Daily Mashriq

ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں

ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں

موجودہ حالات کے تناظر میں ماضی کو کریدنا پڑے گا‘ جب ملک میں صرف ریڈیو ہی ابلاغ کا ایک موثر ذریعہ ہوتا تھا‘ باقی اخبارات ہوتے تھے مگر انہیں پڑھنے والوں کی تعداد بھی محدود ہی ہوتی تھی۔ جب اس حوالے سے میں 50ء کی دہائی کے نصف آخر میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہوں تو غالباً 1955ء اور ما بعد ہمارے تعلقات افغانستان سے کچھ اتنے خوشگوار نہیں تھے اس لئے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان دنوں ریڈیو کابل سننے پر بندہ مشکلات کا شکار ہوسکتا تھا۔ اس دور میں راقم چھٹی ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ چونکہ میرے والد صاحب کا تعلق سیاست سے بڑا گہرا ہوتا تھا اس لئے ہمارے گھر میں نہ صرف ریڈیو پاکستان‘ بی بی سی‘ آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو کابل ضرور سنا جاتا بلکہ پھر شام سے رات گئے تک والد صاحب‘ چچا اور محلے کے کچھ دیگر عزیز رشتہ دار ’’حالات حاضرہ‘‘ پر ان نشریاتی اداروں کے نیوز بلٹن پر تفصیل سے گفتگو کرتے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ رات 9 بجے تک ان کی محفلوں میں بیٹھنے کی اجازت ہوتی تھی۔ اسی دور کی بات ہے کہ گشت پر مقرر سپاہی ہر اس گھر کے دروازے پر کان جما کر یہ سننے کی کوشش کرتے کہ کہیں ریڈیو کابل تو نہیں سنا جا رہا کیونکہ کابل ریڈیو سے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کیا جاتا جس کا جواب ریڈیو پاکستان کے بعض پروگراموں میں بڑے موثر انداز میں دیا جاتا اور خاص طور پر ایک پروگرام ’’ د حق آواز‘ د بیدارئی اعلان‘‘ جس کا مسودہ اس زمانے میں اجمل خٹک تحریر کرتا تھا۔ اس کی بڑی دھوم تھی مگر اس کے باوجود ریڈیو کابل سننے پر ایک غیر اعلانیہ پابندی عائد تھی۔ یہ الگ بات تھی کہ عام لوگ اس دور میں اس قسم کے پروپیگنڈہ پروگراموں سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے تھے اور غیر جانبدار خبروں اور تبصروں کے لئے عموماً بی بی سی کی اردو سروس کو ہی قابل اعتماد سمجھتے تھے۔ حالات نے انگڑائی لی تو 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران کچھ حب الوطنی کے جذبات اور کچھ اس دور کے ریڈیو پاکستان کی مربوط پالیسی نے ریڈیو پاکستان کی اہمیت کو دو چند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب بھارت کے مقابلے میں ریڈیو پاکستان نیوز بلٹن میں استعمال کئے جانے والے نپے تلے الفاظ اور نیوزریڈروں کے دبنگ انداز نے نہ صرف آل انڈیا ریڈیو کو بہت زک پہنچائی اور اس کے جھوٹ کا پردہ مسلسل چاک کیا جاتا رہا بلکہ بی بی سی کے اس وقت کے پاک و ہند کے لئے کام کرنے والے نمائندے کے بھارت کی طرف جھکائو نے بی بی سی کے غبارے سے بھی ہوا نکال دی تھی کیونکہ ریڈیو پاکستان کے نیوز بلٹن میں جو حقائق بتائے جاتے عام لوگ انہیں ہی قابل اعتماد سمجھتے ہوئے ان کو اہمیت دیتے۔ تاہم اس کے بعد صورتحال میں بہت تبدیلی آئی‘ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا اور نہ صرف ملک میں ٹی وی کی نشریات شروع ہوچکی تھیں بلکہ ریڈیو پاکستان نے 1965ء کی جنگ کے دوران جو اعتماد حاصل کیاتھا ایوبی آمریت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستانی نشریاتی اداروں نے حکومت کے حق میں یک طرفہ پروپیگنڈے کے ذریعے اسے کھو دیا تھا اور عوام نہ صرف ریڈیو پاکستان کے نیوز بلٹن کو اعتبار بخشنے کو تیار نہیں تھے بلکہ پی ٹی وی کے رات 9بجے کے خبر نامے کو تو باقاعدہ ’’ وزیر نامہ‘‘ کہتے تھے کیونکہ اس کی ابتداء صدر ایوب خان کے نام اور کارناموں سے ہوتی اور درمیان میں مختلف وزراء کی کارکردگی کے علاوہ حکومتی اقدامات کے تذکرے سے بھرپور خبروں پرمبنی اختتام تک پہنچتی۔ ایک مدت تک اپوزیشن کا تو سرے سے خبر نامے میں کوئی وجود ہی نظر نہ آتا یعنی بقول غالب

ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں

غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں

تاہم بعد میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کاتذکرہ صرف منفی انداز میں کیاجانے لگا اور ان کے حوالے سے کوئی خبر شامل کی بھی جاتی تو ایسے کہ انہیں عوام کی نظروں میں مطعون ہی کیا جاتا۔ یوں وہ دورایک بار پھر لوٹ آیا کہ لوگوں نے غیر جانبدار خبروں اوردیگر معلومات کے حصول کے لئے ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی پر تکیہ کرنے کی بجائے بی بی سی‘ وائس آف امریکہ‘ وائس آف جرمنی‘ آل انڈیا ریڈیو پر اعتماد کرنا شروع کردیا تاکہ اصل اور مستند خبریں حاصل کرسکیں۔ ہاں البتہ ریڈیو اور پی ٹی وی کی دیگر نشریات میں بڑی دلچسپی لی جاتی۔ اس دوران میں ملک کے اندر بھی نہ صرف ایف ایم ریڈیو نشریات کا ایک طوفان امڈ آیا ہے بلکہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی ایک کہکشاں آباد ہوگئی ہے مگر بد قسمتی سے ایک تو خود ان ٹی وی چینلز نے ریٹنگ کے چکر میں نہ صرف اپنے نیوز بلٹن بلکہ حالات حاضرہ کے ٹاک شوز کو خود اپنی ہی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ’’ نشریاتی اعتبار‘‘ سے انتہائی پست ترین سطح پر پہنچا دیا ہے اور ہر چینل کے نیوز اور ٹاک شوز میں ایک ہی قسم کے خیالات کی ’’ قے‘‘ ہونے لگی ہے اور کچھ دیگر عوامل کی وجہ سے مختلف چینلز پر ہر لحظہ پابندیوں کی لٹکتی تلوار نے ان پروگراموں کو ماضی کے پی ٹی وی کی نشریات کی سطح پر پہنچا کر ان پر سے عوام کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔ ایک عرصے تک کراچی کے ایک بھائی نے پورے ملک کے چینلز کو دھونس اور دھمکیوں سے مطیع بنائے رکھا اور موصوف کی چھ چھ گھنٹے کی تقاریر بنا ایک لمحے کے تعطل کے دکھانا ان چینلز کی مجبوری تھی۔ یہ تو عدالت عالیہ نے مہربانی کی ہے اس کے منہ کو لگام دلوا کر چینلز والوں کی جان چھڑائی۔ مگر اب ایک ادارہ وہی کام بعض حلقوں سے ملنے والے زبانی احکامات پر کرتے ہوئے جب چاہتا ہے (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں