Daily Mashriq

وزیراعلیٰ پولیس سے قبرستان کا قبضہ چھڑوا کر ابتدا کریں

وزیراعلیٰ پولیس سے قبرستان کا قبضہ چھڑوا کر ابتدا کریں

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور میںبیری باغ، اخون آ باد سمیت رحمان بابا قبرستا ن کی زمین پرغیر قانونی تعمیرات اورتجاوزات کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر حقائق معلوم کرنے اور قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی کی جو ہدایت کی ہے اور قبرستان کیلئے مختص زمین پر کسی قسم کی تعمیر یا تجاوزات قائم کرنے کی اجازت نہ دینے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے اس کی ضرورت بہت عرصے سے محسوس کی جارہی تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے تطہیر کارروائی بھی شروع کردی ہے دیکھنا یہ ہے کہ عملدرآمد کی شرح کیا ہوتی ہے اور حکومت کس حد تک قبضہ مافیا سے قبضہ چھڑالیتی ہے کتنے قبرستانوں کی اراضی پر قبریں مسمار کر کے گھر بلکہ محلے تعمیر کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور کتنے قبرستانوں کا تحفظ یقینی بنانے اور مقابر کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات دیکھنے کو ملتی ہے۔ فی الوقت وزیراعلیٰ کے نوٹس لئے جانے کے بعد کی سنجیدہ کارروائی کا انتظار ہی کیا جا سکتا ہے ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا حیات آباد میں قبرستان پر پولیس کے قبضے اوروسیع اراضی پر پولیس تنصیبات قائم کرنے سے لاعلم نہیں ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ اگر قبرستان سے قبضہ چھڑانے کی ابتداء ایک سرکاری ادارے سے قبضہ چھڑانے سے کریں اور پولیس کو فوری طور پر قبضہ مافیا کا کردار نبھانے کی بجائے اپنا قبضہ چھوڑ کر قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری سے کروائیں تو یہ نہایت احسن ہوگا قبضہ مافیا کے پاس کم از کم پولیس کو اپنا ہم پیشہ ثابت کرنے کا موقع تو باقی نہ رہے۔جب تک تطہیر کا عمل گھر سے اور بالادست سے شروع نہ ہو نمائشی کارروائی کا لا حاصل ہونا فطری امر ہوگا۔

بجلی چوری کی روک تھام کامئوثر طریقہ

بجلی چوری کے سدباب کیلئے حکومت نے ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کر لیا، صارفین کو نہ صرف پوری بجلی ملے گی بلکہ بجلی کے مختلف پیکجز ایزی لوڈ کی صورت میں بھی حاصل کر سکیں گے ۔بجلی چوری کی روک تھام کیلئے جدیدٹیکنالوجی کا استعمال اب تک کیوں نہیں ہوا اس ضمن میں دیگر ایجادات وسہولیات اپنی جگہ خود جامعہ پشاور کے شعبہ الیکٹرانکس کے طلبہ نے ایک کامیاب پراجیکٹ کر کے اس کا مظاہرہ بھی کیا تھا لیکن متعلقہ حکام کو شاید بجلی چوری کی روک تھام اور میٹر ریڈروں کی فراغت مطلوب نہ تھی جس کے باعث اس منصوبے کی پذیرائی نہ ہوسکی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بجلی چوری کی روک تھام اور صارف کو واپڈا اہلکاروں کے رحم وکرم پر چھوڑنے اور خاص طور پر چوری کی بجلی کے بل بھی صارفین سے وصولی کی روک تھام کیلئے جتنا جلد ہوسکے اقدامات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔ سازوسامان کی خریداری وتنصیب کیلئے اگر صارفین پر تھوڑا بہت بوجھ بھی ڈالا جائے تو یکبارگی آزادی اور تحفظ کی قیمت دینے پر ان کو ملال نہ ہوگا۔

بیروزگار نوجوانوں سے امتحانی ڈیوٹی لی جائے

نویں اور دسویں جماعت کے امتحانی ہالوں میں ڈیوٹیوں کیلئے پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کو ڈیوٹیاں دینے کے فیصلے پر عملدرآمد کی بجائے روایتی طریقہ ہی پر ڈیوٹیاں لگانے کی منصوبہ بندی کی اطلاعات خوش آئند نہیں ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابق محکمہ تعلیم نے میٹرک اورایف اے ، ایف ایس سی امتحانات میں سرکاری سکولوں کے اساتذہ کیساتھ ساتھ بے روزگار تعلیمی یافتہ نوجوانوں سے بھی امتحانی ڈیوٹیاں لینے کافیصلہ کیاتھا جس کیلئے محکمے نے متعلقہ تعلیمی بورڈز سے سفارشات بھی طلب کرلی تھیں تاہم تعلیمی بورڈز نے محکمہ تعلیم کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کی بجائے میٹرک کے امتحانات کیلئے اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگوانے کیلئے فہرستوں کاجائزہ لینا شروع کردیا ہے جس کے نتیجے میں بے روزگارتعلیم یافتہ نوجوانوں میںتشویش کی لہر دوڑجانا فطری امر ہے ۔ متعلقہ حکام کو چاہیئے کہ وہ امتحانی فرائض کیلئے بیروزگار نوجوانوں کو موقع دیں توقع ہے کہ یہ تجربہ نقل کی روک تھام میں بھی مئوثر ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں