Daily Mashriq

معیشت کے مسئلے کو مت بھولیں

معیشت کے مسئلے کو مت بھولیں

پاکستان میں تو یہ معمول ہے تمام اہم اور توجہ طلب مسائل کو کسی ہنگامی صورتحال یا بڑے مسئلے کے سر اُٹھاتے ہی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اب چاہے یہ ہنگامی صورتحال قدرتاً رونما ہوئی ہو یا اسے جانتے بوجھتے برپا کیاجائے، ایک مسئلہ دوسرے مسئلے کو یکسر دبا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ہماری دگر گوں معیشت کشمیر میں کشیدہ صورتحال رونما ہونے کے بعد بالکل بھلا دی گئی ہے اور اب ہمارے ذرائع ابلاغ پر ہر سو مسئلہ کشمیر ہی چھایا ہوا ہے، معیشت فی الحال کوئی مسئلہ نہیں رہی۔

یہ سب ان کروڑوں لوگوں کو بتانا ضروری ہے جو انگریزی اخبارات پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس سوشل میڈیا کے مباحثوں پر اثر انداز ہونے کی سکت ہے ۔ یا ان تمام لوگوں کو جن کے لیے روز مرہ اخراجات پورے کرنا دوبھر ہو کے رہ گیا ہے، جن کے اخراجات آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور جنہیں ہر دم اپنے محدود ہوتے ذرائع آمدن کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ غم روزگار میں اُلجھے ان بیچاروں کے پاس اپنی آواز اُٹھانے کا موقع ہی کہاں ہے سو جب بھی یہ اپنے آس پاس حب الوطنی کے جذبات سے اُبلتے خون کا دباؤ محسوس کریں، فوراً بھارت مخالف کورس کے ہم نوا بن جاتے ہیں۔

دن بدن ابتر معاشی حالات سے پستے ان طبقات کی مشکل کی ایک وجہ یہ ہے کہ معیشت کے بڑے اور اجتماعی پیمانے پر کیے جانے والے تجزیے میں ان معاشی اوراقتصادی سرگرمیوں کو شامل ہی نہیں کیا جاتا جن کے ساتھ محروم طبقات وابستہ ہیں۔ یہ غیر رسمی یا شیڈو معیشت کہلاتی ہے۔یہ شیڈو اکانومی ہر معاشی بحران میں مورود الزام ٹھہرتی ہے کہ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے معاشی مسائل اسی وقت حل ہو سکیں گے جب یہ شیڈو اکانومی اپنے نقائص کو دور کر کے اپنے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات لائے اوراس کے ساتھ ملکی خزانے میں بھی حصہ ڈالنا شروع کرے گی۔

البتہ ہمارے ہاں انفارمل اکانومی کو سمجھنے اور پیش کرنے کے انداز میںکافی نقائص پائے جاتے ہیں۔ روایتی طور پر معیشت کے اس بڑے حصے پر بحث کرتے ہوئے ہمیشہ بات ان سیاستدانوں پر آ کر ختم ہوجاتی ہے جنہوں نے اپنے اثاثے چھپا کر ٹیکس ادائیگیوں میں ہیرا پھیری کی ہوتی ہے۔ اگرچہ اس پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے مگر ہمارے ہاں اس برتے کا استعمال معیشت کی بہتری کی بجائے سیاسی مخالفین کے گرد ذرا گھیرا تنگ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔اس کا مقصد کسی بھی طور ہمارے ملک میں رائج طبقاتی نظام کی بہتری نہیں ہوتی۔

غیر روایتی اقتصادی سرگرمیوں کا بیشتردارومدار ان کروڑوں غریب پاکستانیوں پر ہوتا ہے جو ملک بھر میں گھروں، فیکٹریوں،چھوٹے صنعتی مراکز اور ایسے دیگر چھوٹے شعبوں میں کام کر تے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد کاشتکاری یا بڑے شہروں میں مزدوری کرتی ہے۔ ان تمام اقتصادی سرگرمیوں میں مڈل مین اور حکومتی عہدہداروں کی طرف سے بڑے پیمانے پر استحصال ہونا معمول ہے۔ حکومت پرجب بھی اصلاحات کا بھوت سوار ہو ، ان معاشی سرگرمیوں پر افتاد آن پڑتی ہے۔ ان سرگرمیوں میںاصلاحات لانے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی بجائے انہیں جرم قرار دے کر تہس نہس کر دیا جاتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت کچی آبادیوں، گھروں اور کاروباری مراکز کو گرا دیا جاتا ہے اور لاکھوں مزدور اور کاشتکار، مڈل مینوں، تھانے اورکچہریوں کے اکٹھ کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ ان کے زخموں پر نمک تب چھڑکا جاتا ہے جب حکومت انہیںبے سر و پا کرنے کے بعد بنیادی اور روز مرہ کی چیزوں پر بھی بالواسطہ ٹیکس لاگو کر کے ان کی زندگی مزید اجیرن بنا دیتی ہے۔

غیر رسمی معیشت سے وابستہ بیشتر مالی سرگرمیاں ہمارے سرحدی علاقوں میں ہوتی ہیں۔ افغان اور انڈین بارڈر پر روزانہ کروڑوں کی معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں جس سے حکومتی محکمے صرف نظر کیے ہوئے ہیں۔ سرحدی علاقوں پریہ سرگرمیاں اس وقت بالکل ٹھپ ہوجاتی ہیں جب ملکوں کے درمیان حالات کشیدہ ہو ں مگر حالات معمول پر آنے پریہ سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوجاتی ہیں البتہ اس تمام عمل میں ترقی اور بڑھوتی کے جس قدر مواقع موجود ہیں ان سے مکمل طور پر فائدہ نہیں اُٹھایا جا رہا ۔

یہ بات قابل غور ہے کہ آئی ایم ایف جیسے عالمی مالی اداروں کی جانب سے ہماری ڈوبتی معیشت کوسہارا دینے کے لیے دی جانے والی امداد کے ثمرات نچلے طبقوں تک مکمل طرح کیوں نہیں پہنچ پاتے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان طبقات سے وابستہ لاکھوں افراد انفارمل اکانومی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان اداروں کی طرف سے جب بھی ہمیں سادگی اپنانے کا درس دیا جائے، حکومت کچھ اور کرے نہ کرے اپنے اقدامات کے ذریعے اس طبقے کا مزید استحصال ضرور شروع کر دیتی ہے جو پہلے ہی مڈل مینوں اور حکومتی ٹھیکے داروں کے جبر، دھونس اور دھوکے کے باعث اپنی محنت کے پورے صلے سے محروم رہتے ہیں ۔کشیدگی سے متاثر علاقوں میںبسنے والا مزدور ان اقدامات سے اور بھی متاثر ہوتا ہے۔

مختصر یہ کہ سرکاری اور نجی ایلیٹ طبقے سے متعلق افراد نے اپنے اپنے طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس انفارمل اکانومی کے نظام میں گہرے پنجے گاڑھ رکھے ہیں۔ حکومت کے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے بیانات کے بر عکس یہ مراعات یافتہ طبقات کسی طور بھی معیشت کے اس حصے کو قومیانے میں سنجیدہ نہیں کہ اس کی ان وسائل تک رسائی نا ممکن ہو جائے گی جو یہ طبقہ مظلوم اور بے کس غریبوں کی گردنوں پر پاؤں رکھ کے دبوچے بیٹھا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اس نظام کویونہی چلائے رکھنے میں سب سے بڑا فائدہ ان عہدہ داروں کو ہے جو ریاستی مشینری کا مستقل حصہ ہیں۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں