Daily Mashriq


اگلے پچاس سالوں کی منصوبہ بندی

اگلے پچاس سالوں کی منصوبہ بندی

اوروں کا تو پتہ نہیں لیکن مجھے جنرل(ر) راحیل شریف کا عہد سپہ سالاری یاد آنے لگا ہے۔وہ جس دبنگ انداز میں دہشت گردوں کو للکار رہے تھے، ان کا پیچھا کر رہے تھے اس شدت اور حدت میں کچھ نہ کچھ کمی ضرور آئی ہے۔آپریشن ضرب عضب آج بھی چل رہا ہے لیکن اس میں وہ آن بان اور شان نظر نہیں آ رہی جو بانکپن جنرل (ر) راحیل شریف کے دور میں تھا۔میںوہ شخص ہوں جس نے اس وقت جنرل (ر) راحیل شریف کو مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا انہی کالموں میں مشورہ دیا تھا جب ہر دوسرا کالم نگار ان کی مدت ملازمت میں توسیع کا مطالبہ کر رہا تھا،کیونکہ میری سوچ جمہوری تھی اور میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ وقت مقررہ پر چھڑی کے ٹرانسفر کا سفر جاری رہنا چاہئے تاکہ کسی بھی پاکستانی جرنیل کی حق تلفی نہ ہو لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ جس روایت کو پچھلا آرمی چیف چھوڑ کر جائے اسی روایت کو اگلا آرمی چیف آگے بڑھائے۔ اسی طرح حکومتی سطح پر پالیسی اس طرح آگے بڑھے کہ نئی آنے والی حکومت پچھلی حکومت ہی کی پالیسی کو آگے بڑھائے۔اور یہ تب ممکن ہے کہ اگر پاکستان کی حکومت اور افواج پاکستان اگلے پچاس سال کے لئے ایسی پالیسیاں بنائیں جن کو برقرار رکھنا حکومت کے ہر سربراہ اور فوج کے ہر سپہ سالار پر لازم ہو۔ میری ناقص رائے میں پاکستان کے پاس ایک ایسا تھنک ٹینک ہونا چاہئے جو قوم کے مستقبل کی صورت گری کرے۔ اس میں کچھ سیاستدان، کچھ جرنیل، کچھ اچھی شہرت کے ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور کچھ نیک نام ریٹائرڈ سفارت کار ہوں۔ یہ لوگ باہمی اتفاق رائے سے پاکستان کے لئے ایک ایسی متفقہ پالیسی تشکیل دیں جس پر ہر حکومت کاربند رہنے کی پابند ہو۔یہ تھنک ٹینک ان معاملات کو بھی دیکھے جو مستقبل میںپاکستان کے لئے چیلنج یا مسئلہ بن سکتے ہوں۔یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ترقیاتی سکیموں کے تحت سڑکوں میں جو کشادگی کی جاتی ہے اس سے بمشکل ایک سال کا مسئلہ حل ہوتا ہے۔ دو سال بعد پھر کشادگی کا پروگرام شروع ہوتا ہے تو لمبے عرصے تک عوام مصیبت میں پڑے رہتے ہیں۔لاگت کے تخمینے بڑھتے ہیں،اور بار بار متاثرین کوبھاری معاوضہ دینا پڑتا ہے۔یاد دہانی کراتا چلوں کہ اربوں روپے کی لاگت سے راولپنڈی کے مری روڈ پر یہ سوچ کر میٹرو ٹریک بنا کر بس سروس شروع کی گئی کہ اس سے مری روڈ کی ٹریفک بلاک ہونے کا مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن صرف ایک سال کے اندر اربوں روپے کا یہ منصوبہ فلاپ نظر آتا ہے اور مری روڈ پر رش پہلے کی طرح بڑھ رہا ہے۔ اس سے بہت کم رقم میں اگر مناسب وقفوں سے انڈر پاسز بنا دئیے جاتے تو کئی سالوں تک ٹریفک کا مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔اس حوالے سے ایک مثبت مثال اسلام آباد کی کشمیر ہائی وے ہے جو مناسب پلان کے ساتھ اس قدر کشادہ بنائی گئی ہے کہ کچھ بھی ہو یہاں ٹریفک بلاک نہیں ہوتا۔اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ سی ڈی اے منصوبہ بندی کے حوالے سے آر ڈی اے،پی ڈی اے،ایل ڈی اے اور ایف ڈی اے سے بہتر ادارہ ہے جس نے اسلام آباد کی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر ایسی منصوبہ بندی کی کہ کبھی ٹریفک کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔یہ بھی اگر طے ہو سکے کہ ملک میں کون سا نظام پریکٹس ہوگا تو بہتری کے کئی راستے نکل سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر پیپلز پارٹی بائیں بازو کی طرف جھکائو رکھنے والی ایک لبرل سیاسی جماعت ہے ۔وہ لبرل پاکستان کا نعرہ لگاتی ہے۔مسلم لیگ(ن) دائیں بازو کی ایک لبرل جماعت ہونے کی دعویدار ہے لیکن اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ان مذہبی جماعتوں کو بھی راضی رکھتی ہے جن کے وژن کو اکثر مسلم لیگی پسند نہیں کرتے۔اقتدار پر قبضہ کرنے والے جرنیلوں کے مشیر یا تو جماعت اسلامی والے ہوتے ہیں یا چوہدری شجاعت جیسے جن کا اپنا وژن ہی کلیئر نہیں ہوتا کہ ملک میں کون سا نظام ہونا چاہئے جو اکثریت اور اقلیت دونوں کے لئے قابل قبول ہو۔ظاہر ہے کہ جب اس حوالے سے نواز شریف سے بات کی جائے گی تو وہ اس نظام کی بات کریں گے جو ان کے ووٹرز کی سوچ کا عکاس ہو۔ آصف زرداری اپنے ووٹرز کی طرز فکر کو سامنے رکھیں گے۔ مولانا فضل الرحمان اپنے مسلک کے اسلامی نظام کی بات کریں گے۔اسفند یار سرخپوشوں کی طبع کو سامنے رکھ کر بات کریں گے۔ سندھی اور بلوچ نیشنلسٹ ترقی پسند نظام کی بات کریں گے اس لئے چونکہ انہی سیاسی جماعتوں نے پلٹ پلٹ کر حکمرانی کرنی ہے اس لئے پاکستان میں کبھی کسی ایک سیاسی جماعت کی پسند کا اور کبھی کسی دوسری سیاسی جماعت کی پسند کا نظام چلے گا اورہم ایک طویل عرصے تک نظام کی کشمکش سے نہیں نکل سکیں گے۔جس مجوزہ خفیہ تھنک ٹینک کی بات اوپر والی سطور میں کی گئی وہی نظام کا مسئلہ حل کرے اور وہی کشمیر پالیسی جیسے پیچیدہ اور مشکل سبجیکٹ کو بھی دیکھے کہ اس کی وجہ سے کئی بار مارشل لاء لگا اور جمہوری حکومتیں اپنی مدت پوری کئے بغیر رخصت ہوئیں۔ سول ملٹری تنائو کا باعث ہمیشہ یہی مسئلہ ہوتا ہے لہٰذا اسے سنجیدگی سے لیا جائے۔

اگر حکومتی اور ملٹری پالیسی ایک تھنک ٹینک کے ماتحت کر دی جائے تو پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہے ،مسلم لیگ (ن) کی یا تحریک انصاف کی۔ اسی طرح فوج کا سپہ سالار کوئی بھی ہو ہر دور میں فوج کی پالیسی کچھ راہنما اصولوں کے تابع رہے گی جس سے نہ صرف ملک بہت تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرے گا بلکہ افوج پاکستان کو بھی اس سے بہت فائدہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں