Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مولانا اشرف علی تھانویؒ اپنی کتاب ’’اصلاح النساء‘‘ میں تحریر کرتے ہیں کہحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی ؐ کے درمیان کے زمانے میں ایک بزرگ آدمی تھے ، جریج ان کا نام تھا، نوجوانی میں ہی وہ رب تعالیٰ کی عبادت میں لگ گئے تھے اور غفلت سے الگ ہو کر جنگل میں ایک عبادت خانہ بنالیا تھا۔ ایک دفعہ وہ نفل نماز میں مشغول تھے، اتنے میں ان کی والدہ نے دروازے پر آکر ان کو پکارا۔ وہ نماز کی وجہ سے نہ بول سکے، ان کی ماں کو یہ خبر نہ تھی، وہ ان کے جواب نہ دینے سے ناراض ہوئی اور ان کو یہ کوسنا دیا کہ الٰہی! اس کو بدچلن عورتوں سے پالا نصیب ہو چونکہ ماں باپ کا بڑا حق ہوتا ہے اور اسی واسطے یہ مسئلہ ہے کہ اگر نفل نماز میں ماں باپ پکاریں اور ان کو اس نفل نماز پڑھنے کی خبر نہ ہو تو نفل نماز توڑکر والدین کو جواب دینا چاہئے، مگر جریج عالم نہ تھے، اس واسطے وہ نہیں بولے اور ماں کے حق میں کوتاہی ہوئی۔ اسلئے ماں کا کوسنالگ گیا اور بیچارے پریہ مصیبت پڑی کہ حسد کرنے والے لوگوں نے ایک عورت کو سکھلا یا کہ کسی طرح جریج کو بد نام کرے۔

اس عورت کا جب بچہ پیدا ہوا تو اس نے جریج پر تہمت لگا دی، لوگ عبادت خانہ پر چڑھ آئے اور اس کو ڈھا گرایا اور جریج پر سختی کرنے لگے کہ دیکھ! یہ عورت کیاکہتی ہے؟ جریج نے اس کے دودھ پیتے بچے کی طرف منہ کر کے کہا بتلا تیر ا باپ کون ہے؟ اس نے ایک چرواہے کا نام لیا، پھر تو تمام لوگ بڑے معتقد ہوئے اور لگے ہاتھ پائوں جوڑنے۔ وہ عورت ایک نیک آدمی پر تہمت لگا کر کیسی ذلیل ہوئی اور رب تعالیٰ نے اس کو کیسا رسوا کیا۔ کبھی کسی بے گناہ پر تہمت کسی طرح نہیں دھرنا چاہئے۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ذرا سے شبہ میں کسی پرتہمت لگادی، کہیں کسی کے سرچوری رکھ دی۔ یہ سب باتیں بہت گناہ ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اولاد کو ہروقت کوسنا اچھا نہیں، جانے کون سی گھڑی قبولیت کی ہو، پھر خواہ مخواہ اولاد کو بھی پریشانی ہو اور ان کی پریشانی دیکھ کر اپنے آپ کو بھی صدمہ ہو اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماں باپ کا بڑا حق ہے، آج کل اس بات کا بہت کم خیال کرتے ہیں اس میں کبھی غفلت اور کوتاہی نہیں کرناچاہئے۔ جریج کا قصہ امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے ۔ (اصلاح النساء)

مشہور صحابی حضرت عمرو بن عاصؓ نے مصر کو فتح کرنے کیلئے وہاں ایک قلعے کے سامنے ایک بڑا خیمہ نصب کیا تھا، پیش قدمی کا ارادہ فرمایا تو اس خیمے کو اکھاڑ کر ساتھ لے جانا چاہا، لیکن جب اکھاڑنے کیلئے آگے بڑھے تو دیکھا کہ خیمے کے اوپر کی جانب ایک کبوتری نے انڈے دے رکھے ہیں اور ان پر بیٹھی ہے۔ خیمہ اکھاڑنے سے یہ انڈے ضائع ہوجاتے۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے فرمایا کہ اس کبوتری نے ہمارے خیمے میں پناہ لی ہے، اس لیے میں خیمے کو اس وقت تک باقی رکھوں گا جب تک یہ بچے پیدا ہو کر اڑنے کے قابل نہ ہوجائیں چنانچہ وہ خیمہ باقی رکھا گیا۔ (جہان دیدہ ، صفحہ 140)

متعلقہ خبریں