Daily Mashriq


زیادہ تعلیم زیادہ خوشحال ملک

زیادہ تعلیم زیادہ خوشحال ملک

موجودہ دور میں جوممالک ترقی اور کامرانیوں کی منزلیں طے کر رہے ہیںوہاں تعلیم کی شرح سب سے زیادہ ہے موجودہ دور کو علمی دور کہا جاتا ہے۔ اس وقت 7ارب کی دنیا میں تین ارب مسلمان ہیں مگر بد قسمتی سے مسلمانوں کی حالت آج تمام ممالک میں سب سے ابتر ہے اور اسکی ایک ہی وجہ ہے کہ مسلمان موجود ہ دور کی تعلیم ،سائنس اور ٹیکنالوجی میں کوئی قابل ذکر کا رنامہ انجام نہ دے سکے ۔ دنیا کے جن جن ممالک میں تعلیم کی شرح زیا دہ ہے وہاں پر فی کس آمدنی اور عام لوگوں کا معیار زندگی کم پڑھے لکھے ممالک کی نسبت زیا دہ ہے۔اگر ہم موجودہ دور میں جاپان، کو ریا ، امریکہ ، بر طانیہ ، چین اور دوسرے کئی ممالک کی کامیابیوں اور کامرانیوں کو دیکھیں تو انکی ترجیحات میں تعلیم کو خاص اہمیت حا صل ہے۔ مثلاً آسٹریا میں شرح خواندگی 99 فی صد ہے ، جسکی وجہ سے وہاں پر فی کس آمدنی 40 ہزار ڈالر اور متوقع زندگی 82 سال ہے۔ اسی طرح کینیڈا میں شرح خواندگی 99 فی صد جبکہ اچھی تعلیم اور علم کی وجہ سے کینیڈا کی فی کس آمدنی41ہزار اور متوقع زندگی 83 سال ہے ۔فرانس میں شرح خواندگی 99 فی صد جبکہ فی کس آمدنی 36 ہزار ڈالرز اور متوقع زندگی 84 سال ہے۔ جبکہ اسکے بر عکس وہ ممالک جہاں پر شرح خواندگی اور تعلیم کم ہے وہاں پر فی کس آمدنی اور متوقع زندگی بُہت کم ہے۔ مثلاًچا ڈمیں خواندگی 35 فی صد ہے جسکی وجہ سے وہاں پر فی کس آمدنی 1500 ڈالر ہے ۔ اس طر ح ایتھو پیا میں شرح خواندگی 36فی صد ہے،جسکے نتیجے میںوہاں پر فی کس آمدنی 800 ڈالر اور متوقع زندگی 50 سال ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پوری دنیا میں یہو دیوں کی آبادی 17 ملین ہے جو دنیا کی آبادی کا 0.2فی صد ہے۔ یہودی زندگی کے ہر شعبے میں آگے جارہے ہیں ،جبکہ دوسری طرف مسلمان جو کہ تقریباً تین ارب یعنی 300کروڑ کے قریب ہیں رسوائی اور پسماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہودی اور دوسرے ترقی یا فتہ لوگوں کی ترقی کا راز جدید دور کے علم ، سائنس اور ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم میں ہے۔اس وقت اسرائیل کی شرح خواندگی 98فی صد ، جبکہ اوسط متوقع زندگی 84 سال اور فی کس آمدنی 38ہزار ڈالر ہے۔ امریکہ نے پو ری دنیا اور بالخصوص مسلمانوں کو اپنی تعلیمی اور سائنسی بر تری پر یر غمال بنایا ہوا ہے۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رویہ اسلئے روا رکھے ہوئے ہے کہ وہاں تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی اتنی اعلیٰ درجے کی ہے کہ پو ری دنیا اور بالخصوص مسلمان مما لک اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اس کمزوری کو سامنے رکھ کر دنیا کے تین ارب مسلمانوں پر وہ اپنی مرضی ٹھونستے ہیں۔ مسلمانوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند کہنا، مسلمان مائوں،بہنوں، بیٹیوں اور بچوں کا ائیر پو رٹ پر سکریننگ ٹسٹ کرنا، عافیہ صدیقی اور اس طر ح بُہت سی مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کا امریکی اور دوسرے یو رپی ممالک کے قبضے میں ہو نا، بیت المقدس کی بے حُرمتی کر نا، حضور ﷺ اور دوسرے پیغمبران کرام کی شان میں گستا خی کرنا، مسلمانوں کے وسائل پر زبر دستی قبضہ کر نا اور بے گناہ لوگوں پر ڈرون حملے کر نا دور جدید کی ایسی مثالیں اورمسائل ہیںجس کا حل مسلمانوں کے پاس نہیں۔ اس سب مسائل کا تعلق تعلیم اور جدید دور کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں پسماندگی سے ہے ۔اگر مسلمان جدید دور کی تعلیم سائنس اور ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوتے تو وہ کبھی بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے ہا تھوں کھلونا نہ بنتے۔آج کل ممالک کی کامیابیوں کا دار و مدار تعلیم اور جدید دور کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی پر ہے۔ کسی بچے نے جب میڈیکل کالج یا انجینئر نگ یو نیور سٹی میں داخلہ لینا ہو تو اس کے لئے پہلے ایف ایس سی میں 80 فی صد نمبر کے ساتھ ساتھ انٹری ٹسٹ کا پا س کر نا ضروری شرائط میں سے ہے۔ ایک انجینئر اور ڈاکٹر بننے کے لئے اتنی کڑی اور سخت شرط رکھی جاسکتی ہے مگر قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لیے بنیادی تعلیم بھی لازمی نہ ہو تو وہ ملک کے انتہائی حساس قومی معاملات کے لئے کس طر ح قانون سازی کر سکیں گے۔اگر ہم قُرآن مجید اور احا دیث کا مطالعہ کریں تو قُر آن مجید فُر قان حمید میں ایسی ہزاروں آیات اور احا دیث ہیں جن میں علم اور تعلیم کی اہمیت اُجا گر کی گئی ہے۔ جو آدمی زیادہ تعلیم یا فتہ نہ ہو وہ کس طرح قانون ساز اداروں میں ملک کے حساس معاملات کی طر ف توجہ اور ان مو ضو عات پر بحث کر سکتا ہے۔ ہم بھارت اور دوسرے پڑوسی ممالک کے ساتھ زندگی کے ہرمیدان میں ہم سری اور برابری تو کر تے ہیںمگر یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ تعلیمی میدان میں ہم سری اور برابری کیوں نہیں کر تے ۔ بھارت کے لوک سبھا کے امیدواروں کی تعداد 543 ہے۔ جن میں 30 پی ایچ ڈی، 143ایم فِل ، ایم ایس سی، ایم اے اور 260 گریجویٹس اور 20 سینئر کیمبرج ہیں۔ جبکہ سری لنکا کے پارلیمنٹیرین کی تعداد 200 ہیجن میں اکثریت پی ایچ ڈی، ایم فل، ایم ایس سی اور ایم اے ہیں۔ اسی طرح صورت حال ایران میں بھی ہے ۔مگر بد قسمتی سے ہمارے اکثر پالیمنٹیرین کی ڈگریاں جعلی اور دو نمبر ہیں۔ کوئی بھی ملک اُ س وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اُ س ملک کے شہری اور خاص طور پر اُسکے قانون ساز تعلیم یافتہ نہ ہوں ۔ آج کل کی اقتصا دیات کی بنیا دتعلیم پر منحصر ہے جن ممالک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی کمی ہے ، قوموں کی برا دری میں انکی کوئی حیثیت نہیں۔ 

متعلقہ خبریں