Daily Mashriq

کشمیریوںپر بھارتی مظالم،عالمی برادری نوٹس لے

کشمیریوںپر بھارتی مظالم،عالمی برادری نوٹس لے

مقبوضہ وادی میں قابض بھارتی افواج کا لاک ڈاؤن چوتھے ہفتے میں بھی برقرار ہے،وادی میں ٹیلی فون ‘ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بالکل بند ہے‘ قابض بھارتی افواج کی جانب سے سخت کرفیو اور دیگر پابندیوں کے باعث انسانی المیہ جنم لینے کا خدشہ ہے‘ وادی میں بچوں کے دودھ ‘ ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہے۔ ان خدشات کے پیش نظر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس کو فون کر کے انہیں کشمیر کے موجودہ حالات سے آگاہ کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے کوکشمیریوںکی جانیں بچانے کے لیے آگے آنا ہو گا۔ جس کے جواب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کریں گے۔ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے جورپورٹس سامنے آ رہی ہیں وہ انتہائی افسوس ناک ہیں‘ اس لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کے نہتے لوگوں کو بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے اپنا کردار اداکرنا ہو گا کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں کئے گئے بھارت کے اقدامات کو پاکستان یا کشمیری عوام سمیت پوری دنیا سے درد دل رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ بھارتی اپوزیشن کے بہت سے رہنمابھی مسترد کر چکے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں اٹھائے جانے والے اقدامات اور سفارت کاری کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور دنیا پاکستان کی امن کی کوششوں کو تسلیم کر رہی ہے جب کہ دوسری جانب بھارت کی ہٹ دھرمی بھی دنیا پر عیاں ہو چکی ہے۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ عالمی برادری مصلحت کی چادر اُتار کرظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہے۔ اگر عالمی برادری نے اس نازک موقع پر بھی اپنی آنکھیں بندکیے رکھیں تو پھر خطے میںایک خوفناک جنگ کے امکانات بڑھ جائیںگے۔

ناظمین کیخلاف کارروائی کا اعلان

2015ء میں منتخب ہونے والی خیبر پختونخوا کی مقامی حکومتوں کی مدت 28اگست کو ختم ہو رہی ہے‘ اس موقع پر محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا نے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے ‘ قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی اور جعلسازی کرنے پر 8ناظمین کو معطل و نااہل قرار دینے کے لیے الیکشن کمیشن سے رابطے کا فیصلہ کیاہے۔ شفافیت کو برقرار نہ رکھنے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کی بنا پر ناظمین کے خلاف ضرور کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے کیونکہ منتخب عوامی نمائندے قومی خزانے کے امین ہوتے ہیں ۔ تاہم غور طلب پہلو یہ ہے کہ چار سال کے طویل عرصے میں ناظمین کی شفافیت جانچنے کے لیے کوئی اقدام نہ اٹھایا گیا اور اب جب کہ انکی مدت ختم ہونے میں محض دو روز باقی ہیں تو ان کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا کی جانب سے شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے اگر بروقت نگرانی کی جاتی تو قومی خزانے کے نقصان کو بچانے کے ساتھ ساتھ وقت کے ضیاع اور ناظمین کے خلاف کارروائی پر اٹھنے والے اخراجات کو بھی بچایا جا سکتا تھالیکن یہ اسی صورت ممکن تھا جب محکمہ بلدیات بیدار مغزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بروقت کارروائی کرتا ۔

آٹو انڈسٹری میں بحران کے معاشی نقصانات

حکومتی دعوؤں کے برعکس روپے کی قدر میںکمی کے اثرات ‘ انٹرسٹ ریٹ بڑھنے سے آٹو فنانسنگ کی شرح گھٹ جانے ‘ نیز کسٹمز ڈیوٹی بڑھ جانے سے ملک کی آٹو انڈسٹری کو شدید بحران کا سامنا ہے۔ گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی سے مقامی کار صنعت شدید مشکلات کا شکار ہے‘ آٹو سیکٹر میں آنے والی نئی سرمایہ کاری بھی منجمد ہو گئی ہے جس سے ملک میں آنے والے کئی بڑے برانڈز نے اپنے منصوبے التواء میںڈال دیئے ہیں۔ آٹو انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی فروخت میں 50فیصد کمی ہو چکی ہے اور صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ آٹو انڈسٹری کے بحران سے حکومت کو سالانہ 225ارب روپے کا نقصان ہو گا جب کہ 18لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع ختم ہو جائیں گے۔ گزشتہ ادوار میں پاکستان کی طرف سے یہ کوششیں کی گئیں کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان لایا جائے‘ اس ضمن میں توانائی بحران خاتمہ سمیت امن وامان کی صورت حال یقینی بنائی گئی ‘ آٹوانڈسٹری اور توانائی سیکٹر سمیت کئی ایک شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاروں کی پاکستان آمد ہوئی لیکن کیسی بدقسمتی ہے کہ ثمرات سے قبل ہی آٹو انڈسٹری بحران کاشکار ہو گئی ہے ۔ کیا یہ بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے دروازے مسدود کرنے جیسا معاملہ نہ ہو گا؟ حکومت کو بیرونی سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنے، سرمائے کے تحفظ کی یقین دہانی کروانے سمیت ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے کہ جس سے بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں