر کردہ اہداف کی تکمیل کے لیے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے سلسلے میں تمام اقدامات اور سرگرمیوں کی سربراہی کرتے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی، اے پی جی، امریکا اور ایف اے ٹی ایف، 3 سطح پر نگرانی کی جارہی ہے جو ایف اے ٹی ایف سے نکلنے کا فیصلہ کرے گی۔

اس ضمن میں اکتوبر کے وسط میں متوقع ایف اے ٹی ایف کے حتمی جائزے میں 10 رکنی ایکشن پلان پر خاطر خواہ کامیابی کے بعد حکام اس پر مکمل عملدرآمد کے لیے کچھ ماہ کا اضافی وقت حاصل کرنے کے لیے پر امید ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے مزید 2 تنظیموں، حزب الاحرار اور بلوچستان راجی اجوئی سنگر (براس) کو کالعدم قرار دے کر اس کے اراکین اور سرگرمیوں کی سخت نگرانی شروع کردی تھی جبکہ مذکورہ فہرست میں 71 تنظیمیں پہلے ہی شامل تھیں۔

یہ بات بھی مدِ نظر رہے کہ چند روز قبل ہونے والے جائزے میں اے پی جی نے عالمی مالیاتی میعارات پر پورا اترنے کے سلسلے میں پائی گئی تکنیکی خامیوں کی بنا پر پاکستان کا درجہ کم کر کے اسے ’مؤثر جائزے‘ کی فہرست میں شامل کردیا تھا۔

اس کے تحت پاکستان کو انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے سلسلے میں تکنیکی معیارات کو بہتر بنانے کے حوالے سے اے پی جی میں اپنی کارکردگی رپورٹ یکم فروری 2020 سے ششماہی کے بجائے سہہ ماہی بنیادوں پر جمع کروانا ہوگی۔

یاد رہے کہ جون میں ایف اے ٹی ایف نے بھی اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان نہ صرف جنوری تک کے لیے دیے گئے اہداف مکمل کرنے میں ناکام رہا بلکہ مئی تک کی مدت کے لیے مقرر کردہ ایکشن پلان پر بھی عمل نہیں کرسکا اور پاکستان پر زور دیا تھا کہ مذکورہ ایکشن پلان پر اکتوبر تک عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں