سیل فون کی اجارہ داری

سیل فون کی اجارہ داری

سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشرتی طور طریقے اور آداب بھی تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ دور نہ جائیے صرف اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چھوٹے سے جادو کے ڈبے کو ہی دیکھ لیجیے جسے عرف عام میں موبائل فون کہا جاتا ہے۔ یہ ہماری زندگی کا اٹوٹ انگ ہو کر رہ گیا ہے۔ اب زندگی کا بہت سا کاروبار سیل فون نے سنبھال رکھا ہے۔ گھر سے باہر ہیں تو ایک سریلے ساز کے ساتھ انتہائی بدمزہ پیغام موصول ہوگا کہ آپ کہاں ہیں جلدی سے گھر آجائیے مہمان آئے ہوئے ہیں اور ساتھ کچھ لیتے آئیے گا ۔اب اہل دل ساتھ کچھ لیتے آئیے گا کے مفہوم سے اچھی طرح آشنا ہیںدرد دل رکھنے والے احباب جانتے ہیں کہ بیکری میں داخل ہوتے وقت آدمی کتنے باغ و بہا ر موڈ میں ہوتا ہے لیکن جب واپسی ہوتی ہے تو اپنی جیب کی عزیز تر متاع لٹا کر دکھی دل کے ساتھ سر جھکائے باہر آرہا ہوتا ہے ۔ سیل فون سے پہلے آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا معاملہ ہوا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ گھر سے نکلے تو گھر اور گھر کے مکینوں سے رابطہ ختم ہوگیا ۔اب آپ اپنی مرضی سے جہاں جی چاہے تشریف لے جائیے جب دل چاہے گھر واپس آئیے آپ کی غیر موجودگی میں گھر میں کوئی مہمان آئے یااچانک کسی چیز کی ضرورت پڑ جائے تو آپ کی بلا۔ جانے جب واپسی ہوگی تو دیکھا جائے گا اور اگر نیک پروین نے تیوری چڑھا کر آپ کی طویل غیر حاضری کا سبب دریافت کر بھی لیا تو سو بہانے بنا لیے جاتے۔ اب غضب خدا کا جیب میں موجود یہ چھوٹا سا آلہ ہر وقت آپ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کافی ہے رنگ آرہی ہے اگر آپ نہیں اٹھاتے تو دوسری طرف سے یہ سوچا جاتا ہے کہ آپ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے اور سب کو ناراض بھی تو نہیں کیا جاسکتا اور اگر آپ نے فساد خلق کے خوف سے سیل فون بند کر رکھا ہے تو پھر یہ شکوہ سننا پڑتا ہے کہ آپ جان بوجھ کر سیل بند رکھتے ہیں۔ ہمیں سب سے زیادہ وہ پیغامات زچ کرتے ہیںجن میں یہ فرمائش کی گئی ہوتی ہے کہ اسے آگے ضرور بھجوانا ہے۔ جہاں تک محبت بھرے پیغامات کا تعلق ہے تو انہیں پڑھ کر دل میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ خلوص دل سے کہا جارہا ہے یا اب اچھے اچھے محبت بھرے پیغامات بھجوانا اور وصول کرنا ایک رسمی سا تقاضا ہے !اگر آپ کسی بے تکلف دوست سے کہہ دیں کہ آپ کا پیار بھرا پیغام تو ہمیں صبح پڑھنے کو ملتا ہے لیکن یا ر یہ کتنا اچھا ہو کہ کبھی سچ مچ کی محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے لیے صبح سویرے گرما گرم حلوہ پوری کا ناشتہ ہی بھجوادو تو پھر دوسری طرف سے ایک طویل خاموشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا لیکن بعض اہل نظر نے اس کا حل بھی ڈھونڈ رکھا ہے بعض پیغامات اس قسم کے آتے ہیں جن میں باقاعدہ یہ تحریر ہوتا ہے کہ صبح سویرے آپ کو محبت بھرے ایس ایم ایس کرنا صرف ایک رسم نہیں ہے بلکہ اس میں ہماری محبت اور خلوص دونوں شامل ہیں ۔ ہم یہ پڑھ کر سوچتے ہیں کہ جنا ب اگر آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے ! یہ بھی ذہن میں رہے کہ پیغامات کا یہ سارا سلسلہ ریڈی میڈ ہے ۔آپ کو ہر طرح کے ایس ایم ایس موصول ہوتے ہیں اور بس آپ کا کام انہیں صرف آگے فارورڈ کردینا ہوتا ہے اس میں اتنا خیال ضرور رکھا جاتا ہے کہ کون سا پیغام کس کو بھجوانا ہے اور اگر کبھی اندازے کی غلطی ہوجائے تو اچھی خاصی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ایس ایم ایس ایسے بھی ہوتے ہیں جو یوم حشر میں اچھے خاصے مسائل کا سبب بن سکتے ہیںاس لیے اس حوالے سے احتیاط کی جائے تو مناسب ہے!سیل فون کمپنیوں کا کردار اس حوالے سے بہت نمایاں ہے پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے والوں نے یہ کبھی بھی نہیں سوچا کہ اتنے ڈھیر سارے رنگا رنگ پیغامات کہاں تخلیق کیے جاتے ہیں۔ شب برات پر معافی ناموں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اسی طرح عیدپر عید مبارک کے پیغامات وصول کرتے جائیے دوست رشتہ دار عید مبارک کا ایس ایم ایس کرنے کے بعد مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اب عید ملنے کی زحمت کون گوارا کرے پہلے تو عید پر دوستوں رشتہ داروں سے ملنا بہت ضروری ہوتا تھا کہ اتنے بڑے خوشی کے اسلامی تہوار پر بھی اگر نہ ملا جائے تو ایسی عید کا کیا فائدہ ! اب تو کتنی ہی ایسی عیدیں گزر جاتی ہیں جب بھائی کی بھائی سے ملاقات ہی نہیں ہوتی! یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب بہت سے کام صرف اور صرف سیل فون کے حوالے سے ہی کیے جارہے ہیں بہت سے چاہنے والوں سے اب ملاقات اس لیے نہیں کی جاتی کہ سیل فون پر پیغام دے دیا ہے۔ اب اتنے مصروف شیڈول میں سے وقت کون نکالے اس سارے مسئلے کا ایک پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آج کی اس تیز ترین دنیا میں کسی کے پاس وقت نہیں ہے کسی کو سر کھجانے کی فرصت نہیں ہے ان حالات میں اگر کوئی آپ کو ایک آدھ ایس ایم ایس ہی بھجوادیتا ہے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ بہر حال ہمیں ان دوستوں سے شکایات ضرور ہے جو گاڑی چلاتے ہوئے، کھانا کھاتے ہوئے، کسی محفل میں سب کے سامنے بیٹھ کر سیل فون پر پیغامات بھیجنے اور پڑھنے کا سلسلہ بند نہیں کرتے ۔بس یوں کہیے کہ یہ نئے زمانے کی تبدیلیاں ہیں اور یہ ناگزیر ہوتی ہیں آپ ہزار کوشش کے باوجود ان سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکتے۔ 

اداریہ