Daily Mashriq


کامیابی وناکامی کے درمیان

کامیابی وناکامی کے درمیان

سینیٹ کے انتخابات آئندہ چند روز تک ہونے جارہے ہیں، اس کے بارے میں نتائج گمبھیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ کسی زمانے میں سیاسی پیشن گوئیوں کے خوب چرچے رہا کرتے تھے مگر اب کوئی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی ہے کیونکہ ملک کے حالات اس منج پر آگئے ہیں جہاں کوئی بھی کھیل کھیلا جا سکتا ہے، مسلم لیگ ن کے سابق سربراہ میاں نوازشریف کو پارٹی کاصدر بننے سے نااہل قرار دئیے جانے کے بعد صورتحال مزید غیر واضح ہو چلی ہے۔ مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے نئی صورتحال کو بھانپ کر الیکشن کمیشن کو اپنے دستخط سے ٹکٹ جاری کرنے کا کہا مگر الیکشن کمیشن نے ان کی تجویز مسترد کر دی اور مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈرز کو آزاد اُمید وار کی حیثیت دیدی، یہ فیصلہ کس قانون یا آئین کے کون سے آرٹیکل کے تحت کیا گیا اس کی ابھی تک کوئی وضاحت نہیںآئی۔

قیام پاکستان سے مقتدر قوتوں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ سیاسی ہارس ٹریڈنگ کے رنگ میں گدھوں کو گھاس ڈالی جاتی رہی ہے، بلوچستان اسمبلی میں چھ ارکان پر مشتمل سیاسی جماعت کے رکن کو وزیراعلیٰ بن جانے پر یہ ہی گمان تھا کہ سینیٹ کے انتخاب کا مسلم لیگ ن کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔ عوام میں ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ سب کچھ ایک ترتیب سے ہو رہا ہے۔بات سوچنے کی ہے کہ سینیٹ کے ٹکٹ جن افراد کو دیئے گئے ہیں ان کا چناؤ یقیناً نواز شریف کی رضامندی سے ہوا ہوگا، اب ان کی حیثیت آزاد ہوجانے کے بعد کیا مسلم لیگ سے ان کی وفاداریاں بدل جائیں گی، عدالت عظمیٰ نے جو عبوری فیصلہ دیا ہے اس کے مطابق نواز شریف کے نااہل قرار پاجانے کے بعد سے مسلم لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے تمام اقدام کالعد م ہیں گویا کہ ان اقدامات اور فیصلوں کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہیں ہے اسی لئے کالعدم قرار پائے ہیں پھر تو ان کی نامزدگی مکمل طور پر کالعدم قرار پائی جاتی ہے اور ان کی جگہ نئے کاغذات طلب کئے جانے چاہئیں کیونکہ جن اُمیدواروں کو آزاد اُمیدوار ازخود الیکشن کمیشن نے قرار دیا ہے انہوں نے تو نواز شریف کے دستخط شدہ کاغذات داخل کئے تھے پھر وہ کیسے آزاد ہوگئے۔ اس بارے میں الیکشن کمیشن ہی بتا سکتا ہے کہ کس قانون کے تحت پارٹی کے اُمیدواروں کو آزاد قرار دیا گیا ہے، اس طرح سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ کا بازار سج جائے گا کیونکہ اب یہ اُمیدوار مسلم لیگ ن کے نظم کے پابند نہیں رہے ہیں۔ محب وطن مقتدر چاہتے ہیںکہ سینیٹ میں ان کے نمائندوں کو کامیابی حاصل ہو جن میں ایک نمائندہ اکوڑہ خٹک سے بھی آزاد اُمیدوار کے طور پر کھڑے ہیں۔ ملک کے واحد صادق وامین نے ا ن کی حمایت بھی کر دی ہے چنانچہ اس آزاد اُمیدوار کیلئے اسلامی خدمات کے اعتراف میں صوبے کے خزانہ کا منہ بھی کھول دیا ہے۔بہرحال سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ پارٹی بنیاد پر ہی پڑیں گے چنانچہ مسلم لیگ ن کے آزاد اُمیدوار اپنی وابستگی اپنی پارٹی سے ہی برقرار رکھیں گے تو ان کی کامیابی ممکن ہے جیسا کہ یہ اُمیدوار اب بھی اپنی مسلم لیگ ن سے وفاداری کا اعادہ کر رہے ہیں، درویش صفت صابرشاہ جنہوں نے ہمیشہ مسلم لیگ کا ساتھ دیا ہے ماضی میں ہر بڑی سے بڑی پیشکش کو ٹھکرایا ہے اور اب بھی اپنے درویشانہ انداز میں نواز شریف کے گن گا رہے ہیں، اگر ایسی صورتحال سب تک بحال رہی تو نااہل اور اہل قرار دینے کا فائدہ کیا ہے، یہ مقتدر ہی بتا سکتے ہیں ۔ نواز شریف کو نااہل قرار دئیے جانے سے پہلے عوامی سطح پر جو مقبولیت تھی وہ نااہل ہو کر مزید بڑھ گئی ہے، ضمنی انتخابات میں عوام نے اپنا فیصلہ دیا ہے۔ جو لوگ مارشل لاء کے آنے کے خیر مقدمی ترانے گا رہے تھے ان پر بھی واضح ہو گیا ہے کہ عوام کے شعور میں بہت پختگی آچکی ہے چنانچہ مارشل لاء کے قدم اس بناء پر رکے رہے، عوامی دباؤ میں سب سے زیادہ طاقت ہوتی ہے، عوام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اب ملک میں کوئی ماورائے آئین نظام نہیں آئے گا۔ اس فیصلے سے ٹیکنوکریٹ کے نام پر مطلق العنان حکومت کا خواب بھی نہیں پورا ہوپا رہا ہے اور نہ طویل المدت کسی حکومت کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ان تمام باتوں کے باوجود ابھی دھند سی ہے یہ سب چھٹ جائے گی، سپریم کورٹ کے مختصر فیصلہ کی روشنی میں کاملاً کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی ہے جب مکمل فیصلہ آئے گا تو بات بھی کھل جا ئے گی کہ سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کیلئے کیا حوالے دیئے ہیں، ویسے ماہرین قانون وآئین کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 12الف میں درج ہے کہ کوئی قانون کسی شخص کو کسی ایسے فعل یا ترک فعل کیلئے جو اس کے فعل کے سرزد ہونے کے وقت کسی قانون کے تحت قابل سزا نہ تھا، سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 13کے الف سیکشن میں ہے کہ کسی شخص پر ایک ہی جرم کی بناء پر ایک بار سے زیادہ نہ تو مقدمہ چلایا جائے گا اور نہ سزا دی جائے گی، اگر دیکھا جائے تو میاں نواز شریف ایک مقدمے میں دوسری مرتبہ سزا پاگئے ہیں، ان کے خلاف بالواسطہ فیصلہ آیا ہے چنانچہ وہ پارٹی کے سربراہ بننے کیلئے اس لئے اہل نہیں رہے ہیںکہ پارٹی سربراہ براہ راست پارلیمانی پارٹی کے فیصلوں میں شامل رہتا ہے تو جو شخص پارلیمنٹ کیلئے اہل نہیں ہے تو وہ پارلیمانی پارٹی کے امور میں کیسے دخل دے سکتا ہے، چنانچہ وہ پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ اس بنیاد پر تو نواز شریف کے ووٹ کا حق بھی ساقط کردینا چاہئے کیونکہ ان کا ووٹ بھی پارلیمنٹ پر اثر انداز ہوتا ہے، ان کا اظہار رائے کاحق ختم ہونا چاہئے کہ ان کی تقاریر، ملاقاتیں، بیانات بھی پارلیمان پر اثرانداز ہوں گی۔

متعلقہ خبریں