Daily Mashriq

گویا یہ بھی میرے دل میں تھا

گویا یہ بھی میرے دل میں تھا

عید ملن پارٹی کا رواج کب سے شروع ہوا اس سیدھے سادے سوال کا سیدھا سادا سا جواب یہی بنتا ہے کہ جب سے عید منانے کا آغاز ہوا عید ملن پارٹی منانے کا بھی رواج جاری و ساری ہے ، کہنے کو تو عید ہمارا مذہبی تہوار ہے لیکن اس کے لفظی یا لغوی معنی اس خوشی کے لئے جاتے ہیں جو لوٹ لوٹ کر آئے یا جسے بار بار منانے کا موقع ملے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایسا موقع سال میں دو بار ہاتھ آتا ہے۔ پہلا اس وقت جب وہ ماہ مقدس رمضان المبارک کے29 یا تیس روزے رکھ لیتے ہیں ، جن کا فطرانہ ادا کرنے کے بعد وہ عید الفطر کی نماز ادا کرنے کی غرض سے نئے کپڑے پہن کر عید گاہ یا جامع مساجد میں جاکر عید کی نماز ادا کرتے ہیں۔ اور اس کے فورا بعد ایک دوسرے سے گلے مل کر یا معانقہ کرکے عید ملنے کا ارمان پورا کرتے ہیں اور جب وہ اپنے گھر واپس لوٹنے لگتے ہیں تو راستے میں نظر آنے والے بچوں بالوں یا غرباء مساکین میں عیدیاں بھی بانٹنے لگتے ہیں۔ جب ہم ریڈیو پاکستان سے عید کے دن کا براہ راست پروگرام کرتے تھے اپنے سننے والوں کو ہنسانے کی غرض سے کہتے تھے کہ آج صبح سویرے منہ اندھیرے میرے مکان کے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا اور اپنے سامنے ایک بھلے مانس کو کھڑے پایا علیک سلیک کے بعد ان سے ان کے آنے کی وجہ پوچھنی چاہی لیکن انہوں نے میری کسی بات کو سننے یا اس کا جواب دینے کی بجائے جیب سے کچھ رقم نکالی اور میری طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ رکھ لو۔ جی یہ کیسے پیسے ہیں۔ اور یہ آپ مجھے کیوں دے رہے ہیں۔ یہ فطرانہ ہے۔ میری طرف بند مٹھی میں پکڑی رقم بڑھانے والے نے کہا۔ اس کی یہ بات سن کر میں سٹپٹا گیا۔ جی یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ یہ آپ مجھے کیوں دے رہے ہیں۔ یہ تو غریبوں کو دیا جاتا ہے۔ میں کوئی غریب تھوڑا ہوں جو آپ مجھے صدقہ فطرانہ سے نواز رہے ہیں۔ میں نے تھر تھراتی آواز میں کہا جس کے جواب میں حضرت کہنے لگے ’’تم وہی ہو نا جو ریڈیو میں پروگرام کرنے جایا کرتے ہو‘‘۔ جی۔ جی ہاں میں وہی ہوں میں نے جواب دیا جس کے جواب میری بات سن کر وہ صاحب کہنے لگے ، تو پھر رکھ لو نا فطرانہ کی یہ رقم۔ عیدالفطر کی صبح فطرانہ اورعید کی نماز کی ادائیگی کے بعد عید منانے والے اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں اور پھر گھروں میں پہنچ کرہر روز عید نیست کہ سویاں خورد کسے، کے مصداق سوئیاں شیر خرمہ مٹھائیاں بالو شاہیاں اور میٹھے پکوان کھانے لگتے ہیں۔ لیکن آج کل شوگر کی بیماری عام ہونے کی وجہ بہت سے لوگ جی بھر کر مٹھائیاں نہیں کھا سکتے ، لیکن وہ پھر بھی عیدالفطر کو میٹھی عید ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔ بڑی بھیڑ ہوتی ہے مٹھائیوں کی دکان پر کیونکہ لوگ جہاں کہیں اور جس کسی کو عید ملنے جاتے ہیں تو اپنے ساتھ مٹھائی کا ڈبہ یا فینسی کیک لیجانا نہیں بھولتے اور بعض اوقات تو وہ اپنے ہاں آکر ملنے والوں کی تواضع بھی ان ہی مٹھائیوں سے کرتے ہیں، جو عید ملنے والے ان کے لئے لے کر آئے ہوتے ہیں ۔ عید الفطر یا میٹھی عید کے دوران ایک ہاتھ دو دوسرے ہاتھ لو کے مصداق عید منانے والے ایک دوسرے کو ملنے کا قرض چکا لیتے ہیں۔ لیکن عید الاضحی کے دوران وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ سنت ابراہیمی کی تھکا دینے والی مشق انہیں ایسا کرنے نہیں دیتی سو وہ ایک دوسرے کو’بہانہ کوئی بہر ملاقات چاہئے ‘کے مصداق پر تکلف عید ملن پارٹی کا اہتمام کرڈالتے ہیں ، دو ایک دن پہلے کی بات ہے ، راقم السطور کو واپڈا ٹاؤن کے رہائشیوں کی آرگنائزیشن کے معززین کی جانب سے ایک ایسی ہی پر تکلف اور محبتوں کی شیرینیوں سے لبریز عید ملن پارٹی میں شمولیت کا شرف حاصل ہوا، عید ملن پارٹی کا اہتمام کرنے والے شاعر یا ادیب تو نہیں تھے البتہ سخن شناس اور قرطاس و قلم کے قدر دان ضرور تھے ، مجھے یوں لگا جیسے انہوں نے میرے گونگے لفظوں کو زبان بخشنے کے لئے مجھے بھی اس عید ملن پارٹی میں آنے کا نہ صرف موقع دیا ہو بلکہ میرے بولنے اوربولتے رہنے کے سیلف سٹارٹر کو دبا کر ایسی غلطی کر بیٹھے ہوں ، میں بولنے پر آیا تو اپنے سامنے کسی بھی قسم کا سپیڈ بریکر نہ پا کر بس بولتا ہی چلا گیا ،

