Daily Mashriq

تخت لاہور میں ’’کہرام ‘‘

تخت لاہور میں ’’کہرام ‘‘

تخت لاہور میں کہرام برپا ہے۔ سول بیورو کریسی کی ’’آنیاں جانیاں‘‘ صوبائی کابینہ کے مشاورتی اجلاس اور صوبے کے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ کا یہ کہنا ہے کہ ’’نیب نے سینئر بیورو کریٹ احد چیمہ کو گرفتار کر کے پنجاب میں خوف وہراس کی فضا پیدا کردی ہے‘‘ کچھ نہیں بہت کچھ عجیب محسوس ہو رہا ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ جمعہ 23فروری کو لاہور میں سول بیورو کریسی کی جو غیر اعلانیہ ہڑتال ہوئی (کچھی پکی ہڑتال جمعرات کو بھی ہوئی تھی) اس کے محرک صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ تھے ۔ صوبائی کابینہ کا وہ ہنگامی مشاورتی اجلاس جو احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد بلایا گیا وہ مشاورتی کم اور ماتمی زیادہ تھا۔ ہر وزیر کی زبان پر ایک ہی سوال تھا یہ کیا ہو رہا ہے؟۔ آپ کی دلچسپی کیلئے سال ڈیڑھ سال قبل سندھ میں گرفتار ہونے والے بعض افسروں پر سندھ حکومت کے ردعمل کے جواب میں اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چودھر ی نثار علی خان کا مختصر تبصرہ لکھے دیتا ہوں ’’ملکی اور نیب کے قوانین اہم ہیں فرد نہیں سندھ حکومت کرپشنبچاؤ پروگرام کی آڑ میں ملکی قوانین اور وفاقی اداروں کو متنازعہ نہ بنائے‘‘۔ کیا آج یہی بات کوئی پنجاب حکومت کو سمجھانے کی کوشش کرے گا؟۔ میرے بہت سارے غیر پنجابی دوست پچھلے دو تین دن سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا پنجاب کی بیورو کریسی نے وفاق کیخلاف بغاوت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نہیں تو پھر ہڑتال کیسی؟۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جمعرات جمعہ اور ہفتہ تین دن پنجاب بھر میں سول سروس کے افسران نے دفتری امور انجام نہیں دئیے۔ بعض ناگزیر معاملات پر زبانی اور چند تحریری احکامات کے سوا افسر شاہی عدم تعاون کا مظاہرہ کر رہی ہے۔احد چیمہ صوبائی دارا لحکومت میں بہت سارے اہم منصوبوں پر فائز رہے۔ انہیں شہباز شریف کا نفس ناطقہ بھی کہا جاتا ہے۔ ڈی ایل ڈی کے طور پر انہوں نے بے پناہ ’’شہرت‘‘ کمائی۔ پینے کے صاف پانی والے پراجیکٹ ہوں یا آشیانہ سکیم (یہ کم آمدنی والے سرکاری ملازمین اور عام لوگوں کیلئے بنائی گئی رہائشی سکیم ہے) سمیت وہ تقریباً ہر ایسے منصوبے کا اہم حصہ رہے جو لاہور کیلئے تھا۔ ان کی گرفتاری 30کنال اراضی بطور رشوت لینے کے الزام میں عمل میں لائی گئی۔ اس اراضی کیلئے ادائیگی پیراگون سٹی ہاؤسنگ سکیم کی طرف سے کی گئی۔ چیمہ نے خود 30لاکھ روپے ادا کئے جبکہ پیراگون سٹی کی ایک ذیلی کمپنی ’’کاسا‘‘ نے اس کیلئے پیراگون کے اکائونٹ سے 3کروڑ روپے ادا کئے۔ آشیانہ سکیم کے پہلے دو فیزز کا ٹھیکہ بحریہ ٹاؤن والوں کی کمپنیوں کو دیا گیا مگر تیسرے فیز کا ٹھیکہ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی پیراگون سٹی کی ذیلی تعمیراتی کمپنی ’’کاسا‘‘ کودیا گیا۔ کاسا اس ٹھیکے کیلئے اہلیت نہیں رکھتی تھی مگر یہاں اہلیت کا سوال کب مدنظر رکھا گیا سوائے تقاریر، دعوؤں اور اشتہارات کے۔ برادرم ہاشم خاکوانی کی رپورٹ کے مطابق آشیانہ سکیم کے پہلے دو فیزز بنانے والی کمپنی نے تیسرے فیز کا ٹھیکہ کاسا کو دئیے جانے پر احتجاج کیا جس پر پنجاب حکومت نے اس پر نصف کروڑ کا جرمانہ عائد کر دیا۔احد چیمہ ان دنوں کول پاور کے منصوبوں کی نگرانی کرنے والے ادارے میں اہم منصب پر فائز ہیں۔ ایک طویل عرصہ سے ہی وہ لاہور میں ادھر سے اُدھر تعینات ہوتے چلے آرہے ہیں۔ انہوں نے ہر قدم پر اپنی بے مثال وفاداری کو عملی طور پر ثابت کیا یوں وہ اس تگڑم کے اہم رکن ہیں جس کے دو دوسرے ارکان میں وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد اور پنجاب میں ایک بیوروکریٹ علی جان بھی شامل ہیں۔ آشیانہ سکیم فیز3 کا ٹھیکہ اہلیت نہ رکھنے والی کمپنی کو دیئے جانے پر ہی پنجاب کے وزیراعلیٰ کا وہ ’’تاریخی‘‘ خط سامنے آیا جس میں انہوں نے راست ہدایت کی تھی کہ ٹھیکہ ’’کاسا‘‘ کمپنی کو دیا جائے۔ عمارتی تعمیرات کے شعبے میں مشکل سے 15یا 20کروڑ کا ٹھیکہ لینے کی اہلیت رکھنے والی ’’کاسا‘‘ کمپنی کو اربوں کا ٹھیکہ دیا جانا واحد وجہ نہیں تحقیقات کرنے والوں کے پیش نظر یہ بھی تھا کہ منصوبہ بناتے وقت آشیانہ فیز3 کیلئے زمین وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی ہاؤسنگ سوسائٹی پیراگون سٹی کے عقب میں ہی کیوں حاصل کی گئی؟۔ دوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ سرکاری منصوبے کیلئے زمین کی مذکورہ جگہ پر خریداری اور پھر سڑک کی تعمیر سے پیراگون سٹی میں زمین اور تعمیر شدہ عمارات کی قیمتوں میں 40 سے 70فیصد اضافہ ہوگیا۔ ایک وفاقی وزیر کے نجی منصوبے کو غیر محسوس انداز میں فائدہ پہنچانے اور ان کی سکیم کی ذیلی کمپنی کو اربوں روپے کا پراجیکٹ دینے کا سارا عمل انتہائی ’’شفاف‘‘ اور میرٹ سے عبارت تو تھا ہی اس کیساتھ ساتھ یہ احد چیمہ کی ذات کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوا جو زمین تین کروڑ 30لاکھ روپے میں (30کنال) خریدی گئی وہ اس وقت مارکیٹ ویلیو کے حساب سے کم وبیش 15کروڑ کی ہے یعنی 50لاکھ روپے فی کنال کم ازکم۔ معاملہ مگر یہاں رکتا دکھائی نہیں دے رہا۔ پینے کے پانی کے پراجیکٹ میں7ارب روپے سے زیادہ کا فراڈ لاہور ہائیکورٹ میں اس پراجیکٹ کے حوالے سے دائر درخواست کے دوران ثابت ہو چکا، دوسرے درجہ کے چند افسروں کی بلی چڑھائی گئی لیکن ہر شخص اس امر سے آگاہ تھا کہ محض ایک پراجیکٹ منیجر اور چند اہلکار7ارب روپے کا فراڈ نہیں کر سکتے۔ پینے کے صاف پانی کے پراجیکٹ میں ہونے والی کرپشن بارے تحقیقات کے دوسرے مرحلہ میں احد چیمہ کی ذات کی طرف گیا۔ اسی طرح کے چند اور معاملات بھی ہیں غالباً یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چند ہفتوں سے کوشاں تھے کہ احد چیمہ کی بیرونی ملک تعیناتیکروا دی جائے مگر ان کی گرفتاری نے تخت لاہور کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ فواد حسن فواد اور علی جان سمیت متعدد بیوروکریٹس کی باری بھی لگنے والی ہے جبکہ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ حسان کے ستارے بھی گردش میں آسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں