Daily Mashriq


کیسی باتیں کرتے ہیں ؟

کیسی باتیں کرتے ہیں ؟

یہ سب ہی عوام کے اور اس ملک کے خیر خواہ ہیں تو پاکستان کا یہ حال کیونکر ہے ؟ ہر پاکستانی ایک لاکھ سے زائد کا مقروض ہے ۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کا شکار ہے خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔ انہیں ایک ڈالر فی دن بھی کئی بار میسر نہیں ۔ صاف پانی کی سہولت بھی آبادی کی اکثریت کو حاصل نہیں ۔ تعلیم کے نام پر بے شمار بجٹ میں اضافے کے باوجود پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سکولوں میں داخلے کی شرح کم ہورہی ہے اورسکولوں سے بچوں کے وقت سے پہلے نکالے جانے کی شرح میں بھی کوئی کمی نہیں ۔ یہ ایک ایسا کمال ہے ملک جس کے سیاست دانوں کی باتیں سن کر ارسطو اور افلاطون کو بھول جانے کو دل کرتا ہے لیکن اس سب کے باوجود اس ملک کی کوئی ٹرانسپورٹ پالیسی نہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس پالیسی کو بنانے کے لیے بے شمار روپیہ خرچ کیا گیا ۔ اس ملک میں سیاست دانوں کے دعوے سن کر لگتا ہے کہ ہمارے والدین ہمارے لیے ایسے بھلے کی باتیں نہیں سوچ سکتے ۔لیکن اس سب کے باوجود اس ملک میں سی پیک کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی تحقیق اور اعدادو شمار ہی موجود نہیں ۔ احسن اقبال کی باتیں سُن کر دل چاہتا ہے کہ بس اس ملک کے مستقبل کے حوالے سے ہر فیصلہ وہی کیا کریں ۔ہم گزشتہ مسلم لیگی حکومت تک یہ سمجھتے تھے کہ ان جیسے لوگوں کو اگر موقع دیا جائے تو وہ بہت کچھ تبدیل کر سکتے ہیں ۔ اس حکومت میں انہیں وہ موقع مل گیا جس کی امید ہم لگائے بیٹھے تھے ۔ سی پیک کے حوالے سے جب احسن اقبال نے بات چیت شروع کی تو ہم میں سے اکثر کا خیال تھا کہ وہ یقینا انتہائی تحقیق کے بعد اکثربات چیت کر رہے ہونگے اس لیے اگر وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے تو اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ ہوگی ۔ یوں بھی ضروری ہے کہ پاکستان کو دوست اور دشمن کی پہچان ہو جائے اور وہ اپنی ترجیحات اس پہچان کے نتیجے میں مرتب کرے ۔ امریکہ پاکستان کا کبھی دوست نہیں ہوسکتا۔ اس بات پر اس ملک کے عوام مکمل یقین رکھتے ہیں اور اس یقین کااظہار انہوں نے کئی بار کیا۔ خیبر پختونخوا میں مذہبی جماعتوں کی حکومت اسی امریکہ مخالفت نعرے کی پذیرائی کا نتیجہ تھی۔ حکمرانوں کو ہی بس یہ بات سمجھ نہ آتی تھی۔ سی پیک کی پذیرائی پاکستان میں اس لئے بھی ہونے لگی کیونکہ عوام کو یہ احساس ہونے لگا کہ شاید حکمران اس حقیقت کو پاگئے ہیں۔ احسن اقبال چونکہ اس سارے منظر میں اہم اور بنیادی کردار کی حیثیت سے سامنے آرہے تھے اس لئے ان سے وابستہ امیدیں اور بھی بڑھنے لگیں۔ دل اوب جانے لگے غیر یقینی اور مایوسی نے دل میں گھر کرلیا۔ احسن اقبال کے چہرے کی سنجیدگی میں مسلم لیگ(ن) کی سیاست کی جھلک دکھائی دینے لگی اور یہ محسوس ہونے لگا کہ سیاست دان کبھی پاکستان کے وفادار نہیں ہوسکتے۔ یہ صرف اپنے مفادات کی سیاست کرتے ہیں۔ اپنے مفادات کو اپنی ترجیحات کا مرکز رکھتے ہیں۔ انہیں اس ملک کے عوام کی بھلائی اور بہتر مستقبل سے کوئی نسبت نہیں۔ سی پیک جیسا بڑا منصوبہ جس کے حوالے سے یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ یہ پاکستان کی قسمت بدل دے گا اس کے حوالے سے پاکستانی حکومت کا رویہ کیسا غیر سنجیدہ ہے کہ ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے کے لئے بجلی بنانے کے کارخانے لگائے تو گئے لیکن ان میں سے تیرہ کارخانے کوئلے سے بجلی بنانے کے کارخانے ہیں جبکہ دو کارخانے پن بجلی بنانے والے ہیں۔ وہ سڑک جو گوادر کو خنجراب سے ملائے گی اس سڑک پر کتنی گاڑیوں کی آمد و رفت متوقع ہے اس کا کوئی اندازہ حکومت کو نہیں ہے۔ ٹرانسپورٹ پالیسی کی غیر موجودگی میں ان گاڑیوں کی آمد و رفت کو کس معمول کے تحت منظم و منضبط کیا جائے گا اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اسی سی پیک میں یہ بھی تعین نہیں کیاگیا کہ ٹرکوں کی اس نقل و حرکت اور کوئلے کے کارخانوں کا ماحولیاتی آلودگی پر کس قدر اثر ہوگا اور اس کے منفی اثرات کو کیسے کم کیا جاسکے گا۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں موجود برفانی تودے اور گلیشیئر اس ماحولیاتی آلودگی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے نتیجے میں کس طور غیر مستحکم ہوسکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں باقی ملک کے موسم پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اس کے بارے میں بھی کسی قسم کی کوئی تحقیق موجود نہیں اور اگر تحقیق ہی موجود نہیں تو پھر اس کے حوالے سے کسی قسم کی پیش بندی بھی نہیں کی جاسکتی اور یہ سب احسن اقبال کے ہی زیر نگرانی تھا۔ حیرت اس بات کی ہے کہ اس سب کے حوالے سے احسن اقبال سے مسلسل سوال جواب ہوتے رہتے ہیں۔ کوئلہ سے بجلی بنانے کے کارخانوں کے حوالے سے ان کا اور ان کی ٹیم کا جواب بھی کمال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور دیگر ممالک بھی ایسا کرتے رہے ہیں۔ اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں یعنی ایک غلط اقدام دوسری غلطی کا جواز بنایا جاسکتاہے اور پھر احسن اقبال کہتے ہیں کہ بیس کروڑ عوام کا مستقبل عمران خان کے حوالے کیسے کردیں۔ دل چاہتا ہے اپنا سر پیٹ لوں۔ اس ملک اور اس کے عوام کے لئے کون بہتر ہے اس کا فیصلہ صاحب اقتدار اور متمنئی اقتدار کیسے کرسکتے ہیں۔ یہ تو ب ایک جیسے ہیں۔ ہاں خیبر پختونخوا میں تعلیم‘ صحت اور انصاف کے معاملات میں تحریک انصاف کے اقدامات دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں قدرے بہتر ہیں۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ یہ بادشاہت اور تخت کی سپردگی کا معاملہ نہیں جس کا فیصلہ چند لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔ یہ ملک ہے ‘ اس کے عوام جمہوریت کے دھوکے میں مبتلا ہیں وہ کم از کم اپنا فیصلہ کرنے کے سراب کاشکار ہیں۔ ان سے یہ امید تو نہ چھینیں۔ احسن اقبال اور مسلم لیگ(ن) کے اقتدار کو عمران خان اور تحریک انصاف کے حوالے نہیں کرنا‘ یہ کام تو عوام کا ہے۔ انہیں کم از کم اس غلط فہمی کاشکار تو رہنے دیں۔

متعلقہ خبریں