مشرقیات

مشرقیات

خلافت کے پہلے دن حضرت عمر بن عبدالعزیز قیلولے کے لئے آرام فرما رہے تھے کہ اتنے میں ان کا صالح بیٹا عبدالملک بن حضرت عمر بن عبدالعزیز حاضر ہوا اور عرض کی: ابو جان! آپ سو رہے ہیں جبکہ امت محمدیہ کے امور کی نگرانی آپ کے ناتواں کندھوں پر آپڑی ہے اور رعایا میں فقرا مساکین' بھوکے اور بیوائیں ہیں۔ یہ سب کے سب قیامت کے دن آپ کا گریبان پکڑیں گے۔
اپنے نیک صاحبزادے کی یہ بات سن کر خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رو پڑے اور اٹھ کر بیٹھ گئے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے باوجود حضرت عمر بن عبدالعزیز فقر و فاقہ کی زندگی گزارتے تھے۔
آپ جو کی روٹی روغن زیتون سے تناول فرماتے۔ بسا اوقتا منقی( خشک انگور) کی ایک مٹھی ہی سے ناشتہ فرما لیا کرتے تھے اور بچوں سے کہا کرتے تھے:''یہ آتش جہنم سے بہتر ہے''
اب اس کا کھانا میرے لئے جائز ہوا۔
خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز سرکاری اموال کے حوالے سے انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں ملک اردن سے دو ٹوکری پکی ہوئی تازہ کھجور آئی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ رطب (تازہ کھجور) ہے جو اردن کے گورنر نے آپ کے لئے بھیجی ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز: یہ کس چیز پر رکھ کر لائی گئی بتایا گیا: ڈاک کے لئے استعمال کی جانے والی سواریوں حضرت عمر بن عبدالعزیز: ڈاک کی سواریوں کو استعمال کرنے میں دیگر مسلمانوں سے زیادہ حقدار نہیں۔
تم کھجور کی ان دونوں ٹوکریوں کو لے جا کر بیچ ڈالو اور ان کی قیمت ڈاک کے لئے استعمال کئے جانے والے جانوروں کے چارے پر خرچ اس وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کا بھتیجا حاضر تھا' اس نے نزدیک کھڑے ایک آدمی کو کن اکھی سے اشارہ کیا اور اس سے کہا: جائو' جب ان دونوں ٹوکریوں کی قیمت لگ جائے تو انہیں خرید لو اور میرے پاس لائو۔
جب دونوں ٹوکریاں بازار بیچنے کے لئے لے جائی گئیں تو ان کی قیمت 14درہم متعین ہوئی۔ اس آدمی نے 14درہم میں کھجور کی یہ دونوں ٹوکریاں خرید لیں اور انہیں حضرت عمر عبدالعزیز کے بھتیجے کی خدمت میں حاضر کیا۔بھتیجے نے کہا:
ایک ٹوکری امیر المومنین کی خدمت میں لے جائو اور ایک میرے لئے رکھ چنانچہ اس آدمی نے کھجور کی ایک ٹوکری حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں پیش حضرت عمر بن عبدالعزیز نے پوچھا: یہ کیا ہے؟
جواب دیا: کھجور کی دونوں ٹوکریاں آپ کے بھتیجے نے خرید لیں' پھر ایک ٹوکری آپ کی خدمت میں بھیجی ار دوسری اپنے لئے رکھ لی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا:
''اب میرے لئے اس کا کھانا جائز ہوا۔''

اداریہ