Daily Mashriq


خطرہ ابھی ٹلا نہیں

خطرہ ابھی ٹلا نہیں

وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے بتایا ہے کہ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو ’’گرے لسٹ‘‘ میں نہیں ڈالا گیا۔البتہ تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن سے ثابت ہو کہ پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد منقطع کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ دیکھا جائے تو یہ فیصلہ گرے لسٹ میں شامل کرنے سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ مشیر خزانہ کے ٹی وی انٹرویو سے یہ سامنے آیا ہے کہ اگر پاکستان نے وہ اقدامات نہ کیے تو گرے لسٹ میںڈالنے کی بجائے پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ جب ٹی وی اینکر نے مشیر خزانہ سے پوچھا کہ پاکستان سے کن اقدامات کا تقاضا کیا جا رہا ہے تو انہوں نے بتایا کہ خود انہیں بھی معلوم نہیں کہ پاکستان سے کیا توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اس فیصلے سے پاکستان کی معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پاکستان کا نام اس سے پہلے بھی تین سال تک گرے لسٹ میں رہا ہے اور اس دوران پاکستان نے بین الاقوامی اداروں سے قرضے بھی لیے ہیں اور بانڈز بھی فروخت کیے ہیں۔ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل آج کل وزیر خزانہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے جو تسلی دی ہے اسے تسلیم کر لیا جائے تو سوال ابھرتا ہے کہ اگر پاکستان کی معیشت کی صحت پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑتا تو اجلاس سے چند دن پہلے پاکستان نے نہایت عجلت میں 27دہشت گرد کیوں افغانستان کے حوالے کر دیے تھے اور جماعت الدعوۃ کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت کی ڈسپنسریوں کو کیوں حکومت کی تحویل میں لے لیا تھا۔ اور اجلاس سے چند دن پہلے پاکستان کے متعدد وزراء ٹاسک فورس کے ممبر ممالک کے دارالحکومتوں میں کس مقصد کے لیے لابنگ کرنے گئے تھے؟ ان وزراء میں ہمارے وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی شامل تھے جنہوں نے ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس کے بعد نہایت فخریہ انداز میں ٹویٹ کیا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ پاکستان کے دوستوں کے پاکستان کے حق میں ووٹ کی بنا پر نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اس حوالے سے چین اور سعودی عرب کا ذکر بھی کیاتھا۔ واضح رہے کہ ٹاسک فورس کا اجلاس محدود ہوتا ہے اور رکن ممالک اس کے اجلاس کی کارروائی پر بحث کرنے سے احتراز کے پابند ہوتے ہیں۔ اس فاتحانہ ٹویٹ کے بعد امریکہ نے (خلاف معمول) ایک بار پھر دوسرے اجلاس میں قرارداد پیش کردی جس کی بنا پر متذکرہ بالاتین ماہ کی مہلت کا فیصلہ آیا ہے جو گرے لسٹ میں شامل کیے جانے سے بھی زیادہ سخت مضمرات کا حامل ہے کہ اس مہلت کے بعد اگر پاکستان ٹاسک فورس کے تقاضوں پر پورا اترتا ہوا نظر نہ آئے تو اسے براہ راست بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ جب ٹاسک فورس کا بیان جاری ہوا تو معلوم ہوا کہ خواجہ آصف کے ٹویٹ کے برعکس چین اور سعودی عرب کے پاکستان کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کی بات صحیح نہیں تھی۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کا جو وفد گیا تھا اس کے ارکان خاموشی سے واپس آ گئے البتہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کچھ باتیں بتائی ہیں جن کا ذکر سطور بالا میں کیا گیا ہے۔ یہ سوال اہم ہونا چاہیے کہ ایک طرف تو ٹاسک فورس کے اجلاس کو اتنا اہم سمجھا جا رہا تھا کہ فلاح انسانیت کے ادارے سرکاری تحویل میں لے لیے گئے اور متعدد وزراء ٹاسک فورس کے رکن ممالک کو پاکستان کی حمایت پر آمادہ کرنے کے لیے پہنچ گئے تو پھر محض ایک ٹی وی چینل کے انٹرویو میں ٹاسک فورس کے فیصلے کی بات کرنا کیوں کافی سمجھا گیا۔ پاکستان کے عوام کا یہ جاننا حق ہے کہ ٹاسک فورس کے فیصلے کے کیا مضمرات ہیں ۔ جو مہلت دی گئی ہے اس میں پاکستان کو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ دہشت گردوں کے مالی وسائل منقطع کرنے اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے کیا کیا کرنا ہوگا؟ ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دینے کی بجائے مشیر خزانہ کو سرکاری بیان جاری کرنا چاہیے تھا اور ایک پریس کانفرنس منعقد کر کے اس میں وضاحت کرنی چاہیے تھی کہ ٹاسک فورس کے تقاضے کیا ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کے باوجود بین الاقوامی کمیونٹی بطور خاص امریکہ کیوں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کی قدر نہیں کرتا؟ اگر امریکہ کی طرف سے اس ناقدری کی وجہ امریکہ کا پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے علاوہ افغانستان میں ڈو مور کا مطالبہ ہے تو بین الاقوامی کمیونٹی کو پاکستان کے عزم کا قائل کرنے کے لیے کیا کیا جانا چاہیے ۔ امریکہ کے رویے سے واضح ہے کہ وہ پاکستان کے ڈو مور کے مطالبے کے بعد اس پر پاکستان کو مجبور کرنے کے لیے پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ اور اس کے لیے اس نے ٹاسک فورس کا فورم استعمال کیا ہے۔ امریکی اہل کار کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو کافی نہیں سمجھتے تو ان سے سوال کیا جاناچاہیے کہ کافی اقدامات کیا ہیں ، ان کے بارے میں کھل کر بات کریں۔ ایک امریکی اہل کار نے کہا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے عناصر کو ملک سے باہر افغانستان میں دھکیل دے۔ یہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ متذکرہ عناصر پاکستان کی سرزمین پر موجود ہیں جبکہ پاکستان کا واضح اعلان ہے کہ امریکہ نشاندہی کرے کہ پاکستان کی سرزمین پر کہاں دہشت گرد موجودہیں پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ اس مفروضے سے ٹاسک فورس کے ارکان اور بین الاقوامی کمیونٹی کو آزاد کرانے کے لیے پاکستان کی سفارت کاری کو دن رات ایک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات کھل کر بیان کی جانی چاہیے کہ ٹاسک فورس کے کیا تقاضے ہیں تاکہ ان پر پورا اترنے کی کوشش کی جائے کیونکہ اس طرح ٹاسک فورس کے ارکان پر واضح ہو گا کہ پاکستان دہشت گردی اور دہشت گردوں کے مالی وسائل منقطع کرنے میں نہ صرف پرعزم ہے بلکہ یہ اس کی اپنی ضرورت ہے۔ اگر اس کے باوجود امریکہ ڈو مور پر اصرار کرتا ہے تو بین الاقوامی کمیونٹی میں حمایت کھو بیٹھے گا۔ برسرزمین دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد سفارت کاری کے میدان میں اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں