Daily Mashriq


تبدیلی کے غیر حقیقی دعوے کیوں ؟

تبدیلی کے غیر حقیقی دعوے کیوں ؟

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اگر نظام کو تبدیل اور ٹھیک نہیں کر سکتے تو انہیں وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ 35سالہ سیاست میں ملک میں تماشے اور ڈرامے دیکھتا رہا ہوں کوئی کیا کر رہا ہے او رکس کے لئے کر رہا ہے سب کا پتہ ہے ۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے سیاسی تجربے اور جغادری پن کے سبھی معترف ہیں اس امر کا اعتراف سابق وزیراعلیٰ آفتاب شیر پائو نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد اور حکومت سازی کے وقت یہ کہہ کر کیا تھا کہ پرویز خٹک کو حکومت بنانے اور گرانے کے ماہر ہیں۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک مختلف ادوار میں مختلف عہدو ں اور جماعتوں میں بھی رہ چکے ہیں ان کا تجربہ جس نظام اور جن معاملات میں رہا ہے تحریک انصاف کا منشور اور کوشش ان کے سر اسر ضد اور نفی کا ہے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اگر سعی کرتے تو اس نظام اور طریقہ کار کی رگ رگ سے واقفیت کی بناء پر عملی اصلاحات کر کے حقیقی تبدیلی لانے میں ممد ومعاون ثابت ہو سکتے تھے مگر دیکھا جائے تو عملی طور پر ابھی تک صوبے میں تمام تر دعوئوں کے باوجود کوئی ایسی تبدیلی نظر نہیں آتی جس کا عوامی سطح پر اعتراف کیا جاتا اگر ہم عوامی نقطہ نظر سے جائیزہ لیں تو مہنگائی بیروزگاری صحت و تعلیم کے مسائل آمدورفت کے مشکلات میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ صوبائی دارالحکومت کو گلونہ پیخور بنانے کے دعوئوں کا پول موسم سرما کی بارش سے پیدا ہونے ہوالے کیچڑ ہی نے کھول دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ صوبے میں انتظامی مشینری کی تبدیلی اور اصلاحات سے متعلق دعوئو ں سے اتفاق کی کو ئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ مخالفین کی مخالفت اپنی جگہ خود تحریک انصاف کے بعض ممبران اور عہد یداروں کی جانب سے اس کے اعتراف کے بعد باقی کیا رہ جاتا ہے ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اگر اب بھی سعی کریں تو مدت اقتدار کے بقیہ ایام میں اپنے پارلیمانی تجربے اور سیاسی شعور و مہارت کو بروئے کار لا کر نظر آنے والی تبدیلی لا سکتے ہیں مگر اس کے لئے ہر قسم کے مفادات کو پس پشت ڈالنا اور سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہونا ہوگا ۔

خواتین پر لاٹھی چارج قابل مذمت اقدام

کرک میں گیس کی بندش کے حوالے سے عوامی شکایات اور متعلقہ محکمے کی طرف سے وضاحت میں سے کونسا مئوقف درست ہے یہ اپنی جگہ، خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کرک اور ہنگو کے مزید چالیس ہزار گھروں کو گیس کی فراہمی کے جس منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے اس کی روشنی میں متعلقہ محکمے کی وضاحت بے معنی نظر آتی ہے یا پھر خیبر پختونخواحکومت کی طرف سے چالیس ہزار نئے کنکشنز دینے کا اعلان کمپنی کی مشاورت کے بغیر ہوا میں تیر چلانے کے مترادف اقدام ہے۔ اس ساری صورتحال سے قطع نظر کرک پولیس کی جانب سے احتجاجی خواتین پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کسی طور قابل برداشت امر نہ تھا جس پر مقامی لوگوں کا گھروں سے نکل کر پولیس کو فرار ہونے پر مجبور کرنا فطری امر تھا ۔خیبر پختونخوا کی اصلاح شدہ پولیس اگر خواتین کے جلوس کو طاقت کے استعمال کے بغیر روکنے کی سعی کرتی تو یہ ناممکن نہ تھا ۔مگر ایسا لگتا ہے کہ پولیس کو روایات اور احترام نسواں کی جگہ روایتی طو ر پر ڈنڈا چلانے کی جلدی تھی جس میں اس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ جس طرح پولیس اور انتظامیہ کو بعد میں مجبور اً گفت و شنید اور یقین دہانی کا طریقہ اختیار کرنا پڑا اگر یہی کچھ مستورات کے احتجاج کو بزور قوت ختم کرنے کی بجائے اختیار کیا جاتا تو احسن ہوتا ۔ گیس کرک کی مقامی پیداوار ہے اور اس پر پہلا حق کرک کے عوام کا ہے اگر لیکج اور چوری جیسے مسائل ہیں تو یہ محکمے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر قابو پائے۔ عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور یہی عوام کو مطمئن کرنے کا مناسب طریقہ اور کمپنی و حکومت کے فرائض میں شامل ہے ۔

سڑیٹ کرائمز کا سر چڑھتا جادو

سٹریٹ کرائمز میں اضافہ کے باعث ایس ایچ اوز کی اکھاڑ پچھاڑ مسئلے کا حل نہیں البتہ اعتراف حقیقت کے طور پر ایسا کرنے کا عمل قابل تحسین ضرور ہے جس کی پولیس حکام سے کم ہی توقع رکھی جا سکتی ہے ۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جد ید گاڑیوں اور مواصلاتی نظام سے لیس سٹی پولیس کے اجراء کے باوجود سٹریٹ کرائمز میں کمی آنے کی بجائے اس میں اضافہ ہوا ہے جس سے پولیس نظام اور اس کی کار کردگی پر سوال اٹھتا ہے ۔ موٹر سائیکل پر پولیس گشت میں کمی اور خاص طور پر پیدل گشت کا خاتمہ سٹریٹ کرائمز میں اضافے کی بڑی وجوہات بتائی جاتی ہیں اس پر توجہ دی جانی چاہیے تاکہ لوگ دن دیہاڑے لٹنے سے بچ جائیں اور پولیس کی کار کردگی پر سوالات نہ اٹھنے لگے۔ جن جن تھانوں کی حدود میں سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوا ہے وہاں تعینات تھانہ منتظمین گشت کا نظام مئوثر بنائیں اور علاقے میں خفیہ نگرانی کے ذریعے مشکوک عناصر پر بر موقع ہاتھ ڈالا جائے ۔

متعلقہ خبریں