Daily Mashriq


پاکستانی معاشرہ اور خواتین

پاکستانی معاشرہ اور خواتین

اس دنیا میں انسان کی حیثیت سے مرد اور عورت کی آمد انسانیت کے لحاظ سے ایک جیسی اور ایک جیسے بشری حقوق کے ساتھ ہوئی ہے۔ لیکن معاشرے میں اپنے اپنے کام' کردار اور فرائض وغیرہ کے حوالے سے جسمانی ساخت و صلاحیت کے لحاظ سے دونوں میں بنیادی فرق و اختلاف ان کے لئے حسن کا باعث ہے۔انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات میں مرد اور عورت میں انسانی اور اس کے حقوق و ضروریات اور دینی اعمال و فرائض کے حوالے سے دونوں کو یکساں و مساوی مقام حاصل ہے۔ جہاں کہیں اس بات کی ضرورت تھی کہ مرد اور عورت کی ساخت اور میدان کار کے حوالے سے وضاحت اور تعین کی ضرورت تھی وہاں پر قرآن و حدیث میں اس فرق کو انسان (مرد اور عورت) پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت و شفقت کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے ورنہ احترام انسانیت اور دونوں کے لئے اکرام و فضیلت کا ذکر ہر مقام پر یکجا ہی آیا ہے اور ایسے مقامات پر عموماً بنی آدم اور انسان و بشر کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیاہے۔ یہاں ہر قسم کی تمیز و فرق کے بغیر ہر انسان کو بحیثیت انسان خوبصورت قرار دیا گیا کیونکہ انسان ہی خالق کائنات کی تخلیق کا شاہکار ہے۔ اسی انسانیت کے ناتے ہر انسان کو ایک بنیادی عزت و احترام اور اکرام و شرف سے نوازا گیا ہے۔ ارشاد بار تعالیٰ ہے۔ و لقد کرمنا بنی آدم۔ ہم نے بنی آدم( انسان) کو تکریم سے نوازا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک سارے انبیاء نے بنی نوع انسان کے ساتھ ان ہی تعلیمات کے مطابق سلوک و معاملات رکھے اور برتے ہیں۔ لیکن جب کبھی دنیا میں کہیں بھی نبوی تعلیمات سے رو گردانی کی گئی ہے یا انبیاء کی تعلیمات دست برد زمانہ کے سبب مدھم پڑ گئی ہیں یا حضرت انسان نے اپنے دنیوی مفادات کے لئے انبیاء کی تعلیمات تحریف کی ہے تو اس کے نا پسندیدہ اثرات معاشروں کے کمزور طبقات بالخصوص خواتین پر پڑے ہیں۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں جو مشہور معاشرے موجود تھے ان میں غلامی کو قانونی شکل دی گئی تھی اور خواتین کو فروختنی اشیاء کی ذیل میں شامل کیا گیا تھا۔ مختلف ملکوں اور قبائل کے درمیان جنگ و جدل کے سب سے برے اثرات خواتین پر پڑتے تھے۔خود برصغیر پاک و ہند میں قیام پاکستان کے وہ زخم اب بھی اہل پنجاب اور بعض دیگر علاقوں کے باسیوں کے دلوں میں تازہ ہیں جب ہزاروں بہنیں بیٹیاں مشرقی پنجاب میں سکھوں کے قبضے میں آئی تھیں۔

اس بات میں کوئی دوسری رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ عورت ذات کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماں' بہن' بیوی' بیٹی کے روپ میں بڑا مقام دیا ہے لیکن ان کو یہ مقام دلانے کے لئے معاشرے میں نبوی تعلیمات کا نفاذ از بس ضروری ہے۔ اس کے بغیر نہ یہ مسئلہ حل ہوا ہے اور نہ اس مسئلے نے حل ہونا ہے۔ علامہ اقبال نے اس حقیقت کو جانتے ہوئے فرمایا تھا۔

ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا

مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں

اس میں بھی شک نہیں کہ اسلام خواتین کو تعلیم' روز گار اور معاشی حقوق کی سخت تاکید کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ خواتین کے لئے ایسا ساز گار ماحول بھی دینے پر زور دیتا ہے جس میں کوئی بھی خاتون بغیر کسی خوف و خطر کے اپنے فرائض منصبی ادا کرسکے۔ان سطور کے ذریعے یہ عرض پہلے بھی کیا جا چکا ہے کہ پاکستان میں تعلیم نسواں پر جو توجہ دی جارہی ہے یہ ہمارے معاشرے کی ترقی کے رجحان کا پتہ دیتی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں خواتین اور بچیوں نے ساتھ ''کبھی بہ حیلہ وطن' کبھی بہ نام مذہب'' جو زیادتیاں ہو رہی ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج سے کوئی دس بارہ برس قبل سندھ میں ایک خاتون ڈی ایس پی کے ساتھ اس کے محکمہ کے افسروں نے جو سلوک کیا تھا اس کے سبب اس نے نوکری چھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ میں پولیس میں افسر ہو کر جب اپنی حفاظت نہ کرسکی تو اور کوئی خاتون گھر سے نکل کر یا کسی دفتر میں کام کرتے ہوئے کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔معاشروں کی ترقی اور وقار کا اندازہ وہاں خواتین کے ساتھ مردوں کے سلوک و رویے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم سب گھر سے نکلنے کے بعد راہ چلتی خاتون سے لے کر دفتر اور اسمبلیوں میں اور ہمارے گھروں اور بازاروں میں کام کاج کرنے والی خواتین تک کو اپنی ماں 'بہن 'بیٹی کی نظر سے دیکھیں تو کہا جائے گا کہ یہ پڑھے لکھوں' شریف اور با وقار لوگوں کا معاشرہ ہے۔ اور اگر یہ نہ ہو اور پی ٹی وی اور سندھ اسمبلی میں خواتین کے ساتھ اختیار کردہ رویے سے دنیا والے یہی سمجھیں گے کہ بر صغیر پاک و ہند میں عورت کو اب بھی اسی طرح ڈیل کیاجاتا ہے جس طرح زمانہ جاہلیت میں اس کوایک ''سیلنگ کموڈٹی'' سمجھا جاتا تھا۔ لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ نفاذ قانون کے ذریعے خواتین کی عزت و وقار کی حفاظت کرے کہ اس کے بغیر اونچی عمارتیں بھی ہائی ویز' کارخانے اور بازار اور چند ایک مخصوص باتیں اور پارلیمان اور جمہوریتیں نمائشی ترقی تو ہوسکتی ہے حقیقی نہیں۔

شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خاک اس کی

کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در سکون

متعلقہ خبریں