Daily Mashriq

‘سرینا ولیمز کو کارٹون میں ڈراؤنا دکھانا نسلی تعصب نہیں‘

‘سرینا ولیمز کو کارٹون میں ڈراؤنا دکھانا نسلی تعصب نہیں‘

امریکی ٹینس سپر اسٹار سرینا ولیمز ہمیشہ ہی اپنے بہترین کھیل، اشتہارات اور خواتین سمیت سیاہ فام افراد کے حقوق کے لیے بات کرنے کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔

سرینا ولیمز 23 بار گرینڈ سلیم جیت چکی ہیں جب کہ انہوں نے 6 مرتبہ یو ایس اوپن کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا ہے۔

گزشتہ برس ہونے والے یو ایس اوپن کے فائنل میں 37 سالہ سیرینا ولیمز کو جاپان کی نوجوان ٹینس اسٹار 21 سالہ ناؤمی اوساکا نے شکست دی تھی۔

اس میچ کے دوران سرینا ولیمز کو خراب کارکردگی دکھانے کی وجہ سے غصے میں بھی دیکھا گیا تھا اور انہوں نے متعدد بار میچ کے امپائر کو بھی جھاڑ پلادی تھی۔

امپائر کے ساتھ بدتمیزی سے بات کرنے کی وجہ سے سیرینا ولیمز کو کم سے کم تین بار میچ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی وارننگ بھی دی گئی تھی اور بالآخر انہیں اس میچ میں شکست بھی کھانی پڑی تھی۔

میچ ہارنے کے بعد سرینا ولیمز نے غصے سے اپنے ریکٹ کو زمین پر پٹخ کر توڑ دیا تھا اور میڈیا نے ان کے غصے کو براہ راست دکھایا تھا۔

سرینا ولیمز کے اسی غصے پر جہاں عالمی میڈیا میں ان کے ریکٹ توڑنے کی تصاویر شائع ہوئیں وہیں آسٹریلیا کے معروف اخبار ’دی ہیرالڈ سن‘ نے ان کا ایک کارٹون بھی شائع کیا۔

اخبار میں شائع کیا گیا کارٹون سرینا ولیمز کے اسی غصے سے متاثر ہوکر بنایا گیا تھا۔

کارٹون میں سیرینا ولیمز کو ٹینس ریکٹ توڑتے ہوئے اور انتہائی زور سے چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اس کارٹوں میں سرینا ولیمز کو جہاں انتہائی وزن دار دکھایا گیا تھا، وہیں انہیں غصے سے چلاتے ہوئے ریکٹ کے اوپر چھلانگ دکھاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

کارٹون میں سرینا ولیمز کے ہونٹ، ناک اور چہرے کو بے ڈھنگے انداز میں دکھایا گیا تھا جب کہ ان کے بالوں کو پونی ٹیل میں بند ہونے کے باوجود کسی گلدستے کی طرح ہوا میں اڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

عام افراد سمیت خود سرینا ولیمز نے بھی اس کارٹون کو اپنے خلاف نسلی تصب اور خاتون کی جنسی ساخت کو خراب انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا تھا۔

کارٹون کو اخبار میں شائع کرنے کے بعد کئی افراد نے آسٹریلیا کے اخبارات پر نظر رکھنے والے ادارے کو شکایات کی تھیں اور اخبار کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

لوگوں نے ناصرف اخبار بلکہ کارٹون بنانے والے کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔تاہم اب اخبارات پر نظر رکھنے والی آسٹریلین نیوز پیپرز تنظیم نے اس کارٹون پر لوگوں کی شکایت کو غیر اہم قرار دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ آسٹریلین پریس کونسل نے سرینا ولیمز کے اس کارٹون کو غیر اخلاقی قرار نہیں دیا۔

کونسل کے مطابق سرینا ولیمز کا کارٹون صحافتی اور اخباری اقدار کے خلاف نہیں تھا اور نہ ہی یہ نسلی تصب پر مبنی تھا۔

کونسل کا کہنا تھا کہ کارٹون کو خراب، اڈھنگا اور ڈراؤنہ تو قرار دیا جاسکتا ہے، تاہم اس پر جنسی تعصب کو ہوا دینے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا اور نہ ہی اسے اخباری اور صحافتی اقدار کے خلاف قرار دیا جا سکتا ہے۔

کونسل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دی ہیرالڈ سن کے ایڈیٹر نے اسی کارٹون کو ٹوئٹ کرتے ہوئے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اخبار کی حمایت کی تھی۔

انہوں نے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ ایک لیجنڈ ٹینس اسٹار کی جانب سے شکست کے بعد ریکٹ توڑنے کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھا۔

متعلقہ خبریں