Daily Mashriq


اندھوں نے ریوڑیاں بانٹ لیں !!

اندھوں نے ریوڑیاں بانٹ لیں !!

ایک ایسے صوبے میںجہاں سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے حکومت دوسرے مدات اور سرکاری ملازمین کی پنشن کی رقم سے قرض لینے پر مجبور ہے اچانک وزیراعلیٰ ، وزراء اور ممبران اسمبلی کی تنخواہوں میں چارسو فیصد اضافہ کرنا اور جولائی 2016ء سے اس کا اطلاق حیران کن ہے ۔ سات ماہ بقایا جات کی وصولی سے وزیراعلیٰ ، وزراء اور ارکان اسمبلی کی جیبیں بھرجائیں گی مگر خزانہ خالی ہوگا اور عوام کو دینے کیلئے کچھ نہیں بچے گا۔ گزشتہ رات مشرق ٹی وی کے پروگرام پختنہ میں وزیر خزانہ ایک فاضل ممبر اسمبلی اور سینئر صحافی کے سوالات اور اعتراضات کے جواب سے جس طرح قاصر رہے اور جو صورتحال بیان کی گئی اس سے تو خوف آنے لگا ہے ۔ خیبر پختونخوا حکومت کو فنڈ ز اور وسائل کی کمی کا از خود اعتراف ہے اور محاصل کی وصولی میں صوبائی حکومت کو جس مشکل کا سامنا ہے وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں مگر دوسری جانب جب اراکین حکومت و اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کے حصول کی بات آتی ہے تو نہ تو حزب اختلاف معترض ہوتی ہے اور نہ ہی صوبے میں تبدیلی کی دعویدا ر ارکان حکومت کو یہ خیال آتا ہے کہ کم از کم اگر تنخوا ہوں اور مراعات میں اضافہ کرنا مجبوری بن گئی ہے تو ان کو دوگنا کر دیا جائے۔ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے نعرے لگانے والی حکومت سے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں تیسری مرتبہ وزیراعلیٰ سپیکر ڈپٹی سپیکر ، وزراء ، معاونین خصوصی پارلیمانی سیکر ٹریز اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں مزید چارسو فیصد اضافہ کی منظوری سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ خواہ وہ حکمران جماعت کے ہوں یا حزب اختلاف کے' حصول مفادات کیلئے تمام ارکان حکومت و اسمبلی لقمہ بناتے وقت چھوٹی بڑی انگلیوں کا مساوی اور ہم قد ہو جانا ان کی غمخواری اور عوام سے ہمدردی کا بھانڈا از خود پھوڑنے کے لئے کافی ہے ۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ کسی بات پر اتفاق نہ کرنے والے عناصر نے اس بل کی منظوری میں نمائشی چوں وچرا کرنے کی بھی زحمت گوارانہ کی اور ہربار کی طرح اس بار بھی بل فوری طور پر اور متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا جس کے بعد ان کی جانب سے'' بقایا جات ''کی وصولی میں اب لمحہ تاخیر ہوتا نظر نہیں آتا۔ عوامی مسائل کے حل کے لئے وسائل اورفنڈ ز کی کمی کا رونا رونے والوں کویہ خیال بھی نہ آیا کہ عوام کیا سوچیں گے ان کے ووٹروں کا رد عمل کیا ہوگا جس قسم کے فوائد اور مراعات وہ سمیٹ رہے ہیں اور ''ہل من مزید '' کارویہ انہوں نے اختیار کر رکھا ہے کیا یہ اخلاقی طور پر معقول ہوگا۔عوام کو علاج ، تعلیم ، آبنوشی نکاسی آب ، صفائی ، آمد ورفت اور اس جیسے مسائل ومشکلا ت کا سامنا رہتا ہے گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے عوام کی جان عذاب میں ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی کے باعث مریض ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور ہیں مگر ان کے نمائندے صرف اپنے مفادات اور مراعات ہی کی فکر میں ہیں ، ہمارے تئیں اس ''گناہ '' میں عوام برابر کے شریک ہیں جو لوگ پائوں پر کلہاڑی خود مارتے ہیں اور بار بار مارتے ہیں ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک قانون قدرت کے برعکس نہیں بلکہ عین مطابق ہے ۔آخر عوام بار بار انہی آزمائے ہوئے چہروں کو کیوں منتخب کر کے اسمبلیو ں میں بھیجتے ہیں ۔ اس ایوان میں دیکھا جائے تو پرانے چہروں کی کمی نہیں اور جو نئے چہرے تبدیلی کاعلم اٹھا کر ایوان میں آگئے تھے بجائے اس کے کہ وہ سابقین کی اصلاح کی سعی کرتے ۔کم از کم اس نظام اور طریقہ کار کی مزاحمت کرتے جو عوامی امنگوں سے متصادم ہے الٹا وہ بھی سابقین کے رنگ میں رنگ گئے ۔ اگر اس بھرے ایوان میں کوئی ایک خاتون و مرد ممبر یہ صدا دیتا کہ ہم جومراعات لینے جارہے ہیں کیا عوام کو یہ میسر ہیں کیا سرکاری ملازمین کے مسائل حل ہو چکے کیا ہماری معاشی حیثیت واقعی اس قدر نا گفتہ بہ ہے کہ چارسو فیصد اضافہ کئے بغیر گزارہ نہیں یا پھر ہم نے عوام اور سرکاری ملازمین کو اس قدر نواز دیا کہ اب ہماری باری ہے کہ ہم اپنی مراعات میں بھی اضافہ کریں۔ ان لوگوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ہم نے سال بعد عوام میں پھر جانا ہے جو لوگ حادثاتی طور پر اسمبلیوں میں پہنچے ان کو اندازہ ہوگا کہ جذبات کا وہ طوفان اب بیٹھ چکا ہے اور دوبارہ عوامی لہریں ہمیں ساحل پر دھکیلنے نہیں آئیں گی ان کی منطق کی تو سمجھ آتی ہے مگرجو لوگ منہ کو لگی اس کافر سے کسی طور جان نہیں چھڑا سکتے اور انہوں نے ایک مرتبہ پھر عوام میں جانا ہے ان کو بھی ذرا فکر نہیںشا ید اس کی وجہ یہی ہے بلکہ یقینا یہی ہوگی کہ ہمارے عوام ایک سوراخ سے بار ڈسے جاتے ہیں اور اگر تبدیلی و اصلا ح کی تمنا کے طور پر وہ جس کسی کو بھی آزماتے ہیں وہی ان کو دغا دے جاتا ہے ۔ مقتدرین نے تو اپنا فیصلہ دے دیا اپنی تنخواہیں اور مراعات بڑھالیں کیا عوام بھی آئندہ انتخابات میں اس کو یاد رکھیں گے اور کچھ نہیں تو کم از کم ان چہروں میں سے کسی ایک چہرے کو بھی اسمبلی نہ پہنچنے میں ناکام بنا کر مثال قائم کریں گے ؟۔

متعلقہ خبریں