Daily Mashriq

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

ایک سروے کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکو ں میں سگریٹ نوشی میں حیرت انگیز اضافہ ہورہا ہے ، اصل میں اٹھارہ سال اور اس سے زائد عمر کے افراد عمر کے اس حصہ میں قدم رکھتے ہیں جہاں سگریٹ تو کیا صحت وتندرستی اور اخلاق کو نقصان پہنچانے والی ہر حرکت کی آزادی ہوتی ہے ، زندگی کے اٹھارہویں برس کو عنفوان شباب کے عروج کازمانہ کہتے ہیں۔ اور مغربی ممالک میں اس عمر کے لوگوں کو نفسانی خواہشات پوری کرنے کے لئے گوارا سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے بچپن ہی سے اپنے شہر کے سینما گھروں میں چلنے والی قابل اعتراض مناظر پر مبنی فلموں کے اشتہارات پر جلی حروف سے’ صرف بالغوں‘ کے لئے کا جملہ لکھا دیکھا کرتے تھے۔ جس کا مطلب یہ لیا جاتا تھا کہ

ہے دیکھنے کی چیز

اسے بار بار دیکھ

ہم فلموں کے اشتہارات یا ان کے پوسٹر پر’ صرف بالغوں کے لئے‘ قسم کا جملہ لکھی فلموں کے سینما گھروں کا جائزہ لیتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے بالے بھی ٹکٹ کی کھڑکی سے باہر لگی لمبی قطار میں کھڑے ہیں۔ بڑی دھکم پیل اور لڑائی مارکٹائی کے دل دہلا دینے والے لائیو مناظر دیکھنے کو ملتے صرف بالغوں کے لئے لکھے جملے کے اشتہار والی فلموں کے ٹکٹوں کی کھڑکی کے باہر، ان دنوں ایسی فلموں کو کھڑکی توڑ فلم بھی کہا جاتا تھا۔ ایسی فلموں کے ٹکٹوں کی کھڑکی برائے نام کھلتی اور پھر یہ کہہ کر بند کردی جاتی کہ ٹکٹ ختم ہوگئے اور یوں دس کا ٹکٹ سو دو سو روپے میں بکنے لگتا۔ سینما ہالوں کے گیٹ کیپر بلیک میں ٹکٹ بیچنے کا کاروبار کرتے اور وہ اس بات کی قطعاً پرواہ نہ کرتے کہ ٹکٹ خریدنے والا بالغ ہے یا نابالغ۔ ہمیں یاد پڑتا ہے ایک معمولی نوعیت کا نیم عریاں ڈانس تھا ایک بلیک اینڈ وائٹ فلم میں جس کو دیکھنے کے لئے ٹوٹ پڑے تھے جہاں بھر کے اوباش فلم بین۔ سینما ہالوں میں جاکر فلمیں دیکھنے کے رجحان میں اس وقت کمی آنے لگی جب ہر گھر میں ٹی وی سیٹ پہنچ گیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن سے ہفتہ میں ایک فلم کانٹ چھانٹ او کتر بیونت کے بعد پیش کی جاتی۔ جو پی ٹی وی کی جھولی میں ڈھیروں اشتہارات اور ان سے ہونے والی آمدن ڈال دیتی۔ جن گھروں میں ٹی وی نہ ہوتا ان کے مکین اپنے خویش رشتہ داروں کے گھر جاکر فلم دیکھتے پیار اور محبت کے لطیف جذبوں کو پروان چڑھانے وا لے گھریلو سینما گھروں کے اس کلچر میں اس وقت دراڑیں پڑنے لگیں جب وی سی آر آگیا۔ گلی گلی میوزک سنٹر کھل گئے اور لوگ کرائے پر فلم کی کیسٹ لاکر ہر وہ فلم دیکھنے لگے جس کی کمرشل ویلیو بڑھانے کے لئے اس میں عریانی و فحاشی کو جز و لاینفک سمجھا جاتا۔ کسی زمانے میں کم عمر کیا بڑی عمر کے بچوں کو ابھی اس بات کا علم نہیں ہوتا تھا، کہ نومولود بچہ کہا ں سے آتاہے ، چھوٹے بچوں کو نومولود کے بارے میں بتایا جاتا تھا کہ اسے دائی اماں کسی نہر سے اٹھا کر لائی ہے ، مگر گھر گھر وی سی آر پر چلنے والی فلموں نے بچے بچے کو بچوں کے جنم کے بارے میں سب بتا دیا ، جبھی تو ہم نے اسداللہ خان کی روح سے معذرت کے ساتھ

بنا کر ہم بھیس فقیروں کا غالب

تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں

کی پیروڈی کرتے ہوئے لکھاتھا کہ

چھپایا بڑوں نے تھا جو راز ہم سے

کھلا ہم اسی کا بھرم دیکھتے ہیں

کیا اور دھرا یہ ہے فلموں کا سارا

کہ بچوں کا بچے جنم دیکھتے ہیں

وی سی آر کے بعد ڈش انٹینا کا دور آیا پھر گلی گلی کیبلز کا جال بچھ گیا۔ کمپیوٹر ایج شروع ہوئی تو اپنے ساتھ سی ڈی کلچر بھی لے کر آئی یو ایس بھی کلچر بھی اس ہی دور میں متعارف ہوا اور اب صورت حال یہ ہے کہ ہر ہاتھ میں اینڈ رائڈ موبائل کی صورت منی کمپیوٹر آ پہنچا، جس پر ہمارے بچے بالے وہ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں جو پرانے وقتوں میں معیوب ہی نہیں گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا ، بلوغت کی عمر سے پہلے ہی بالغ ہوگئے ہیں ہمارے بچے بالے ، وہ چھوٹی عمر میں سگریٹ ہی نہیں پھونکتے ، ہر اس عیب کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی ممانعت کی جاتی ہے، ہمارے ملک میں تمباکو اور تمباکو سے بنی ہوئی ہر نشہ آور چیز پر مکمل پابندی ہوتی تو شاید ایسی خبریں کبھی نہ جنم لیتیں کہ بچہ عہد جوانی تک پہنچنے سے پہلے ہی سگریٹ ،چرس، ہیروئین ، پان ، گٹکا ، اور اس قبیل کے دیگر نشوں کا عادی ہوکرکار آمد انسان کی بجائے زندہ لاش بن رہا ہے ۔

واللہ کسی شوق کے مارے نہیں پیتا

پیتا ہوں اس لئے کہ جل جائے جوانی

سگریٹ کے مرغولوں میں اپنی چڑھتی جوانی کو اڑا دینے والے شوقیہ سگریٹ نوش جب منشیات کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اس وقت چند گھڑیوں کے لئے جینے لگتے ہیں جب انہیں بھری ہوئی سگریٹ ملتی ہے اور اس وقت زندہ لاش بن جاتے ہیں جب انہیں یہ زہر نہیں ملتا ، یہ سب سگریٹ ہی کا کیا دھرا ہے ، کون بیچ رہا ہے منشیات کا عادی کرنے کا یہ زہر اور کس کی سرپرستی میں ہورہا ہے یہ کاروبار ، خبر دار سگریٹ صحت کے لئے مضر ہے قسم کا تنبیہی جملہ لکھ کر آپ ہمارے عہد کے بچوں کوزہر نوشی سے روکا نہیں جاسکتا ، کیونکہ آج کے بچے وہ بچے نہیں رہے جنہیں ہم بچے کہا کرتے تھے ، بقول پروین شاکر

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

متعلقہ خبریں