Daily Mashriq

نام میں کیا رکھا ہے مگر متعصبانہ سوچ کاکیا علاج؟

نام میں کیا رکھا ہے مگر متعصبانہ سوچ کاکیا علاج؟

یہ رویہ ہر دو جانب موجود ہے‘ یہ نفسیاتی بیماری لگتی ہے کہ جس سے آپ کو نفرت ہے اس کی ہر بات آپ کو بری لگتی ہے اور پھر یہ نفسیاتی روئیے بالآخر عصبیت میں ڈھل جاتے ہیں۔ بھارت میں ان دنوں پاکستان سے نفرت اور تعصب کے جو مظاہر دیکھنے کو مل رہے ہیں ان میں ایک لفظ کراچی کے خلاف بھارتی انتہا پسندوں کا حالیہ مخالفانہ مظاہرہ ہے کہ بھارت کے شہر بنگلور میں ’’کراچی بیکری‘‘ کے نام سے قائم ایک دکان پر دھاوا بول دیا گیا۔ اس سے پہلے کراچی بیکری کے نام سے کاروبار چلانے والوں کو دھمکی آمیز کالیں بھی موصول ہوتی رہیں اور گزشتہ روز ایک مشتعل ہجوم نے بیکری کے باہر جمع ہو کر مالکان سے دکان کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ دکان کا مالک ہندو ہے کوئی مسلمان نہیں‘ حیدر آباد (دکن) سے تعلق رکھنے والی اس کمپنی کی بنگلور میں موجود دیگر دکانوں کو بھی 17فروری سے دھمکی آمیز کالیں موصول ہو رہی تھیں جن میں بیکری کا نام تبدیل کرنے یا کاروبار بند کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ایک نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے بیکری کے منیجر نے کہا کہ مشتعل ہجوم کا خیال تھا کہ ہمارا تعلق پاکستان سے ہے لیکن بیکری کے مالک ہندو ہیں اور ہم 53 سال سے یہ نام استعمال کر رہے ہیں۔ اب بیکری والوں نے اپنے بورڈ پر کراچی کا لفظ ڈھانپ دیا ہے۔ بیکری والوں کا موقف ہے کہ 1947ء میں تقسیم کے بعد بھارت ہجرت کرنے والے ایک ہندو خان چندرا منانی نے یہ بیکری قائم کی تھی اور پہلی دکان حیدر آباد دکن میں کھولی تھی جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اس کی شاخیں قائم کی گئیں یوں ایک چین بنتا چلا گیا۔ یہ بیکری اپنے فروٹ بسکٹ کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس واقعے کے بعد لوگوں نے ٹویٹر پر پاکستان کے شہر حیدر آباد( سندھ) میں واقع بمبئی بیکری کی تصاویر شیئر کیں اور اس بات کو واضح کیا کہ تعلقات کی کشیدگی کے باوجود بیکری کے نام میں کس طرح ’’بمبئی‘‘ کا لفظ موجود ہے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمن نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ حیدر آباد میں بمبئی بیکری پھل پھول رہی ہے اور کوئی اس کے نام کی تبدیلی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہمارے ماضی یا جداگانہ حیثیت کو مٹانے کی کوشش کے اچھے نتائج نہیں نکلیں گے۔ غالب نے کہا تھا

یا رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لئے؟

لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں

مرزا غالب کے ساتھ ہندو اور پھر خاص طور سے انتہا پسند کبھی متفق ہو ہی نہیں سکتے کہ ان کے ہاں آواگون کا فلسفہ رائج ہے جو سات جنم کی بنیاد فراہم کرتا ہے اس لئے وہ کہہ سکتے ہیں کہ لوح جہاں پہ حرف مکرر بلکہ مکرر در مکرر ہم موجود ہیں اس لئے انتہا پسندی نہیں چھوڑیں گے۔ ویسے جہاں تک شیری رحمن کی بات کا تعلق ہے تو ان کے نظرئیے کو کئی برس پہلے ہندو انتہا پسندوں نے رد کرتے ہوئے بمبئی کو ممبئی بنا دیا ہے۔ اسی طرح بنارس کو چنائے اور دیگر کئی شہروں کے (خاص طور پر) مسلم ناموں کو بدلنے کی بنیاد وہ پہلے ہی رکھ چکے ہیں تو حیدر آباد( سندھ) میں بمبئی بیکری کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ اب آپ جب تک بمبئی بیکری کا نام ممبئی بیکری نہیں رکھ لیتے ہم کسی صورت مان کر نہیں دیں گے کہ آپ واقعی ’’فراخدل‘‘ ہیں۔

وہ جنگ اپنی انائوں کی لڑ رہے تھے مگر

لہو لہان ہوا شہر ان کے جھگڑوں میں

ویسے خدا لگتی کہئے تو انتہا پسندی کی یہ وبا صرف بھارت تک ہی محدود نہیں‘ ہمارے ہاں بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو ہر چیز کو اپنے خاص نقطہ نظر کے ترازو میں تولنے کے نہ صرف عادی ہیں بلکہ اسے تبدیل کرنے پر مصر بھی رہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے تقریباً بارہ پندرہ برس پہلے لاہور کے دو ہسپتالوں‘ سرگنگا رام ہسپتال اور گلاب دیوی ٹرسٹ ہسپتال کے ناموں پر بعض طبقے سخت معترض تھے اور ان دونوں اداروں کو ’’ مشرف بہ تبدیلی‘‘ کی تلوار چلا کر ان کے نام بدلنا چاہتے تھے اور باقاعدہ ایک منظم مہم کا آغاز بھی کردیاگیا تھا مگر مرحوم صحافی‘ دانشور‘ شاعر‘ ادیب اور ڈرامہ نگار منو بھائی نے اکیلے ہی ان کے خلاف کھڑے ہو کر ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا اور اپنے مشہور کالم ’’ گریبان‘‘ میں مسلسل لکھتے ہوئے ان لوگوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے پر مجبور کردیا تھا۔ یوں یہ مہم ناکامی سے دو چار ہوگئی تھی۔ اس قسم کی سوچ کا اظہار اب بھی دونوں جانب ہوتا رہتا ہے۔ بھارت میں تو انتہا پسندی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں بھی عصبیت کے مظاہرے اکثر دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں‘ مثلاً ماضی میں انگریز حکمرانوں کی قائم کردہ کئی یادگاروں‘ اداروں‘ یہاں تک کہ شہروں تک کے نام تبدیل کئے جا چکے ہیں جیسے کہ منٹگمری کا نام بدل کر ساہیوال کردیاگیا‘ لائل پور کا نام تبدیلی کی کسوٹی پر پورا اتارنے کے لئے فیصل آباد کے نام سے موسوم کیاگیا‘ چلیں اس بات کی وجوہات تھیں کہ عالم اسلام کے ایک عظیم رہنما کو خراج تحسین پیش کرنا مقصود تھا‘ مگر ماضی قریب میں پیپلز اوپن یونیورسٹی کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی بنا کر بھٹو مرحوم سے ’’نفرت‘‘ کا اظہار کیا گیا۔ سابقہ لیگ (ن) حکومت کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ کا نام بدلنے کی کوشش کی گئی۔یہ ایک بیمار ذہنیت کی علامت ہے اور ہم اس سے جس قدر جلد چھٹکارہ پانے کی کوشش کریں بہتر ہے‘ خواہ ہندوستان میں ہو یا پاکستان میں۔بقول سفیان صفی

مری نظر میں ہیں تعبیر خواب کی فصلیں

زمیں میں خواب اگانا مری عبادت ہے

متعلقہ خبریں