بیرون ملک سرمائے کیلئے ایمنسٹی… چند یادیں

بیرون ملک سرمائے کیلئے ایمنسٹی… چند یادیں

آزادی کے بعد دس گیارہ سال تک پاکستان میں صنعتی کارخانے معدودے چند تھے۔ لاہور میں ایک میلا رام ٹیکسٹائل ملز تھی جس کی جگہ اب داتا دربار سے ملحق آبادی ہے۔ ایک اوکاڑہ میں ستلج کاٹن مل تھی۔ ان دونوں کارخانوں میں فوج کے لیے ملیشیا تیار کیا جاتا تھا۔ کپڑا دوسری مصنوعات حتیٰ کہ پلاسٹک کی کنگھی بھی بھارت سے درآمد کی جاتی تھی یا سمگل ہوتی تھی ۔ مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں غالباً ایک پٹ سن کی مصنوعات کا کارخانہ قائم کیا گیا تھا اور کاغذ تیار کرنے والا کارخانہ بھی لگایا گیا تھا۔ ورنہ بچے کاپیوں کو ترستے تھے۔ 1958ء میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگایا تو صنعتی ترقی پر بھرپور توجہ دی۔ کچھ کوریا کی جنگ کی وجہ سے ، کچھ فراخدلانہ امریکی امداد کی وجہ سے کارخانے لگانے کے لیے بہت سی مراعات کا اعلان کیا گیا۔ لیکن کوئی سرمایہ لگانے والا آگے نہیں آتا تھا۔ ایک ادارہ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے نام سے قائم کیا گیا جس کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ سرکاری شعبہ میں کارخانے قائم کرے گا، انہیں منافع بخش طور پر چلائے گا اور ان منافع بخش کارخانوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کردے گا۔ پرائیویٹ سیکٹر کے لیے سرمائے کا حصول آسان بنایا گیا۔ ایک کارپوریشن پاکستان انڈسٹریل کریڈٹ اینڈ انوسٹمنٹ کے نام سے قائم کی گئی جو کارخانے لگانے کے خواہش مندوں کو آسان شرائط پر قرضے دیتی تھی۔ نیشنل بینک نے بھی قرضہ پالیسی نرم کی اس طرح حکومت سے قرضہ لے کر حکومت سے کارخانے حاصل کرنے کا چلن سامنے آیا ۔ ملک میں کراچی' حیدر آباد ' فیصل آباد اور دوسرے شہروں میں بہت سے کارخانے لگے۔ پھر یہ بھی سننے میں آیا کہ قرض لے کر جو کارخانے قائم کیے گئے ہیں وہ تو اکثر ناکام اور مقروض ہو گئے لیکن ان کارخانوں کے مالکوں کے دیگر کارخانے منافع میں چلنے لگے۔ ایوب خان یحییٰ خان کا دور ختم ہوا ، صرف مغربی پاکستان ہی پاکستان رہ گیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید جو اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے گئے ہوئے تھے ، صدر پاکستان اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے طور پر واپس آئے اور انہوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ اس کے چند ہی روز بعد انہوں نے منتخب صحافیوں سے خطاب کرنے کے لیے انہیں لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس کے ہال میں بلایا۔ بھٹو صاحب مرحوم کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ یہ دعوت محدود نہ رہ سکی اور کئی ہزار جیالے انہیں ایک نظر دیکھنے کے خواہش مند جمع ہو گئے۔ خیر بھٹو صاحب آئے انہوں نے خطاب کے شروع ہی میں کہا کہ اگر جن سرمایہ داروں کا پیسہ باہر کے ملکوں میں ہے وہ پاکستان واپس لے آئیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ حسین نقی جن کا پاکستان کی صحافت میں بڑانام ہے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ بیرون ملک سرمایہ واپس پاکستان لایا جائے گا یہ پاکستان کا سرمایہ ہے سرمایہ داروں سے وصول کیا جائے گا۔ یکلخت ماحول کشیدہ ہو گیا۔ اس وقت کے انسپکٹر جنرل پولیس حسین نقی کی طرف غالباً گرفتاری کے ارادے سے بڑھے تو ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کہا ''نہیں نہیں ، ایسا نہیں ہوگا۔ یہ ہمارے دوست ہیں اور ہم میں ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ '' بہرحال اس خطاب کے مقاصد پورے نہ ہو سکے۔ تاہم یہ بات غور طلب ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پہلے دس بارہ سال تو کنگھی تک بھارت سے درآمد ہوتی تھی۔ اس کے دس بارہ سال بعد تک سرکاری امداد سے پاکستان میں دھڑا دھڑ کارخانے لگے تو حکومت کو ٹیکس پوری طرح وصول نہیں ہوئے لیکن سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو گیا۔ اس کے بعد بھٹو صاحب نے صنعتوں کو قومی ملکیت میں لے لیاجس سے کہا جاتا ہے کہ قومی معیشت کو بڑا نقصان ہوا۔ یہ کارخانے واپس کارخانہ داروں کو مل گئے۔ اس کو بھی بیس پچیس سال ہو گئے لیکن ملکی معیشت کی زبوں حالی خاص طور پر صنعت کے شعبے میں ختم نہ ہوئی۔ پورا ٹیکس وصول کرنے کے لیے اس دوران کئی بار ایمنسٹی یعنی چھوٹ کی سکیمیں جاری ہوئیں لیکن کسی بھی حکومت کو اس میں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ نیب کا ادارہ بنایا گیا جس کا کام تھا کہ وہ کرپشن اور ٹیکس چوروں کا پیسہ واپس لے۔ نیب نے بڑے بڑے اہم کیسوں کی تحقیقات کیں۔ بہت سا سرمایہ ملزموں سے رضاکارانہ اور پلی بارگین کے ذریعے واپس لیا۔ کہا جاتا ہے کہ نیب نے تین سو ارب روپے سے زیادہ وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرایا۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطالعے کے مطابق ملک میں بارہ ارب روپے روزانہ کے حساب سے کرپشن ہوتی ہے۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ دوبئی میں چار سو سے زیادہ مہنگی جائیدادیں گزشتہ چند سال میں پاکستانیوں نے خریدی ہیں ۔ 

یہ معلوم نہیں کہ اس خریداری میں کام آنے والے سرمائے پر ٹیکس ادا کیا گیا ہے یا نہیں۔ انٹرنیشنل کنسورشیئم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے بہت سے سیاسی لیڈروں سمیت کئی ملکوں کے ہزاروں لوگ آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ یہ کمپنیاں ایسے ممالک میں رجسٹرڈ ہیں جہاں ٹیکس کی ادائیگی سے بچنا نہایت آسان ہے۔ پاکستان میں بھی ایک ایسا ہی کیس ملک کی سب سے بڑی عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور ساری قوم کی نظریں اس پر لگی ہیں۔ پاناما انکشافات کے باعث دنیا کے اکثر ملکوںمیں تشویش پھیلی اور اب بین الاقوامی سطح پر ایسے اقدامات اختیار کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جن کی بدولت محاصل کی نادہندگی کا سدباب کیا جائے اور دہرے ٹیکس کا تدارک کیا جائے۔ اس منظرنامے میں پاکستان میں بھی ایک ایمنسٹی سکیم تیار کی جا رہی ہے جس کے تحت وہ پاکستانی جو آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جن کا سرمایہ بیرون ملک ہے کسی قدر ٹیکس دے کر سرمایہ وطن واپس لا سکیں گے۔ لیکن یہ تجویز اس وقت آ رہی ہے جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ٹیکس کی وصولی میں ایک سو ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔

اداریہ