Daily Mashriq

منی بجٹ2019 ترامیم کیلئے قومی اسمبلی میں پیش

منی بجٹ2019 ترامیم کیلئے قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے ضمنی مالی بل 2019 میں 55 ترامیم کی تجویز بحث کے لیے پیش کردی۔

واضح رہے کہ ضمنی مالی بل جسے منی بجٹ بھی کہا گیا تھا، جنوری میں پیش کیا گیا تھا، جس کے بارے میں حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ معیشت بہتر کرنے کا حکومتی پیکج ہے جبکہ ناقدین نے اسے امیروں کے لیے ٹیکس استثنیٰ قرار دیا تھا۔

تاہم اس کے بعد سے اب تک اصل مسودے میں متعدد تبدیلیاں کی جاچکی ہیں اور اب اسے منظوری کے لیے سینیٹ میں بھیجا جائے گا۔

مجوزہ ترامیم میں سب سے اہم بات نان فائلرز کو مقامی طور پر تیار کردہ 1300 سی سی کے بجائے 800 سی سی گاڑی خریدنے کی اجازت دینا شامل ہے تاہم حکومت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ 1300 سی سی تک کی گاڑی خریدنے کی اجازت دینے سے ملکی اقتصادی پیداوار کو فروغ ملے گا۔

اس کے علاوہ فی کلو تمباکو پر عائد کردہ 300 روپے ٹیکس پر بھی نظرِ ثانی کرکے اسے دوبارہ پرانی قیمتوں تک محدود کرنے کی تجویز پیش کی ہے کیوں کہ اسے مقامی صنعت کاروں اور چھوٹے تاجروں کو نقصان پہنچے گا۔

 اس کے علاوہ سینیٹ نے بلوچستان میں کوئلے کی کان کنی پر ٹیکس کو کم کرنے اور صوبے میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کے لیے جون 2019 تک 5 ارب روپے جاری کرنے کی بھی تجویز دی۔

اس کے ساتھ ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت ہونے والی برآمدات میں برقی اشیا اور آلات شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی جبکہ نان ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کی مدد کے لیے میکانزم تشکیل دینے کا بھی کہا گیا۔

دوسری جانب ’پارے‘ جیسی ریسائیکل دھاتوں کی برآمدات پر پر ٹیکس ریمیشن فار ایکسپورٹ اسکیم کے تحت ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی تجویز شامل ہے۔

اس کے ساتھ خام پلاسٹک پر بھی ڈیوٹی کم کرنے کی بھی تجویز دی گئی تا کہ ملک میں خراب پلاسٹک دانوں کی برآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

سینیٹ نے حکومت کو یہ تجویز بھی دی کہ ٹیکس نیٹ اور اس سال کے دوران کل فائلرز کی تعداد کو بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

مسودے کے مطابق سڑکوں، چھوٹے ڈیمز پاور سپلائی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز جاری کرنے کی 37 تجاویز بھی شامل کی گئیں ہیں۔

متعلقہ خبریں