Daily Mashriq

سردجنگ کے اشارے

سردجنگ کے اشارے

عالمی مبصر اور حالات سے واقف کاراہل دانش ایک عرصہ سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ حالات ایک نئی سرد جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ اسی منظر نامے کی تبدیلی کا براہ راست تعلق افغانستان میں امریکی ہزیمت سے ہے۔ امریکا اس امر کی پوری کوشش کر رہا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جنگی ٹیکنالوجی رکھنے والی طاقت کی دنیا کے سب سے پسماندہ ملک میں ناکامی پر پردہ ڈال دے۔ اس بات کا اندازہ ایک برس قبل سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے بارے میں غیر سفارتی زبان کے استعمال سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک برس بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے سالانہ صدارتی خطاب میں پاکستان کا کوئی ذکر نہ تھا ۔

امریکہ کے پالیسی امور کے بارے میں امریکی سیاسی قیادت اور فوجی قیادت کے اختلافات بھی ظاہر ہو چکے ہیں، ان اختلافات کے اشارے سابق امریکی صدر بارک اوباما کے دور میںبھی ملنے شروع ہو گئے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے صاف اور کھردرے طرز بیان نے ان داخلی اختلافات اور بحران کو طشت ازبام کر دیا ہے۔ پالیسی سازی میں اختلاف کی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے لیکن موجودہ صورتحال امریکا کی واحد عالمی بالا دستی کو در پیش مخفی خطرات کو ظاہر کر رہی ہے۔جس کو امریکی مدبرین محسوس کر رہے ہیں، گزشتہ17 برسوں میں امریکا افغانستان کی جنگ میں 4ٹریلین ڈالر جھونک چکا ہے۔ اس کی قیمت دنیا کی سب سے بڑی معیشت نے یہ بھی دی ہے کہ اس ملک کا عام آدمی معاشی محرومی کا شکار ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکا میں انتخابی کامیابی بھی اسی محروم اور ساتھ ہی سفید فام امریکی کی تشویش کا اظہار ہے۔ اس عرصے میں جو بڑی تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ عالمی معیشت کا مرکز ، امریکا اور یورپ سے ایشیاء منتقل ہو گیا ہے۔ امریکی سرمایہ دارانہ نظام کی قیادت کا خیال تھا کہ وہ نئی سرمایہ داریت کے ذریعے اور سرمایہ دارانہ نظام کے اداروں کی مکمل گرفت کے ذریعے پوری دنیا کو اپنا سیاسی اور اقتصادی غلام بنائے رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔اس کا اظہار امریکی مدبرین کے متکبرانہ تجزیوں اور بیانات سے بھی ہوتا تھا۔عالمی معیشت کا مرکز ایشیاء میں منتقل ہونے کے بعد اس کی قیادت چین کو منتقل ہوتی نظر آرہی ہے، امریکا نے اپنی عالمی بالا دستی بر قرار رکھنے کے لیے پوری دنیا میں مسلم آبادی کا خوف بھی پیدا کر دیا تھا۔اس لیے کہ دنیا کے جغرافیائی تذویراتی مرکز عالم اسلام اور دہشت گردی کو ایک دوسرے سے جوڑ کر اسلامو فوبیا کو عالمی بیانیہ بنایا گیاتھا اور اس بیانیے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے مسلم دنیا میں اسے آلہ کار بھی دستیاب ہیں،افغانستان پر حملے کے دو برس بعد امریکا نے عراق پر بھی براہ راست قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ پہلی جنگ خلیج کے بعد عراق عملاً مفلوج ہو چکا تھا۔ امریکی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے لاکھوں بچے بھوک اور بیماری سے ہلاک ہو چکے تھے ، اس کے باوجود عالم اسلام کے نئے نقشے کی تشکیل کے لیے عراق پر قبضہ ناگزیر سمجھا گیا۔امریکی صدر کو ڈرون حملے کے ذریعے ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ کا ریاستی دہشت گردانہ اختیار دیا گیا۔ اس عمل نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا بھر کا امن خطرے میں ڈال دیا۔ دہشت گردی کے خاتمے کی عالمی جنگ امریکی سامراجیت کا نیا ہتھیار تھی۔ ہم روز اول سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ امریکی وار آن ٹیرر‘‘ فروغ دہشت گردی کی جنگ ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ریاستی دہشتگردی کے بطن سے دہشت گردی ہی پیدا ہو سکتی ہے۔لیکن یہ بات کسی کو سمجھ میں نہیں آئی۔ خاص طور پر عالم اسلام کے اس حکمران طبقے کو بالکل بھی سمجھ میں نہیں آئی جو نو آبادیاتی دور سے یورپ کی استعماری طاقتوں کا آلہ کار تھا، جس نے نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد امریکی غلامی اختیار کر لی تھی۔ اس طبقے نے اپنے اپنے ملک میں اپنی ہی قوم سے جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ مسلم ممالک میں جبر و استبداد کی حکمرانی کا سبب بھی عالمی قوتوں کی یہ خواہش ہے کہ مسلمان ممالک سمیت تیسری دنیا کا کوئی ملک آزادانہ راستہ اختیار نہ کرے۔ہر ملک کے حکمراں عالمی طاقتوں کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ عالمی طاقتوں نے بھی ایسے حکمرانوں کو جنہوں نے ذرا سی بھی آزادانہ روش اختیار کی عبرت کا نشان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ عرب دنیا نے جمہوری آزادیاں حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن عالمی طاقتوں نے ان ممالک کی جمہوری آزادی کی جد وجہد کو خانہ جنگی میں تبدیل کر دیا ، پوری دنیا نے یہ سمجھ لیا کہ اب امریکہ اور مغرب کو تا قیامت کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ سائنسی اور ٹیکنالوجیکل ترقی نے ان قوتوں کو اتنا طاقتور کر دیا ہے کہ یہ غلبہ ابدی محسوس ہونے لگا تھا۔ لیکن دنیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ساری جنگی اور سائنسی ترقی کے باوجود دنیا پر یکطرفہ امریکی بالا دستی چیلنج ہو گئی ہے۔ طاقت کے نئے مراکزپیدا ہو گئے ہیں۔ اس تبدیلی نے سب سے زیادہ اثر عالم اسلام اور پاکستان پر ڈالا ہے۔ اس پس منظر میں اگر امت مسلمہ اقبال کے خواب کے مطابق ایک ہو جائے تو وہ انسانیت کو امن عالم کا تحفہ دے سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے مقصدِ وجود کا شعور حاصل ہو جائے۔عملی صورتحال یہ ہے کہ عالمی طاقتیں ، مسلمانوں کو مسلمان بن کر زندہ رہنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔ عالم اسلام کی قیادت ذہنی اور اخلاقی طور پر مفلس ہو چکی ہے۔ بدلتے عالمی منظر نامے کا اثر مسلم ممالک کی داخلی صورت حال پر بھی پڑ رہا ہے۔ ان حالات نے نئے امکانات پیدا کر دیے ہیں لیکن ’’آزاد‘‘ قیادت کا وجود کہاں ہے؟کیا مسلمان قیادت بھی دنیا کے بدلتے حالات سے آگاہ ہے،کیا مسلم قیادت اپنے آپ کو حقیقی خودمختاری دلانے کے اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،کیا مسلم قیادت آپسی اختلافات بھلاکر ایک ساتھ بیٹھنے کیلئے تیارہے؟۔

متعلقہ خبریں