Daily Mashriq


سب سدھر جانا چاہیئے

سب سدھر جانا چاہیئے

میڈیا اور میڈیا کی آزادی کے حوالے سے مسلسل بات چیت ہوتی رہتی ہے ۔ خود میڈیا بھی اس موضوع کی گرفت سے آزاد نہیں ۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں میڈیا کی آزادی جہاں اس میڈیا کو بے باک کر دیتی ہے وہیں کئی بار میڈیا کو اپنی ہی ذمہ داری کے حوالے سوچ بچار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے ۔ اس دور میں جب معلومات تک رسائی کسی کے لئے محدود نہیں کی جاسکتی میڈیا کو کسی احساس ذمہ داری کا پابند کیا جانا ممکن ہے بھی یا نہیں ۔ یہ سوال مسلسل اپنا جواب تلاش کرتا رہتا ہے ۔ ایک معاشرہ جس کی حدود پہلے ہی آزادی کی خواہش سے دھند لا چکی ہیں اس میں میڈیا کا آزاد ہو جانا کئی بار نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے ۔اپنے ارد گرد دیکھیں تو کئی بار یہ خیال آتا ہے کہ واقعی یہ آزادی ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے ۔ آوازوں کے اس ہنگام میںجہاں پہلے ہی کان پڑی آواز سُنائی نہیں دیتی تھی ، اب وہ آوازیں بھی سُنائی دینے لگی ہیں جو کان پر پڑتیں تو بہتر تھا ۔ پہلے بھی یہ آوازیں خاموش نہیں تھیں ۔ پہلے بھی یہ قصے انہونے نہیں تھے صرف میڈیا خاموش تھا ، چپ چاپ ڈرا سہما ایک کونے میں دُبکاہوا ۔ وہ آقائوں کی مرضی کے بغیر سچ ہی نہ دکھا سکتا تھا ۔ تبھی توڈرامے کی ہیروئن سوتے میں دوپٹہ سر پر لیے ہوتی تھی ۔ اور پھر اس عفریت کو جگا دیا گیا اور آزادبھی کر دیا گیا ۔ اس نے معاشرے کے اندھیرے کو نوں میں پڑی ہر گلی سڑی تصویر کو ڈھونڈ کر بھنبھوڑ نا بھی شروع کردیا اور لا لا کر ہمارے آنگنوں میں پھینک دیا ۔ اب تو یو ں لگتا ہے کہ ہر جانب تعفن پھیل چکا ہے ۔ وہ آ گہی کے نام پر جو کچھ دکھا رہا ہے ، آئینہ ہی سہی لیکن شکل اتنی بھیانک ہو تو آئینہ کون دیکھے ۔ چند سالوں کی معصوم بچی زیادتی کا شکار ہو گئی اور ایک بار نہیں اس گندے گھنائونے معاشرے میں یہ شرمناک کام کئی بار ہوتا ہے ۔ اس درندگی کی خبر تو یہ میڈیا ہمیں بار بار دیتا ہے ، ہر ماں خوف کے مارے اپنے بچوں کو سینے سے چمٹا ئے رکھنا چاہتی ہے کہیں میرے بچوں کو کوئی بھیڑ یا نقصان نہ پہنچا دے ، ہماری عدالت میں کبھی ایسے کسی مجرم کو موت کی سزا سُنائی گئی ہوتی اور میڈیا اس کی پھانسی دکھاتا تو شاید یہ آگہی کاایک ایسا پہلو ہوتا جس سے میرے جیسے لوگ بھی متفق ہوتے ۔ جب خوف کو دہشت کو ، اس معاشرے کو میرے گھر کے آنگن میں لا پھینکا تھا تو انصاف کی کرن بھی لا ڈالتے ۔ بتاتے کہ ہمارے ملک میں انصاف بھی ہوتا ہے ۔ 