بات پر واں زبان کٹتی ہے

وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

معلوم نہیں کتنی غزلیں نظمیں اور نثر پارے سناتا رہتا ان شامت کے ماروں کو اگر عید ملن پارٹی میں تشریف فر ما ایک باشرع سفید ریش حاجی اور نمازی بزرگ پکارنہ اٹھتے کہ’’ ہماری عشاء کی نماز قضا ہوگئی ہے ‘‘، اگر میں ان بزرگوار کو یہ بتانے لگتا کہ عشاء کی نماز توفجر کی آذان تک قضا نہیں ہوتی توتقریر کچھ زیادہ لمبی ہوجاتی ، سو ہم نے چپ رہنے میں عافیت جانی ، اور جب پیار اور محبت کی چاشنیوں سے بھر پور اس عید ملن پارٹی سے واپس گھر آکر سوشل میڈیا اٹنڈکرنے لگے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک کشمیرن خاتون کو بلک بلک کر روتے دیکھا جو ہماری غیرت کو للکار للکار کر کہہ رہی تھی، آپ نہتے اور مظلوم کشمیریوں کی مدد کو کیوں نہیں آتے ، مجھے یوں لگا جیسے وہ کہہ رہی ہوں کہ ہم پر کیا گزر رہی اور آپ ہیں کہ عید ملن پارٹیاں مناتے نہیں تھک رہے ، دل تو چاہتا تھا کہ ان کے اس گلے ، شکوے یا فریاد کے جواب میں ایک لمبی سی تقریر جھاڑ دیتا ، لیکن میرے اندر سے کوئی چیخ چیخ کر کہنے لگا کہ تقریریں کرنے کے سوا آتا بھی کیا ہے تم سب کو،

غم سے اٹی ہے ان کی ، تصویر جھاڑدے

اتنا اگر نہ ہوسکے ، تقریر جھاڑ دے

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا

متعلقہ خبریں