Daily Mashriq

پنجاب میں بیوروکریسی کی ہڑتال کا منصوبہ ناکام

پنجاب میں بیوروکریسی کی ہڑتال کا منصوبہ ناکام

ایل ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کی گرفتاری کے خلاف پنجاب میں سوال افسروں کی ہڑتال کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے ۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے ارکان کو پنجاب سول سروسز نے احتجاج میں شامل ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک افسر کی کرپشن کے الزام میں گرفتاری پر وہ کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کریں گے۔ یوں لاہور میں بننے والا بیوروکریسی کے احتجاج کا منصوبہ لاہور ہی میں ناکام ہو گیا ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون نے کہا ہے کہ احد چیمہ کو نیب نے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا ہے اور یہ کہ ان کی گرفتاری پر جو افسر احتجاج کر رہے ہیں پنجاب حکومت ان کا ساتھ دے گی۔ پنجاب حکومت صوبے میں امن وامان قائم رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ لیکن اس کے وزیر قانون کہہ رہے ہیں کہ وہ ہڑتال اور احتجاج کرنے والوں کا ساتھ دیں گے، یہ عجیب منطق ہے ۔ جہاں تک رانا ثناء اللہ کے اس موقف کا تعلق ہے کہ احد چیمہ کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیاگیا ہے تو ان کی رہائی کے لیے ان کے اہل خانہ اور اگر پنجاب حکومت ان کی گرفتاری کو غیر قانونی سمجھتی ہے تو خود پنجاب حکومت ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔ یا پھر ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کا انتظار کرنا چاہیے جس کے بعد نیب نے کہا ہے کہ وہ شواہد ظاہر کر دیے جائیں گے جن کی بنا پر احد چیمہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سیاسی حکمرانوں کی طرف سے کرپشن کے الزام میں ملوث سرکاری افسروں کی حمایت ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش شمار ہو گی۔ کیونکہ سرکاری افسر سیاسی حکمرانوں کی پالیسیوں اور ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ اس لیے وہ اگر کرپشن میں ملوث پائے جائیں تو اس سے سیاسی حکمران بدنام ہوتے ہیں۔ اس لیے سیاسی حکمرانوں کو افسروں کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات حمایت کرنی چاہیے تاکہ اگر ان کا دامن صاف ہو تو واضح طور پر نظر آئے۔

نقیب اللہ محسود کے دوست آفتاب محسود کا قتل

ایک طرف کراچی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ مقتول نقیب اللہ محسود کے خلاف قائم کیے گئے تمام مقدمات جعلی تھے ، دوسری طرف ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب مرحوم کے دوست آفتاب محسود کی نعش ملی ہے جسے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے قریب ایک پرچہ بھی ملا ہے جس پر اس کا نام اور ولدیت لکھی گئی ہے ۔ آفتاب محسود مرحوم گومل یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ وہ کراچی گیا جہاں اس کی نقیب اللہ محسود سے دوستی ہو گئی۔ مبینہ طور پر معطل ایس ایس پی راؤ انوار کے جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ کے قتل کے بعد آفتاب محسود نے اس قتل کے خلاف احتجاج میں بہت فعال کردار ادا کیا تھا۔ اس نے اسلام آباد میں پختون تحفظ موومنٹ اور دیگر انجمنوں کی طرف سے اسلام آباد میں نقیب اللہ قتل کے احتجاجی دھرنے میں بہت فعال کردار ادا کیا تھا۔ اس دھرنے میں نقیب اللہ کے قاتلوں کی جلد گرفتاری کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقے کے پختونوں کے مسائل کے حل کے بارے میں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بھی مطالبات کیے گئے تھے۔ دھرنا حکام کی طرف سے بعض یقین دہانیوں کے بعد اٹھا لیا گیا تھا لیکن اس دھرنے کے فعال کارکن کا پراسرار حالات میں قتل بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ نعش کے ساتھ اس کے نام اور ولدیت کی پرچی یہ ظاہر کرتی ہے کہ قاتلوں کا ارادہ اسی کو قتل کرنے کا اور اس قتل کا اعلان کرنے کا تھا۔ اس واردات کی تفتیش نہایت اعلیٰ سطح کے تفتیشی ماہرین سے کروائی جانی چاہیے اور جلد اس کے نتائج سامنے آنے چاہئیں تاکہ حقیقت معلوم ہو سکے۔

متعلقہ خبریں