Daily Mashriq

700 ارب روپے کا ہائیڈل منصوبہ: نقصانات پر تحقیقات کا مطالبہ

700 ارب روپے کا ہائیڈل منصوبہ: نقصانات پر تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل (اے جی) پاکستان نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے میں بدانتظامی کی وجہ سے قومی خزانے کو ہونے والے اربوں روپے کے نقصانات کے ذمہ داروں کا پتہ لگانے کے لیے تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

آئین کے آرٹیکل 170 کے تحت آزاد جموں و کشمیر میں 510 ارب روپے کے 969 میگا واٹ کے پاور پروجیکٹ کے حوالے سے پارلیمنٹ میں جمع کرائی گئی کارکردگی رپورٹ میں انہوں نے کہا کہ منصوبے کی لاگت 400 ارب روپے بڑھ گئی جس سے 237 ارب روپے کے غیر جمع شدہ مالی فوائد کا نقصان ہوا اور 21 سال کی تاخیر ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف حکومتوں، محکموں اور افسران کی بے ضابطگیوں سے سالانہ 5.15 ارب روپے کے علاوہ 60 علاوہ ارب روپے کا نقصان ہوا اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے کم از کم 2 درجن سے زائد تحقیقات کی ضرورت ہے۔

اے جی کے مطابق ’تاخیر کی وجہ سے منصوبے سے مالی فوائد حاصل نہیں ہوسکے اور منصوبے کی لاگت 400 ارب روپے تک بڑھ گئی، اس کے علاوہ پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت میں انڈس بیسن ٹریٹی کے تحت مغربی دریا کے حقوق کا کیس بھی ہارا ہے، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ باضابطگیوں کا مثالی منصوبہ ہے جس سے بھاری نقصان ہوا‘۔

آڈیٹر نے نشاندہی کی کہ کنسلٹنٹ تعینات کیے بغیر 90.90 ارب روپے کا کنٹریکٹ غیر قانونی طور پر دیا گیا اور 48.8 ارب روپے کی پرفارمنس گارنٹیز نہ لیے جانے پر غیر ملکی قرضے رکے اور منصوبے میں مزید تاخیر ہوئی۔

اے جی نے بتایا کہ منصوبے کے کنسلٹنٹس کی خراب کارکردگی کی وجہ سے بھی 16 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کے مکمل نہ ہونے کی اصل وجہ منصوبے کے مکمل ہونے تک مالیاتی عدم حصولیابی، زمین حاصل کرنے میں تاخیر، بجلی کی فراہمی میں تاخیر، ڈیزائن میں متعدد تبدیلیاں، تفصیلی انجینیئرنگ ڈیزائن کو حتمی شکل نہ دیا جانا اور متعدد احکامات کا جاری ہونا بتایا گیا۔

آڈٹ میں کہا گیا کہ 1960 کی انڈس واٹر ٹریٹی کے مطابق جہلم کے علاقے میں پاکستان کے زیر استعمال زراعت اور ہائیڈرو پاور پر اثر انداز ہونے والے بھارت کو نئے زراعتی استعمال کی اجازت نہیں۔

آڈٹ میں مزید کہا گیا کہ منصوبے کی لاگت میں 272 ارب روپے کا اضافہ عام طور پر استعمال ہونے والے دھماکے کے طریقہ کار کے بجائے ٹنل بورنگ مشین کے استعمال سے بڑھا۔

متعلقہ خبریں