Daily Mashriq

سیاحت کے فروغ کے تقاضے اور ڈنگ ٹپا ئوکی پالیسی

سیاحت کے فروغ کے تقاضے اور ڈنگ ٹپا ئوکی پالیسی

پاکستان میں آسٹریا کے سفیر نکولس کلرکا صوبائی دارالحکومت کے اپنے تفصیلی دورے میں بغیر کسی پروٹوکول اور سیکورٹی کے اندرون شہر کے مختلف بازاروں اور تاریخی مقامات کی سیر تاریخی بازار قصہ خوانی ، چترالی بازار، بازار مسگراں ، پیپل منڈی ، چوک یادگار، اندر شہر، گھنٹہ گھر، بازار کلاں اور مسلم مینا بازار جانا دنیا بھر کے سیاحوں خصوصاًیورپی ممالک کے سیاحوں کیلئے پاکستان کی سیاحت کسی بھر پوردعوت کے مترادف ہے ۔ آسڑیا کے سفیر نے پیپل منڈی میں ڈرائی فروٹ کی خریداری بھی کی جبکہ پشاوری قہوے اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء سے بھی لطف اندوز ہوئے گھنٹہ گھر سے شہر کا نظارہ بھی کیا جبکہ تاریخی مسجد مہابت خان بھی گئے۔ معزز سفیر نے پشاور عجائب گھر کی سیر بھی کی اور گندھارا نوادرات میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر آسٹریا کی مہمان خاتون بیانکا بھی ان کے ہمراہ تھیں جنہوں نے مسلم مینا بازار سمیت مختلف مقامات پر خریداری بھی کی۔ اس موقع پر اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے نکولس کلر نے کہا کہ پشاور آکر انہیں ایسالگا جیسا کہ وہ ایک حیرت انگیز دنیا میں آئے ہیں۔ یہاں آنے سے قبل انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہاں کے لوگ اس قدر مہمان نواز اور محبت کرنے والے ہیں۔ وہ بغیر کسی سیکورٹی اورپروٹوکول کے ایک عام آدمی کی طرح پورے شہر میں آزادانہ گھومے پھرے لیکن انہیں کوئی خوف محسوس نہ ہوا کیونکہ یہاں مثالی امن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس دورے کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان اوربالخصوص خیبر پختونخوا کے بارے میں جو منفی تاثر پھیلایا گیاہے اس میں کوئی حقیقت نہیں۔آسڑیا کے سفیر اور ان کی ساتھی مہمان خواتین نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں اچانک اور آزادنہ طور پر آکر اور بغیر کسی پروٹوکول اور سیکورٹی کے شہر میں محفوظ انداز میں سیر وسیاحت اور خریداری کر کے خیبرپختونخوا میں غیر ملکی سیاحوں کی آمدورفت کا گویا از سر نو افتتاح کردیا ہے۔ اس بارے کوئی دوسری رائے نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دنوں جب پشاور میں ایک دو بم دھماکوں کے واقعات ہوا کرتے تھے یہ شہر ملکی وغیر ملکی سیاحوں کیلئے تو درکنار یہاں کے مقامی باشندوں کیلئے مقتل بن گیا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ حالات میں بہتری آتی گئی اور کچھ سالوں سے تو صوبائی دارالحکومت مثالی پرامن شہر بن چکا ہے لیکن پاکستان اور پھر خصوصاً خیبرپختونخواکی جو تصویر ذہنوں پر نقش ہوگئی تھی اور پروپیگنڈا کے باعث نہ صرف غیر ملکی بلکہ ملکی سیاحوں کے ذہنوں پر بھی خوف طاری تھا اس کی پر چھائیاں ہنوز باقی ہیں جسے دور کرنے کیلئے صوبائی حکومت اور خاص طور پر سیروسیاحت کے محکمے کو صوبے میں ایسے ثقافتی وسیاحتی پروگرامات کا انعقاد کرنا ہوگا جس سے غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور سیاح اپنی آنکھوں سے یہاں کا ماحول دیکھ کر دوسروں کو ذاتی تجربہ سے روشناس کرا کے سیاحت کی طرف متوجہ کرسکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگرچہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے گزشتہ دورحکومت سے موجودہ وزیراعظم اور اس وقت کی صوبائی حکومت دونوں کو شاں رہے صوبے کی نئی حکومت ایک تسلسل سے سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات کر رہی ہے اس کیلئے پاکستان آمد پرویزا فراہم کرنے کی سہولت تک دی گئی ہے سیاحوں کے تحفظ کیلئے خصوصی پولیس فورس کے قیام کی بھی تیاریاں ہیں لیکن سیاحوں کو متوجہ کرنے کیلئے اقدامات نہ ہونے کے برابرہیں ۔ہمارے جو حکام مہنگے اور پر تعیش فضائی ٹکٹ لیکر کروڑوں روپے خرچ کر کے سڈنی گئے ان کی کارکردگی صفر مساوی صفر ہی رہی اس لئے کہ سرکاری خرچ پر جانے والے افسران ان کے عزیز واقارب اور ایک آدھ نمائندے کو فروغ سیاحت میں شاید ہی دلچسپی تھی۔ بہر حال اس سے قطع نظر ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کیلئے دنیا بھر میں اختیارکردہ اور مروج طریقہ اختیار کئے بغیر سیاحت کا اس حد تک فروغ ممکن نہیں جس کی صوبے میں گنجائش اور ضرورت ہے ۔ دنیا بھر میں سیاحت کے فروغ کیلئے ٹریول ایجنٹس اپنے ملک کے سفیر کا کردار ادا کرتے ہیں یہی لوگ سیاحوں کو متوجہ کرنے کیلئے اشتہاربازی بھی کرتے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے مختلف وسائل کو بروئے کار لا کر سیاحوں کو متوجہ کرتے ہیں۔ یہی وہ نمائند ے ہوتے ہیں جو سیاحوں کو اپنے ملک کی سیاحت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ان کو سیاحتی مقامات سے لیکر ہوٹل ،ٹرانسپورٹ،خوراک یہاں تک کہ روزمرہ اشیاء کے نرخوں تک کی تفصیلات دیتے ہیں اور ان کی روشنی میں سیاحوں کو اخراجات کی تفصیل اور ان کا بجٹ تک بنا کر دیتے ہیں۔ سیاحوں کی ایئر پورٹ پر آمد سے لیکر ایئر پورٹ پر رخصتی تک کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ یوں حکومت کو مفت میں سہولت کار اور خزانے کو آمدنی اور لوگوں کو روزگار اور کاروبار کے مواقع میسر آتے ہیں۔ انہی عناصر کی سہولت کاری کے باعث سیاح جب خوشی خوشی لوٹتے ہیں تو پھر وہ اپنے عزیز رشتہ داروں اور دوستوں کو اس ملک کی سیاحت ہی کا مشورہ نہیں دیتے بلکہ اپنے خوشگوار تجربے اور اعتماد کے باعث ان کو وہ پوری رابطہ کاری بھی بتاتے ہیں جسے بروئے کار لا کر سیاح آسانی کے ساتھ سیاحت کا لطف اٹھا سکتے ہیں ۔ہمارے ملک میں ٹریول ایجنٹس محکمہ سیاست کے لائسنس یافتہ ہونے کے باوجود اس قسم کے اعتماد اور سہولیات سے محروم ہیں کہ وہ کسی سیاح سے رابطے سے لیکر ان کی آمد ویزے کا بندوبست اور رخصتی تک کی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔ ایاٹا کی ضمانت اور محکمہ سیاحت کے لائنس یافتہ ہر ٹریول ایجنسی کو ان کی استعداد اور تجربہ دیکھ کر محولہ سہولت دے کر ہی ہم ملک اور صوبے میں سیاحت کو فروغ دے سکیں گے جب تک سیاحت سرکاری بابوئوں کے رحم وکرم پر ہے اس وقت تک سیاحت کی ترقی وفروغ کا حال دیگر سرکاری محکموں کی کارکردگی ہی کی طرح ڈنک ٹپاو قسم کا ہی رہے گا۔

متعلقہ خبریں