Daily Mashriq

افغانستان داعش کی آماجگاہ

افغانستان داعش کی آماجگاہ

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے اندازے کے مطابق شدت پسند تنظیم داعش کے لگ بھگ دس ہزار عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہیں ، اور کیونکہ شام اور عراق سے فرار ہونے والے جنگجو بھی جنگ سے تباہ حال اس ملک کا رخ کررہے ہیں اس لئے یہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ، روس کے ذرائع ابلاغ نے روسی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ضمیر کا بلوف کے حوالے سے کہا ہے کہ ماسکو خاص طور پر تاجکستان اور ترکمانستان کے ساتھ واقع شمالی افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی آماجگاہوں پر فکر مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکوتو اتر سے یہ معاملہ اقوام متحدہ اور نیٹو کے سامنے اٹھا رہا ہے لیکن اس بارے میں اسے تاحال کوئی واضح رد عمل موصول نہیں ہوا ، کابلوف کا کہنا تھا کہ خاص طور پر افغان صوبوں جوز جان اور سرپل میں صورتحال تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہاں مقامی افراد نے بھی داعش سے وابستہ الجزائراور فرانسیسی عسکریت پسندوں کو دیکھا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے اس قسم کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ داعش کے ان مبینہ جنگجوئوں کو افغانستان کی سرزمین پر پہنچانے میں بغیر کسی شناخت والے ہیلی کاپٹروں کا اہم کردار ہے جبکہ ان کی افغان شاخ کو مغربی آلات کی فراہمی بھی انہی بے نام ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کی جارہی ہے ، جبکہ اب روسی ذرائع نے بھی اسی بات کی تصدیق کر دی ہے۔ اس ضمن میں ان گمنام ہیلی کاپٹروں کی اڑان کے حوالے سے افغان سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کی جانب اشارے کئے جاتے رہے ہیں۔ یادرہے کہ یہ جنگجو افغان سرزمین پر بیٹھ کر نہ صرف انڈیا کے قائم کردہ (کلھبوشن نیٹ ورک ) کے ساتھ تعاون سے پاکستان کے اندر شورش پھیلانے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں بلکہ افغانستان کے دیگر ہمسایوں کیلئے بھی مشکلات پیدا کررہے ہیں ،اور جس طرح افغانستان میں شکست سے دوچار ہو کر نیٹو ممالک نے اپنی فوج واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا جس میں امریکا بھی شامل تھا مگر بعد میں امریکی انتظامیہ نے اچانک مکمل انخلا ء کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے اپنے کچھ فوجی وہاں رکھنے پر اصرا رکیا تھا کہ افغانستان کے قدرتی وسائل پر قبضہ بھی کیا جائے اور ساتھ ہی اس خطے میں اپنے مفادات کو تحفظ دلایا جائے ، اور اب اس نے داعش کویہاں لا کر بٹھا دیا ہے تاکہ مستقل شورش سے خطے کے ممالک کو اپنے اشاروں پر ناچنے پر مجبور کیا جائے ، اس لئے خطے کے ممالک کو اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت وقت کا تقاضا ہے ۔

صرف باچان خان یونیورسٹی کیوں ؟

ضلع چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کیمپس کی حد ود میں طلباء اور طالبات کے اکٹھے بیٹھنے اور پھرنے پر پابندی عاید کر دی ہے ۔ ایک برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ چند روز پہلے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیا گیا ، جس کے مطابق یونیورسٹی کی حدود میں طلباء وطالبات کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے یا طالبات کا یونیورسٹی کے مرد ملازمین کے ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ کیمپس کی حدود میں سگریٹ نوشی کرنے ، چھتوں پر چڑھنے اور داخلہ لینے والے نئے طلبہ کے ساتھ ہنسی مذاق (فولنگ) کرنے پر بھی پابندی عاید کر دی ہے ، جہاں تک باچا خان یونیورسٹی میں طلبہ اور طالبات کے ایک ساتھ بیٹھنے ، گھومنے پھرنے پر پابندی کا تعلق ہے اس حوالے سے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ ہماری روایات کیاہیں ، یقینا یونیورسٹی ایک مخلوط تعلیمی ادارہ ہوتا ہے جہاں لڑکے اور لڑکیاں کلاسوں میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں اس لئے اصولی طور پر ان کے ساتھ بیٹھنے یا گھومنے پھرنے پر کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہیئے ، تاہم بد قسمتی یہ ہے کہ بعض لوگ اس قسم کی آزادی کی آڑ میں اپنا مذموم کھیل کھیلنے کی جس طرح کوشش کرتے ہیں اس سے ہماری سماجی روایات کو دھچکا لگتا ہے اور ان پر آنچ آتی ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر پشاور کی ایک نجی یونیورسٹی کی ویڈیو وائر ل ہورہی ہے جس میں لڑکوں کی موجو د گی میں ایک طالبہ کے بیلے ڈانس سے جو سوال اٹھ رہے ہیں وہ تشویشناک ہیں۔ تعلیمی اداروں میں یوں مخلوط محفلوں میں اس اس قسم کے مظاہرے پختون معاشرے کی روایات کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہیں ، یہاں یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ آج سے کئی برس پہلے جب عبدالعلی خان پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے تو انہوں نے دونوں صنفوں کیلئے آنے جانے کو سڑک کے ایک جانب ممنوع قرار دیا تھا اور لڑکے ایک جانب کے فٹ پاتھ جبکہ لڑکیاں سامنے دوسری جانب کے فٹ پاتھ پر آتی جاتی تھیں ، اس لئے اگر باچاخان یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا تو اس پر زیادہ سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے اصلاح احوال کیلئے ایک بہتر فیصلہ سمجھ کر اسے قبول کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں