Daily Mashriq

چیئر مین سینٹ کا انتباہ

چیئر مین سینٹ کا انتباہ

چھ ملکی سپیکرز کانفرنس منعقدہ اسلام آباد نے مشترکہ اعلامیہ میں قرار دیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب‘ قومیت ‘ تہذیب اور نسلی گروہ سے منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ داعش خطے کی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ خطے میں روابط سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی جبکہ بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بہتری آئے گی۔ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل پائیدار امن کے لئے نا گزیر ہے۔ مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ ادھر چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی نے نائب امریکی صدر مائیک پینس کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ اب پاکستان کی د وسروں سے نوٹس لینے کی عادت نہیں رہی۔ وہ اسلام آباد‘ دہشت گردی مسائل اور بین العلاقائی روابط کے عنوان سے منعقد ہونے والی پہلی 6ملکی سپیکرز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں پاکستان‘ چین ‘ روس‘ افغانستان‘ ایران اور ترکی کے سپیکرز اسمبلی نے اپنے پارلیمانی وفود کے ساتھ شرکت کی۔ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ امریکہ پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اسے اب دوسروں سے ہدایات لینے کی عادت نہیں رہی۔ چاہے وہ ہدایات امریکہ سے ہی کیوں نہ آئیں۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنے والی امریکہ کی نئی قومی سلامتی پالیسی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ اسرائیل اور بھارت پر مشتمل ایک نیا گٹھ جوڑ ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ حال ہی میں افغانستان میںقائم بگرام کے امریکی فوجی اڈے پر خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر مائیک پینس نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔ تاہم یہ دن ختم ہوگئے ہیں اور اب امریکی صدر نے پاکستان کو نوٹس پر رکھ لیا ہے۔ امریکی نائب صدر کے اس خطاب کو پاکستان کے اندر سیاسی اور سفارتی سطح پر دھمکی کے طور پر لیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک نے بھی دہشت گردی کے حوالے سے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور چھ ملکی سپیکرز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ سے بھی اسی بات کا اظہار ہوتا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے پیچھے کونسی قوتیں سر گرم ہیں۔ میاں رضا ربانی نے امریکی دھمکیوں کا مسکت جواب دیتے ہوئے ان قوتوں کی نشاندہی بھی کردی ہے جو جنوبی ایشیاء میں حالات کو بگاڑنے کا مکروہ دھندہ کر رہی ہیں۔ دراصل یہ امریکہ ہی ہے جس نے نائن الیون سانحے کی آڑ میں پہلے افغانستان پر جنگ مسلط کی اور اس سے پہلے روسی افواج سے کابل کو چھٹکارا دلا کر اس نے جس طرح افغان جنگجوئوں کے ساتھ ساتھ دیگر اسلامی ممالک سے جہاد کے نام پر وہاں سے ان ملکوں کے نا پسندیدہ افراد کو لا کر جنگ کی آگ میں جھونک دیا تھا اور انہیں مجاہدین کا ٹائٹل دے کر اپنے مقاصد کی تکمیل کی مگر مقاصد حاصل کرنے کے لئے ان کو بے سہارا چھوڑ کر چلتا بنا جبکہ ان لوگوں کے لئے واپسی کا راستہ بھی بند ہو چکا تھا اس کے نتیجے میں یہ لوگ پاکستان اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں پھیل کر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوگئے۔ اسی دوران پہلے امریکی ایماء پر مبینہ طور پر القاعدہ جیسی تنظیم قائم کی گئی جس نے بالآخر امریکی اقدامات کے خلاف جدوجہد شروع کردی اور اب اس بات پر بھی عالمی سطح پر یہ سوچ ابھر رہی ہے کہ داعش کے قیام میں بھی امریکہ ہی ملوث ہے جس کے ذریعے اسلامی دنیا میں شورش برپا کرکے نہ صرف امریکہ اسلام کو بدنام کررہا ہے بلکہ جنوبی ایشیاء کو تیسری عالمی جنگ کا میدان بنانے کی کوششیں بھی کر رہا ہے اوراس مقصد کے لئے ایک جانب اس نے امریکی سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کرکے اسلامی دنیا میں بے چینی اور کرب پیدا کردی ہے بلکہ بھارت اور اسرائیل کے ساتھ مل کر وہ جنوبی ایشیاء میں جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے کی مذموم حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے۔ افغانستان میں داعش کی موجودگی کے حوالے سے جس قسم کی خبریں آرہی ہیں ان کا مقصد نہ صرف پاکستان کے اندر جنگ بھڑکانا ہے بلکہ پاکستان کے جوہری اثاثوں پر قبضہ کرنا ہے اور سی پیک کے منصوبے کو بھی بھارت کے ساتھ مل کر سبو تاژ کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے ابھی دو دن پہلے امریکی سفیر کے منہ سے اصل بات ’’بلی تھیلے سے باہر‘‘ والے مقولے کی عکاس ہے کہ سی پیک کے ٹینڈرز میں ہمیں نظر انداز کرنا زیادتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی ایماء پر چھیڑی گئی نام نہاد جنگ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دینے کے باوجود امریکی صدر اب بھی پاکستان سے ڈو مور کے تقاضے کر رہا ہے تاہم اصل گیم وہی ہے جس کی جانب چیئر مین سینٹ نے اشارہ کیا ہے۔ مگر اب امریکی انتظامیہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ پاکستان مزید ڈکٹیشن لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں