Daily Mashriq

برہمن کی نفسیات اور پاکستان

برہمن کی نفسیات اور پاکستان

جو لوگ ہندومت کی تاریخ اور برہمن کی نفسیات پر نظر رکھتے ہیں،اُنہیںنریندر مودی کی دھمکیوں اور متعصب اور تنگ نظر برہمن کی مسلم دشمنی پر ذرا بھی اچنبھا نہیں۔ ہمارے بزرگوں سرسید احمد خان سے لیکر علامہ محمد اقبالؒ اور قائد اعظمؒ نے مسلمانان ہند کے مستقبل کے تحفظ اور اسلامی شناخت کی بقا کے لئے ہندوستان کے اور مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل الگ ملک کا تصور پیش کر کے اپنی زندگیوں کی بھر پور اور آخری اننگ کھیلی تھی۔اُنہوں نے1935ء ایکٹ کے تحت1936-37ء کے انتخابات کے نتیجے میں ڈیڑھ سالہ کانگریسی اقتدار نے مسلمانان ہند کو اپنی مسلم شناخت کی باز یافت میں دوٹوک اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔وہ دن کہ 1940ء میں قرارداد پاکستان منظورہوئی اور ٹھیک سات سال بعد دنیا کا بڑا اسلامی ملک پاکستان وجود میں آیا اور آج کا دن کہ پاکستان کے قیام کو ستر برس ہوگئے ، لیکن مہا بھارت کی تعلیمات پر ایمان رکھنے والے اور اکھنڈبھارت کی بے بنیاد سوچ کے حاملین پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر کے بھی تقیہ سے کام لیتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برہمن اور بنیا کو جب بھی موقع ملا ہے اُس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کیا ہے ۔1948ء کی کشمیر جنگ سے لیکر1965-71ء اور کارگل تک کی جھڑپوں اور معرکوں میں یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو انگوٹھے کے نیچے لایا جائے۔ یہاںتک کہ 1971ء میں مکتی باہنی کا بھیس بدل کر بھارتی افواج مشرقی پاکستان پر چاروں طرف سے حملہ آور ہوئیں۔ اور ہماری پینتیس ہزار افواج کو نرغے میں لیا۔ ہماری بہادر افواج بھارت کی ہر قسم کی عددی برتری کے باوجود آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑنا چاہتی تھی لیکن بنگلہ بندھو کی بے وفائیوں، مغربی ومشرقی پاکستان کے درمیان ایک ہزار میل کی مسافت اور درمیان میں بھارت جیسے ’’ دشمن‘‘ کے وجود کے سبب ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئی۔ اس کے باوجود ہمارے ہاں ایسے دانشوروں ،سیاستدانوں اور صحافیوں کی ایک کھیپ موجود رہے جو اس قسم کے سارے واقعات کا ملبہ اسی طرح پاکستان پر ڈالتے ہیں جس طرح بھارت ممبئی حملوں سے لیکر پلوامہ اٹیک تک پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ اس وقت ان ایٹمی طاقت کے حامل پڑوسیوں کے درمیان حالات جس سنگین نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ اُس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی حدت امریکہ اور اقوام متحدہ تک پہنچ چکی ہے ۔ اگر (خدانہ کرے) ان دو ملکوں کے درمیان اس دفعہ جنگ شروع ہوئی تو دونوں ملکوں کے عوام کے علاوہ دنیا بھی اس سے پہلے کی جنگوں کو بھول جائیگی ۔ امریکہ کے ایک ماہر ماحولیات نے تو ماہرین کی آرا کے مطابق یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس جنگ سے دنیا کی نوے فیصد آبادی ملیا میٹ ہوسکتی ہے۔ہماری دعا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی جنگ نہ ہو کیونکہ رحمۃ للعالمین نے دنیا کو امن کا درس دیا ہے ۔ اس لئے فرمایا ہے کہ جنگ کی دعا کبھی نہ کی جائے۔ لیکن ساتھ ہی امت کو یہ ہدایت بھی عطا فرمائی ہے کہ اگر کوئی دشمن مسلمانوں پر جنگ مسلط کردے تو اُس وقت پیٹھ پھیر بھاگنے والے کو منافق اور اُس کی موت کو منافق کی موت فرمایا ہے۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے اندر عقل وفہم رکھنے والے نریندرمودی کو یہ بات سمجھائیں کہ پا کستان کے ساتھ جنگ میں دونوں ملکوں کی تباہی وبربادی کے سوا کچھ بھی حاصل ہونے کا نہیں اور نوشتہ دیوار کی طرح یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ جب تک کشمیریوں کو اُن کا حق ، حق خود ارادیت نہیں دیا جاتا، اس خطے میں امن وسلامتی کی بات کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل جنگوں میں نہیں مذاکرات میں ہے ۔ مذاکرات بھی تب کامیاب ہوسکتے ہیں جب بھارتی اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھناترک کردیں۔ قیام پاکستان کو کھلے دل سے اپنے پڑوسی کے طور پر تسلیم کرے۔ تب کہیں جاکر دونوں ملکوں کے عوام سکھ کی زندگی کی طرف گامزن ہوسکتے ہیں۔ورنہ بھارت کویاد رکھنا ہوگا کہ اہالیان پاکستان اور ان کی پاک افواج کا یہ ایمان کہ برہمن کی زیادتیوں اور ظلم وستم اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف تن من دھن قربان کرنے سے اُنہیں اللہ کے ہاں جو مقام ملے گا وہ شہید کا مقام ہے اور یہ ہر مسلمان کی آرزو ہے کہ اُسے شہادت کی موت ملے لیکن اس کے ساتھ سعادت کی زندگی کی بھی دعا کرتا ہے ۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ دونوں ملک امن کے ساتھ سعادت کی زندگی گزارنے کی سبیل نکالیں اور اس کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے ۔ پاکستان امن پسند ملک ہے اور اس کے عوام بھارت سے برہمنوں کی طرح تعصب اور دشمنی کے جذبات نہیں رکھتے ۔ لیکن اگر بھارت پھر بھی باز نہیں آتا۔۔تو جنرل ضیاء الحق مرحوم کی بات ریکارڈ پر ہے جو اُنہوں نے ایسے ہی حالات میں راجیو گاندھی سے کہی تھی اور اُس کا خاطر خواہ اثر ہوا تھا کہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تو اُس میں ایٹمی استعمال ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ملک صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں ۔۔لیکن راجیو یاد رکھیں کہ دنیا میں ہندوئوں کا ایک ہی ملک ہندوستان ہے جبکہ پاکستان کے علاوہ دنیا میں چھپن اسلامی ممالک ہیں گویا دنیا میں مسلمان پھر بھی باقی رہیں گے جبکہ ہندوئوں کا صفایا ہو جائیگا‘‘۔ کیا ایسے حالات میں ہندوستان کے صاحبان عقل ہوش کے ناخن نہیں لینگے؟۔

متعلقہ خبریں