Daily Mashriq

محنت کا پورا حق کب ملے گا

محنت کا پورا حق کب ملے گا

جب بچے اپنی توتلی زبان میں بات چیت کرتے ہیں تو ان پر کتنا پیار آتا ہے یہ من کے سچے ہوتے ہیں جودل میں ہو وہی زبان پر ہوتا ہے انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کی کسی بات سے آپ کا دل بھی ٹوٹ سکتا ہے یہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں ان کی دوستیاں اور دشمنیاں تھوڑی دیر کی ہوتی ہیں ان کی دوستی میں کوئی غرض شامل نہیں ہوتی اسی طرح ان کی دشمنی بغیر نفرت کے ہوتی ہے انہیں آپ لڑتے دیکھیں گے لیکن اگلے ہی لمحے یہ ایسے کھیل رہے ہوتے ہیں جیسے ان میں کبھی لڑائی نہ ہوئی ہو۔ بچوں اور ہمارے موجودہ دور کے سیاستدانوں میں بہت سی باتیں مشترک ہیںہمارے سیاستدانوں کی لڑائیاں بھی بچوں جیسی ہوتی ہیں یہ ایک دوسرے کے خلاف بڑے بڑے بیانات دیتے ہیں ایک دوسرے کا کچا چٹھہ کھول کر رکھ دیتے ہیں لیکن پھر کسی مناسب وقت پر ایک دوسرے کو گلے لگارہے ہوتے ہیں۔ جب اپنے دل کی بات میاں جی سے کی تو وہ بڑے زور کا قہقہہ لگا کر کہنے لگے جناب یہ ہاتھی کے دانت ہیں کھانے کے اور دکھانے کے اور ! ان سیاستدانوں کی ضرورتیں انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہیں آپ انہیں ہر گز بچہ نہ سمجھیں !سیاستدانوں نے تو ایک تاریخی جملہ بول کر بات ختم کر رکھی ہے کہ سیاست میںتو کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔آپ بے شک گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہیں عوام سے کیے گئے سارے وعدے بڑے آرام سے بھلا دیں۔ سیاسی جماعتیں ہر روز بدلتی رہیں رام بھلی کرے گا۔میاں جی کی بات سن کر سوچ میں پڑ گئے ذہن پر زور ڈالا تو ایسے بہت سے واقعات یاد آنے لگے جن میں بوقت ضرورت برسوں کے بچھڑے پھر سے ایک ہو گئے تھے اور اس قسم کی صلح سے دونوں فریقوں کوفائدہ ہی ہوتا ہے لیکن عوام بیچارے یہی مصرعہ الاپتے نظر آتے ہیں ۔ ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے اور سچ پوچھئے تو ہمیں فکر بھی عام آدمی ہی کی ہے۔یوں تو ہم سب ہی عام ہی ہیں خاص لوگ تو ہر دور میں بڑے کم ہی ہوا کرتے ہیں خاص سے ہماری مراد صاحب کردار لوگوں سے ہے اور جب ہم عام آدمی کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ سب لوگ ہوتے ہیں جو بے اختیار ہیں جنہیں رات دن یہی فکر کھارہی ہوتی ہے کہ اگر بجلی کے نرخ میں مزید اضافہ ہوگیا تو ہم بل کیسے ادا کریں گے جو صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اخبارصرف اس لیے دیکھتے ہیں کہ کہیں اشیائے صرف کی قیمتوں میں مزید اضافہ تو نہیں ہوگیا۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو بڑی مشکل سے زندگی کی گاڑی کو کھینچتے ہیں اگران کے گھر میں کوئی بیمار ہو جائے اور انہیں محترم ڈاکٹر صاحب کی ہدایت کے مطابق دو چار ٹسٹ کروانے پڑ جائیں تو پھر ان کی تنخواہ کم پڑ جاتی ہے اور انہیں بہ امر مجبوری کہیں سے کچھ رقم بطور قرض لینی پڑتی ہے ان کی سوچوں کا محور گھر کا کرایہ بجلی اور گیس کے بل ہی ہوتے ہیں اور یہ ساری زندگی اسی تکون کے تین کونے ناپتے گزار دیتے ہیں۔ عام آدمی بینک کے سامنے ایک طویل قطار میں بل جمع کروانے کھڑا نظر آتا ہے اسے دیکھنا ہوتو عوامی ٹرانسپورٹ میں سفر کیجیے اس سے آپ کی ملاقات ہو جائے گی کبھی کسی تانگے میں سفر کر کے دیکھئے اور دوران سفر تانگہ بان سے کچھ گپ شپ لگائیے تو آپ جان لیں گے کہ عام آدمی کسے کہتے ہیں اور اس کے کیا مسائل ہیں۔سائیکل پر سوار ایک بڑے سے تھیلے میں خطوط کا ڈھیر ڈالے کسی ڈاکیے سے تھوڑی دیر مل کے دیکھ لیجیے آپ عام آدمی اور اس کی ضروریات سے باخبر ہو جائیں گے۔ عام آدمی وہ ہے جو صبح سویرے چائے کی ایک پیالی سوکھی روٹی کے ساتھ نوش جاں کر کے گھر سے نکلتا ہے تو بچے سوئے ہوتے ہیں اور جب دن بھر کی محنت ومشقت کے بعد رات گئے گھر لوٹتا ہے تو اس وقت بھی بچے سوئے ہوتے ہیں ہمارا تو یہی خیال ہے کہ زندگی کا شعور عام آدمی کے ساتھ مل کے ہی ہوتا ہے بڑی بڑی پر آسائش رہائش گاہوں کے ٹھنڈے ٹھار ماحول میں حقیقی زندگی کا ادراک کب ہوتا ہے ؟عام آدمی کے مسائل تو اسی وقت سمجھ میں آتے ہیں جب ان کے قریب ہوا جائے انہیں اپنے سینے سے لگایا جائے اور یہ آپ کی محبت کی تپش محسوس کرکے جب اپنے دکھی شب وروز کا ذکر کرتے ہیں تو تب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ عام آدمی کن مسائل میں جکڑا ہوا ہے زندگی کے تلخ حقائق سے یہ کس طرح نبرد آزما ہے وہ کون سی محرومیاں ہیں جو اسے شب وروز بے چین و بے قرار رکھتی ہیں ۔ ایک دن ایک ادارے کا چوکیدار کہنے لگا کہ آپ اخبار میں کالم لکھتے ہیں اس میں کچھ میری طرف سے بھی لکھیں ہم نے کہا بابا جی آپ ہمیں بتائیں ہم ضرور لکھیں گے آپ کی طرف سے کیا لکھا جائے؟ تو وہ بڑی معصومیت سے کہنے لگا کہ آپ لوگوں سے ایک سوال پوچھئے کہ غریب آدمی تو بہت سارے کام کرتا ہے مثلاٌ شدید گرمی میں تندور پر روٹیاں بھی پکاتا ہے، جھلسادینے والی دھوپ میں سڑک کے کنارے بیٹھ کر روڑی بھی کوٹتا ہے، اپنے کاندھے پر رسی ڈالے مزدوری کی تلاش میں رہتا ہے اور پھر بڑے بڑے بوجھ اٹھا تا ہے، سارا دن یہ کرو وہ کرو کی صدائیں اس کے کان میں پڑتی ہیں اور یہ آواز سنتے ہی بھاگ بھاگ کر ان احکامات کی تعمیل میں لگا رہتا ہے، بابا جی بچوں کے جوتے پالش کردو انہیں سکول سے دیر ہو رہی ہے، بچوں کے بیگ اٹھا کرانہیں بس تک چھوڑ آئو، دفتر میں سارا دن بھاگ دوڑ کرتا رہتا ہے مہمان آرہے ہیں جارہے ہیں یہ ان کے لیے چائے بناتا ہے (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں