Daily Mashriq

گھر میں بہار آئی ہے

گھر میں بہار آئی ہے

آج فروری کے مہینے کی چھبیس تاریخ ہے۔ گویا تین دن کا مہمان ہے فروری 2018کا یہ مہینہ۔ 28 فروری کے بعد مارچ کا مہینہ شروع ہوجائے گا۔ گویااس سال 28دن کا ہوگا فروری کا یہ مہینہ۔ سال 2019 میں بھی فروری کا مہینہ 28 ہی دن کا ہوگا۔ جب کہ 2020 میں فروری کے مہینے کے 29 دن ہونگے۔ فروری کے علاوہ سال کے دیگر مہینوں کے دن 30 یا 31 ہوتے ہیں جب کہ فروری کے دنوں کی تعداد 28 یا 29 ہی ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ معلوم ہے کہ آپ میں بہت سے صاحبان عقل و دانش یہ سب کچھ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ مجھے اس بات کا ادراک اس وقت ہوتا ہے جب میرے محترم قارئین ای میل، ایس ایم ایس ٹیلی فونک کال یا زبانی کلامی بات کرکے میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں یا کسی اچھے سے مشورے سے نوازتے ہیں۔ لیکن اپنے ان مہربانوں کے لئے جب بھی مجھے کچھ لکھنے کا موقع ملتا ہے میں اپنی کم مائیگی کو بری طرح محسوس کرتا ہوں اور کسی ایک موضوع پر لکھنے سے پہلے مجھے اپنی استطاعت کے مطابق اپنے ذہن و شعور میں گلتے سڑتے مواد کی چھان پھٹک کرنے کے علاوہ جو کچھ میرے ہاتھ لگتا ہے اس کا مطالعہ کرتا ہوں اور اگر ضرورت پڑے تو اپنے حاصل مطالعہ کا حوالہ پیش کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ زیر نظر سطور میں ہم فروری کی’ فروریت‘ کے متعلق بات کرتے ہوئے آپ کے علاوہ اپنے آپ کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ عہد قدیم میں رومن تہذیب کے پروردہ فروری کے نام کی وجہ تسمیہ طہارت اور پاکیزگی بتاتے تھے۔ وہ پاکیزگی کو فیبرم februum کہتے تھے۔ ان کے ہاں فروری سال کا آخری مہینہ تھا۔ گویا ان کا ہر سال فروری کی آخری شام کو ختم ہوجاتا تھا۔ قدیم رومن فروری کے آخری ایام میں فصل بہار کی آمد سے پہلے ایک تہوار مناتے، جس میں پاکیزگی اور طہارت حاصل کرنے کے لیے مختلف رسومات ادا کی جاتیں۔ آج کل فروری عیسوی، انگریزی یا گریگورین کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے۔ہر سال فروری کے مہینے کے دنوں کی تعداد اٹھائیس ہوتی ہے جب کہ ہر وہ سال جس کا عدد چار کے ہندسے پر پورا پورا تقسیم ہوجائے اسے لیپ کا سال کہتے ہیں ۔ لیپ چھلانگ مارنے کو کہتے ہیں ۔ لیپ کے سال کے دوران فروری کے مہینے کے دنوں کی تعداد اٹھائیس سے بڑھ کر انتیس ہوجاتی ہے۔ گویا ہر چار سال بعد فروری کا مہینہ ایک دن کی چھلانگ مار اٹھتا ہے ۔ رواں سال 2018چار کے ہندسے پر پورا پورا تقسیم نہیں ہوتا اس لئے اس کے دنوں کی تعداد 28ہے اسی طرح 2019کا ہندسہ بھی چار پر پورا پورا تقسیم نہیں ہوتا اس لئے اس سال کے فروری کے مہینے کے دنوں کی تعداد بھی 28ہی ہوگی ۔ جب کہ اس کے برعکس سال 2020کو ہم چار پر پورا پورا تقسیم کرسکتے ہیں اس لئے ہم اسے لیپ کا سال کہنے کے علاوہ اس سال کے فروری کے دنوں کی تعداد میں ایک دن کا اضافہ کرکے 28کی بجائے 29دن شمار کریں گے ۔ فروری کی اس انفرادیت کو ہم نے’ فروریت‘ کا نام دیا ہے ۔رہی مرضی لغت نگاروں کی کہ وہ فروری کی فروریت کو قبولتے ہیںیا نہیں فروری کے مہینے کے 28دن کیوں ہوتے ہیں اور ہر چار سال بعد یہ 29دن کا کیوں ہوجاتا ہے ۔ جس کا جواب دیتے ہوئے مطالعہ قدرت کرنے والے بتاتے ہیں کہ زمین کا سورج کے گرد گردش کا دورانیہ 365 دنوں کا نہیں ہے بلکہ چوتھائی دن زیادہ ہے۔ یعنی کہ 365 دن، پانچ گھنٹے، 49 منٹ اور 12 سیکنڈ۔ اور چونکہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے اس لیے موسموں کی تبدیلی کا انحصار بھی زمین اور سورج کے اس گردش کے رشتے پر ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ہر سال 365 دن رکھیں تو ہر سال چوتھائی دن کا فرق پڑنے لگتا ہے اور کیلنڈر موسموں سے دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ 45ویں صدی قبل مسیح میں اس مسئلے کو روم کے بادشاہ جولیس سیزر نے حل کرنے کی کوشش کی ، ان کے بعد اس گتھی کو سلجھانے کے لئے 8ویں صدی قبل مسیح کے اصلاح پسند بادشاہ آگسسٹس سیزر نے اپنے کیلنڈر کو نظام قدرت کے مطابق وضع کرنے کی کوشش کی ، ان کے بعد 16ویں صدی عیسوی نے پاپ گریگورین نے گریگورین کیلنڈر متعارف کرایا جو آج تک سکہ رائج الوقت کی حیثیت حاصل کئے ہوئے ہے۔ لیکن جامعہ کراچی میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف سپیس اینڈ پلینٹری ایسٹروفزکس کے اسسٹنٹ پروفیسر شاہد قریشی کہتے ہیں ’’یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ ہر چوتھا سال لیپ ایئر ہوتا ہے‘‘۔ اللہ اکبر ، اللہ کی اللہ جانے ۔ عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جو نظام قدرت کا مطالعہ کرکے

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے

دکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے

کااقراربالسان و تصدیق بالقلب کرتے ہیں ۔ چمن چمن فصل بہار ہریالی ، خوشبو اور رعنائی لیکر اتر رہی ۔ لبوںپر بہاریہ نغمے مچلنے لگے ہیں ۔ مہربان موسموں کی نوید دل اور دماغ کو معطر کررہی ہے۔ اگر فروری کا یہ مہینہ 28دن کا ہے اور اگر یہ ہر چوتھے سال 29دن کا نہ ہوتا تو بہار کا یہ موسم کبھی فروری کے مہینے میں آتا تو کبھی کسی اور مہینے میں آن وارد ہوتا۔ بہار کا موسم ہرسال 21فروری سے شروع ہوجاتا ہے کہ فروری کبھی 28دن کا ہوتا ہے تو کبھی لگے بندھے اصول کی پیروی کرتے ہوئے 29دن کا ہوجاتا ہے اسے ہی ہم فروری کی انفرادیت بھی کہتے ہیں اور اس کی فروریت بھی

اگ رہا ہے درو دیوار سے سبزہ غالب

ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

متعلقہ خبریں