Daily Mashriq

حکومتی دعوے میں کتنی صداقت؟

حکومتی دعوے میں کتنی صداقت؟

اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوابی کے دورہ کے دوران اُتلا ڈیم اور پیہور ہائی لیول کینال کے توسیعی منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ عوام پی ٹی آئی کی حکومت کی پالیسیوں سے خوش اور مطمئن ہیں اور آج بھی پی ٹی آئی میں جوق در جوق شمولیت اختیار کر رہے ہیں‘ اگر اس حکومت سے کوئی پریشان ہے اور خفا ہے تو وہ ڈاکو اور بدعنوان ٹولہ ہے کیونکہ نظام کی شفافیت کی وجہ سے ان کی کرپشن اور لوٹ مار کے راستے بند ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے معاشی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکمرانوںکی غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ حکمرانی کی وجہ سے آج ہمیں شدید معاشی مشکلات کاسامنا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کو اقتدار کے حصول سے پہلے اور بعد میں سیاسی اور معاشی میدان میں غیر معمولی حالات کا سامنا کرنا پڑاہے تاہم خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا دور جب کہ مرکز میں ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے ‘ اس پورے دورانیے میں تحریک انصاف کی قیادت حالات کا ذمہ دار سابق حکمرانوںکو ٹھہراتی رہی ہے۔ اگر تحریک انصاف کی قیادت چاہتی ہے کہ وہ مزید کچھ عرصہ تک اسی راگ کو الاپتی رہے گی اور حالات کاذمہ دار سابق حکمرانوں کو ٹھہرا کر وقت گزارتی رہے گی تو ہم سمجھتے ہیں عوام تحریک انصاف کی اس بات پر یقین نہیں کریں گے ۔ جہاں تک تعلق ہے حکومتی نمائندوں کی جانب سے معاشی حالات میں بہتری کے دعویٰ کا تو عام شہری اس کی نفی کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ عام شہری کی نظر میں دو سال پہلے تک اس کے گھر کا بجٹ 25سے 30ہزار روپے میں بن جاتا تھا ‘ اس دوران آمدن میں تو کوئی کمی نہیں ہوئی لیکن اس کیلئے آج اس آمدن میں گھر کا بجٹ بنانا مشکل ہو گیا ہے‘ صرف یہی نہیں بلکہ ہر آنے والا دن غریب شہری کے لیے مشکل کا باعث بن رہا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی قیادت عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ موجودہ صورت حال عارضی ہے ‘ ملک جلد معاشی مشکلات سے نکل آئے گا مگر وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ مہنگائی کی موجودہ لہر کیسے تھمے گی۔ یہ درست ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت اپنی انتخابی مہم کے دوران ملکی قرضوں کے خلاف بیانات اور انہیں ملکی مفاد کے خلاف قرار دے کر اقتدار تک پہنچنے میںکامیاب ہوئی ، حصول اقتدار کے بعد معاشی صورتحال میں بہتری کے دعوے تو کیے گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشی صورتحال فی الحال سنبھلتی دکھائی نہیں دے رہی جب کہ قرضوں کا حصول بھی پہلے سے بڑھ چکا ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے سال کے دوران ہونے والے قرضوںمیں اضافہ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت کے دوران لیے گئے مجموعی قرضوں سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک کے معاشی حالات ناگفتہ بہ ہیں ۔ ایسے حالات میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکمران پوری قوم کو اس مشکل سے نبرد آزما ہونے کے لیے انہیں اصل حقائق بتا کر اپنے ساتھ ملاتے لیکن حکمران قوم سے حقائق چھپا کر سب اچھا کا دعویٰ کررہے ہیں۔ کیا حکمرانوں کے اس رویے سے عوام خوش ہوں گے، کیااس دعوے سے معاشی حالات کو درست ثابت کیا جا سکتا ہے؟

ایف بی آر کا ترمیمی فنانس بل 2019ء

پاکستان کی مالی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ سرکاری مشینری کی ٹیکس جمع کرنے کی ناقابلِ اعتبار صلاحیت ہے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر درجنوں ادارے ہیں جو پیداوار ‘ تجارت‘ درآمد برآمد‘ خرید وفروخت‘ تنخواہوں اوراملاک پر ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔ ہر محکمے کی ٹیکس مشینری نے سرکاری ضابطوں کے متوازی اپنے اصول اور ضابطے ترتیب دے رکھے ہیں ، المیہ یہ ہے کہ ان اداروں کے ہوتے ہوئے ہر سال پاکستان میں 5ہزار ارب روپے بدعنوانی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا بھرکے ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں ٹیکس ایک قومی فریضہ سمجھ کر ادا کیا جاتا ہے ‘ کیونکہ وہ لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں کہ وہ جتنازیادہ ٹیکس ادا کریں گے ‘حکومت کی طرف سے انہیں اتنی ہی زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں معاملات اس کے برعکس ہیں ‘ یہاں ٹیکس ادا کرنے کی بجائے ٹیکس چوری کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔ جہاں عوام ٹیکس ادائیگی میںکوتاہی برتتے ہیں وہاں حکومت کی طرف سے بھی ٹیکس جمع کرنے کا کوئی ٹھوس اورمؤثر طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدام اٹھایا ہے ‘انفرادی طور پر ٹیکس دینے والوں کے لیے نئے انکم ٹیکس گوشوارہ فارم کا اجراء سمیت نئے گوشوارہ فارم میں بیرون ملک جائیداد اور بینک اکاؤنٹس سمیت بچوں کے تعلیمی اخراجات اور تقریبات کے ادا کردہ بل کی تفصیلات بھی شامل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے‘ نئے گوشوارہ فارم میں کسی کو ملنے والے قیمتی تحائف کی مالیت بھی شامل کرنا ہو گی۔ امید کی جانی چاہیے کہ ایف بی آر کے ترمیمی فنانس بل 2019ء سے ٹیکس چوری کا سدباب ہو گا اور ٹیکس اکٹھا کرنے میں یہ ترمیمی بل معاون ثابت ہو گا۔

متعلقہ خبریں