Daily Mashriq

بھارتی فضائیہ کی دراندازی کی کوشش، پاک فضائیہ کا بروقت ردِ عمل

بھارتی فضائیہ کی دراندازی کی کوشش، پاک فضائیہ کا بروقت ردِ عمل

بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے میں دراندازی کی کوشش پر پاک فضائیہ نے بروقت ردعمل دیتےہوئے دشمن کے طیاروں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے علاقے مظفرآباد میں داخل ہونے کی کوشش کر کے بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر علی الصبح اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی، جس پر پاک فضائیہ فوری طور پر حرکت میں آئی اور بھارتی طیارے واپس چلے گئے۔

بعد ازاں ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی طیاروں نے مظفرآباد سیکٹر سے گھسنے کی کوشش کی جس پر پاک فضائیہ نے فوری اور بروقت کارروائی کی۔

پاک فضائیہ کے بروقت ردعمل کے باعث بھارتی طیارے نے عجلت میں فرار ہوتے ہوئے بالاکوٹ کے قریب ایک ہتھیار پھینکا تاہم خوش قسمتی سے اس سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ بھارتی طیاروں نے عجلت میں فرار ہوتے ہوئے پے لوڈ گرایا جو ایک کھلے علاقے میں گرا جبکہ اس سے کسی قسم کی کوئی تعمیرات متاثر نہیں ہوئیں۔

انہوں نے بعد میں مزید تکنیکی اور اہم معلومات کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کا بھی کہا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارت کی پیراملٹری فورس پر ہونے والے ایک خود کش حملے کے بعد سے سخت کشیدہ ہیں جس میں 44 بھارتی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

مذکورہ حملے کے بعد بھارت نے روایتی الزام تراشی کا سہارا لیتے ہوئے پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا جبکہ پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے بھارت کو کشمیریوں کی ناراضی کی وجوہات کی طرف توجہ دینے کا کہا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بمبار، مقبوضہ کشمیر کا رہائشی تھا جبکہ اس کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ شدت پسندی کی طرف، بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حقوق کی پامالیوں اور تشدد کی وجہ سے مائل ہوا۔

پلوامہ حملہ

14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد نئی دہلی نے کسی بھی طرح کی تحقیقات کیے بغیر اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا جسے اسلام آباد نے مسترد کردیا۔

بھارت نے الزام لگایا تھا کہ یہ حملہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی جانب سے کروایا گیا، ساتھ ہی انہوں نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

تاہم بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے اس معاملے کو پاکستان سے جوڑدیا تھا اور پاکستان سے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لے لیا تھا جبکہ پاکستان سپرلیگ کی نشریات پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

اس کے علاوہ بھارتی درآمدکنندگان نے پاکستانی سیمنٹ کی درآمد روک دی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان کی سیمنٹ فیکٹریوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

بھارت میں اور مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمان شہریوں کے گھروں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں مسلمان خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔

بعد ازاں بھارتی الزام تراشی کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے نئی دہلی کو ’قابلِ عمل معلومات‘ فراہم کرنے کی صورت میں تحقیقات میں تعاون کی بھی پیشکش کی تھی، اس کے ساتھ خبردار بھی کیا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی جارحیت کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔

تاہم بھارت نے ہمیشہ کی طرح الزام تراشی کرتے ہوئے تحقیقات کی پیش کش کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ پاکستانی وزیراعظم کے بیان کو حقیقت کے برعکس قرار دیا۔

متعلقہ خبریں