روز پاناما کی باتیں ہوتی ہیں ۔ میرے جیسے لا تعداد لوگ ٹی وی پر آنکھیں جمائے کان لگائے بیٹھے رہتے ہیں شاید لٹیروں کی پکڑ کی خبر ہی سُنائی دے جائے ۔ انصاف ہی ہو جائے کبھی کوئی بات سُننے کو ملے تو امید سوا نیزے پر تمتما نے لگتی ہے اور کبھی کسی جانب سے کوئی قہقہہ سُنائی دے تو امید وں پر گھڑو ں پانی پڑ جاتا ہے ۔ کون جانے کیا ہوگا ہم سب سے کتنے ہی ایسے ہیں جو ایک نا معلوم سی خوشی کے لیے پا نا ما کیس کا فیصلہ ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ سب اپنی دُھن میں لگے ہیں ۔ لیکن ان سب باتوں کے بیچوں بیچ چند لوگ ہیں جو نہ پاناما کیس سے متعلق ہیں اور نہ ہی انہیں اس کا کوئی فائدہ نقصان ہے وہ چوراہوں میں ہاتھوں میں بھونپولیے کھڑے ہیں اور مغلظات بولتے چلے جاتے ہیں ۔ کیسی کیسی باتیں ہیں جو یہ ایک دوسرے کو نہیں کہتے ۔معاشرے کاتعفن ان کی باتوں کی باس میںسر اُٹھا کر کھڑا دکھائی دیتا ہے ۔ یہ ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ میڈیا انہیں ہر جگہ دکھاتا ہے ۔ میڈیا کی بھی مجبوری ہے ، انہیں دکھانے سے ریٹنگ بڑھنے لگتی ہے ۔ میڈیا طاقتور ہے وہ یہ سب دکھا سکتا ہے اور مجبور عوام جو اس سب سے دور رہنا چاہتے ہیں ، نہ چاہتے ہوئے بھی اس سب سے اُلجھتے چلے جاتے ہیں ۔ ہمارے معصوم بچے ایسے سوال کرنے لگے ہیں جن کے جواب تو ہم کبھی دیواروں کی اوٹ میں بھی نہیں دے سکتے ۔ اب میڈیا وہ سوال اونچی آواز میں کرتا ہے اور بچے نقال ہوتے ہیں ۔ بلا سو چے سمجھے سوال کرتے ہیں کرتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ عجب سا اک ماحول ہے جو ہمارے آس پاس بن چکا ہے جہاں ہماری عورتیں بھی تہذیب کے دائروں سے اخراج کو ہی آزادی سمجھنے لگی ہیں ، سیاست سے لے کر ثقافت تک سب کچھ اسی لپٹ میں ہے اور اس کا کوئی سدباب نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ سب کرنے والے اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں ۔ ہم نے جانے کیا سوچ کر اپنی ثقافت ، اپنی حدودمیں یہ تبدیلی پید ا کی ہے ۔ جانے کب ہم نے اس سب کی حامی بھری ۔ جانے یہ ''ہاں ''ہم سے کس نے کروائی یا پھر یہ سب ہم پر مسلط کرڈالا گیا تا کہ اپنے ہی دائروں کو ہم خود ہی اپنی ہی ٹھوکروں سے اڑا دیں ۔ بھول جائیں کہ آزادی کی خوبصورتی بھی حد وں میں ہی ہوتی ہے ۔ جو فوج دریا کے کناروں سے آزاد ہو کر ساحل پر جا گرے وہ مٹی میں رُل کر کیچڑ بن جایا کرتی ہے ۔ کتنی ہی باتیں ہم بھول رہے ہیں اور میڈیا اپنی اس آزادی کی خواہش میں اتنا بے باک ہو چکا کہ اسے یہ بھی بھول گیا ہے کہ ٹی وی کے سامنے بیٹھے لوگوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں ۔ اور کچھ نہیں تو ان لوگوں کے حقوق کا ہی پاس رکھنا چاہیے ۔ یہ کہیں خبریں ہیں جو مسلسل دکھائی جاتی ہیں ۔ کیا کوئی ضا بطہ اخلاق بھی کبھی سچ بولنے سے روکتا ہے ۔ ضابطہ اخلاق صرف لفظوں کو پیراہن پہنا دیتا ہے ۔ننگ دھڑنگ وحشی لفظوں اور مناظرے سے ہی صرف سچ نہیں دکھا یا جاتا ۔ تہذیب کے پیرائے میں بھی حق سچ بات کہی جا سکتی ہے ۔ اب یہ بچپنا بہت ہوگیا اب سدھر جانے کی ضرورت ہے ۔

متعلقہ خبریں