Daily Mashriq

شادی خانہ آبادی

شادی خانہ آبادی

خانہ آبادی بڑی بابرکت اور مقدس تقریب ہوتی ہے سنت نبویﷺ کے مطابق نکاح کی بڑی برکات ہوتی ہیں۔اگر حالات درست رہیں خانگی جھگڑے نہ ہوں تو ایک ہی شادی کافی ہوتی ہے ۔عقل سلیم رکھنے والا ایک معقول انسان اپنی شریک حیات کے ساتھ ساری زندگی گزار دیتا ہے اگر حالات ٹھیک نہ رہیں مسائل بہت زیادہ پیچیدہ ہوں اور ان کے سلجھنے کی کوئی صورت نہ نکلے تو پھر آدم و حوا کے بیٹے بیٹیوں کے لیے علیحدگی ہی آخری آپشن ہوتا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اس لیے یہ آپ کو چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت انسان کے لیے ایک عدد بیوی کا ہونا کتنا ضروری ہے۔ شادی ایک سادہ سی تقریب ہواکرتی تھی نکاح اور دعوت ولیمہ !عام طور پر مسجد میں نکاح پڑھا جاتا اور دوسرے دن چند قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو دعوت ولیمہ دی جاتی اللہ اللہ خیر صلا!عرب کے صحرا ئوں میں رہنے والے سادہ دل مسلمانوں نے فتوحات پر فتوحات حاصل کیں تو اسلام جزیرہ عرب سے نکل کر دنیا کے کونے کونے میں پھیلتا چلا گیا جس قوم نے بھی اسلام قبول کیا اس کے رسم ورواج بھی کسی نہ کسی صورت میں برقرار رہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ صدیوں سے بنے ہوئے ذہنی ڈھانچے کی تبدیلی اتنا آسان عمل نہیں ہوتا اپنی تہذیب وثقافت کو بیک جنبش قلم منسوخ نہیں کیا جاسکتا اس کے علاوہ جب مختلف اقوام ایک دوسرے کے ساتھ ملیں اور ان کا رہن سہن صدیوں تک آپس میںخلط ملط ہوتا رہا تو وہ ایک دوسرے کے کلچر تہذیب و تمدن اور ثقافت سے تھوڑا بہت اثر قبول کرتی رہیں۔ مسلمانوں کی سادہ سی شادی میں بھی بہت سی رسومات داخل ہوتی چلی گئیں جن میں سے یقینا کچھ بے ضرر اور کچھ مشکلات کا باعث بنتی چلی گئیں !مہندی کی رسم ایک پیاری رسم ہے اس میں ایک دن لڑکے والے لڑکی کو مہندی لگانے جاتے ہیں بیاہ شادی کے گیت گائے جاتے ہیں جب لڑکے والے لڑکی کو مہندی لگا کر فارغ ہوجاتے ہیں تو پھر لڑکی کی امی اور بہنیں بھی دلہن کو مہند ی لگاتی ہیں رسم حنا کی تقریبات میں پرتکلف کھانے اور ہائی ٹی بھی چلتی ہے۔ محبت کا عجیب سماں ہوتا ہے سب ایک دوسرے کے صدقے قربان جاتے ہیں۔ محبت ہی محبت خوشیاں ہی خوشیاں!ہمارے یہاں کی جانے والی شادیاں اخراجات سے بھر پور ہوتی ہیں۔ جن لوگوں کی حیثیت ہوتی ہے وہ تو بڑی آسانی سے یہ سب کچھ کر لیتے ہیں لیکن ہمیں اپنی خوشیوں میں مگن ہونے کے ساتھ ساتھ ان سفید پوش افراد کو بھی نگاہ میں رکھنا چاہیے جو یہ سب کچھ نہیں کرسکتے جن کے لیے لڑکی کا جہیز بنانا بہت زیادہ مشکل ہوتا ہے پہلے یہ سب کچھ اپنے گھروں میں ہوجایا کرتا تھا ہمسائے اپنے گھر کھول دیا کرتے تھے کہ محلے کی بچی سب کی بچی ہوا کرتی تھی پھر شادی ہال آئے تو جو سرمایہ کاری کرسکتے تھے وہ شادی ہال بنا کر لاکھوںروپے کمانے لگے۔ چلیں شادی ہال کو آج کے دور کی ضرورت کہہ کر جان چھڑائی جاسکتی ہے مگر ایک اور مصیبت بھی موجود ہے جسے بیوٹی پالرکہتے ہیں ہمیں نہیں معلوم اگر کسی دوست کو معلوم ہو تو وہ ہماری رہنمائی کرے کہ کیایہ بیوٹی پالر ٹیکس نیٹ میں آتے ہیں؟ ان بیوٹی پالرز کو چلانے والے لاکھوں روپے کمارہے ہیں !یہ کوئی زبانی کلامی بات نہیں ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آج کل دلہن کی آرائش و زیبائش کے حوالے سے مختلف ریٹس مقرر ہیں یہ کہانی 18000سے شروع ہوکر لاکھوں تک جا پہنچتی ہے ان بیوٹی پالرلز کا طریقہ واردات بڑا انوکھا ہے یوں کہیے لوگوں کو بڑی ہوشیاری کے ساتھ بیوقوف بنایا جارہا ہے۔ یہ چھ سات دلہنوں کو ایک ہی وقت دیتے ہیں جس کا دورانیہ چھ ساتھ گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے غرض یہ ہوتی ہے کہ ہم بہت زیادہ محنت کرتے ہیں اس لیے اتنے زیادہ پیسے بھی وصول کرتے ہیں۔ یہ دوپہر ایک بجے کا وقت دے کر سب دلہنوں کو کرسیوں پر بٹھا دیتے ہیں اب ہر دلہن کو پانچ دس منٹ تک لیپا تھوپا جاتا ہے یہ لوگ درمیان میں کھانا بھی کھاتے ہیں چائے کے دور بھی چلتے رہتے ہیں۔ اس طرح ہر دلہن کی باری بیس پچیس منٹ بعد آتی ہے یہ سب سے پہلے دلہن کے چہرے کی معصومیت کو خاک میں ملادیتے ہیںاس کی اصل اور حقیقی رنگت کو کئی تہوںمیں چھپا کر بے نور سی سفیدی میں چھپادیا جاتا ہے۔ آنکھوں پر اتنی بھاری مصنوعی پلکیں لگا دی جاتی ہیں کہ اس مظلوم کے لیے آنکھیں کھولنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب کچھ اتنا مصنوعی ہوتا ہے کہ دلہن کو اس کے حقیقی بہن بھائی بھی نہیں پہچان پاتے !اگر اس فضول قسم کی آرائش کے خلاف کوئی ہماری طرح کمزوروناتواں آوا ز بلند بھی ہوتی ہے تو حوا کی بیٹیاں اسے چندلمحوں میںدبا دینے کی قدرت رکھتی ہیں! مرد بیچارہ مظلوم ہے رسم و رواج کی اس رنگین دنیا میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ویسے ہماری بڑی شدید خواہش ہے کہ اگر ان بیوٹی پالرز پر کوئی انکم ٹیکس عائد نہیں کیا جارہا تو اب ضرور لگادینا چاہیے! ۔

متعلقہ خبریں