Daily Mashriq

بدترین اخلاقی پستی کا شکار پاکستانی سماج

بدترین اخلاقی پستی کا شکار پاکستانی سماج

کی تیز رفتار دنیا بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کے بلند مقام پرپہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آرام وآسائش کی جدیدترسہولیات حاصل ہوگئی ہیں، انسان دنیا کو اپنی مٹھی میں کر نے اورچاندپر گھر بسانے کی سوچ رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف وہ اخلاق کی اتنی پستی میں جاگرا ہے کہ اسے انسان کہنا گویا انسانیت کی توہین ہے۔ اگر ہم اخلاقی گراوٹ کے اسباب پر نظر ڈالیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انسان خدا ترس ہونے کے بجائے مادہ پرست ہوگیاہے۔اس حوالے سے جب میں پاکستانی معاشرے پر نظر ڈالتا ہوں تو یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوتی ہے کہ اکثریت مادہ پرست ہے اور خدا خوفی سے دور ہو گئی ہے۔اپنی کامیابی کے لئے اگر دوسروں کو روندنا پڑے تو لوگ اس سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اخلاق کا یہ عالم ہے کہ صاحب ثروت مزدور پیشہ یا غریب آدمی کو سلام میں پہل نہیں کرتا کہ اس سے اس کی شان کم ہوتی ہے۔ مادہ پرستی وہ مہلک مرض ہے جو انسانی اخلاق و کردار اور سماج کو متاثر کرتا ہے،پھر یہی بد اخلاق و بد کردار شخص رفتہ رفتہ الحاد کی طرف چلا جاتاہے اور اس کی عاقبت خراب ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے انسان کو متنبہ کیا ہے مادہ اور مادہ پرستی کو اسباب فریب قراردیتے ہوئے اس سے بچنے کی تاکید کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’ لوگوں کے لیے مرغوبات نفس، عورتیں، اولا د، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔ حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے وہ تو اللہ کے پاس ہے‘‘۔(آل عمران)۔ مادہ پرستی نے پاکستانی معاشرے کے اخلاق کوبری طرح متاثر کیا ہے ،جس سے پورا سماج فساد و بگاڑ کی آماجگاہ بن گیاہے۔یوں لگتا ہے کہ معاشرے کا ہر فردہر چیز میں مادی مفاد کو سامنے رکھ کر اس کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان کا سماجی نظام اس قدر پیچیدہ ہو چکا ہے کہ جس میں ہر شخص بری طرح سے پس رہا ہے لیکن چونکہ وہ اس نظام کو تبدیل کرنے پر قادر نہیں ہے اس لئے اسی نظام میں خود کو ایڈجسٹ کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پرایک شخص روزمرہ زندگی میں حرام اور حلال کے درمیان امتیازکرتا ہے لیکن اگر وہ استاد ہے اور ایک ایسے دیہاتی سکول میں پڑھاتا ہے جس میں روزانہ حاضر ہونا ضروری نہیں۔بس ہفتے دس دن میں ایک بار آئو اور مہینہ ختم ہونے پر تنخواہ وصول کر لو تو وہ اس ’’سہولت‘‘ سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے۔ایک اور شخص ہے جو بڑے وثوق سے کہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حلال کھلاتا ہے لیکن بجلی چوری کو برا نہیں سمجھتا اور یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ واپڈا حرام خور محکمہ ہے جو صارفین کو لوٹتا ہے،اگر میں نے تھوڑی سی بجلی چوری کر لی تو کیا ہوا؟ ایک پولیس والا جو رشوت لیتا ہے اس کا دفاع یوں کرتا ہے کہ محکمے سے ملنے والی تنخواہ میں اس کا گزارہ نہیں ہوتا،لمبی ڈیوٹی کا رونا رو کر اس بات کا بھی شکوہ کرتا ہے کہ روزمرہ فرائض کی ادائیگی کے لئے اسے جو بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے، رکشے ٹیکسی پر جو کرایہ خرچ کرنا پڑتا ہے اس مد میں محکمہ اسے پھوٹی کوڑی نہیں دیتااس لئے وہ یہ اخراجات لوگوں کی جیب سے نہ نکلوائے تو کیا کرے؟ میرے ایک جاننے والے نے ایک شخص پر ایف آئی آر کٹوائی۔ لیکن پولیس کوجب تک پیسے نہیں دئیے گئے پولیس اپنی جگہ سے نہ ہلی۔جیلوں میں بھی لگ بھگ یہی حال ہے ۔ پیسہ دو اور جو چاہو سہولت حاصل کر لو۔چونکہ سارے کا سارا نظام پیسے کے کھو نٹے سے بندھا ہوا ہے اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق اگر آپ کے پاس کھلا پیسہ ہے تو آپ کے لئے قانون موم کی ناک ہے اور اگر جیب خالی ہے تو قانون آپ کے لئے ایک عفریت ہے جس کے سامنے آپ دم نہیں مار سکتے۔ پیسے والے لوگ جس شان سے تھانے کے اندر داخل ہوتے ہیں وہ’’شان‘‘ ہم نے کئی بار اپنی ان گنہگار آنکھوں سے دیکھی اوران غریب و بے نو ا لوگوں کو بھی دیکھا جومعمولی جرائم میں پکڑے جاتے ہیںاور تھا نید ا ر کی ٹانگیں دبا رہے ہوتے ہیں۔غریب آدمی کا عدالت پولیس کو ریمانڈ دے دے تو اسے الٹا لٹکا کراس بے دردی سے مارا جاتا ہے کہ اس نے جو جرم نہیں کیا ہوتا اسے بھی قبول کر لیتا ہے جبکہ صاحب حیثیت کا جسمانی ریمانڈ لے کر پولیس اسے صاف ستھرا نرم بستر بھی فراہم کرتی ہے۔اس کے پیسوں سے اسے بھی بروسٹ کھلاتی ہے اور خود بھی عیش کرتی ہے۔میرٹ کا حال یہ ہے کہ کوئی سرکاری یا نیم سرکاری پوسٹ آجائے تو نوجوان اپلائی کرنے کے فوری بعد سفارش کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔یہاں بھی طاقت کام آتی ہے سفارش تو سبھی ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن جس کی سفارش تگڑی ہوتی ہے اس کا کام بن جاتا ہے اور جس کی کمزور ہوتی ہے وہ سفارش کرا کے بھی بے نیل و مرام رہتا ہے۔اخلاقی اعتبار سے پاکستانی معاشرہ جس پستی کو چھو رہا ہے اگر مزید ایک عشرہ بھی یہ صورت حال رہی توایسی افراتفری ہوگی کہ اس پر قیامت صغریٰ کا گمان ہوگا۔علامہ اقبال نے خداوندان مکتب سے شکایت کی تھی مجھے پوری قوم سے شکوہ ہے جس نے مستقبل سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

متعلقہ خبریں